جب ریتیلے ہوں جاتے ہیں پہاڑ ٹیلے ہوں جاتے ہیں گرفت جاتے ہیں جو شیشے حقیقت نوکیلے ہوں جاتے ہیں باغ دھوئیں ہے وہ ہے وہ رہتا ہے تو پھل زہریلے ہوں جاتے ہیں ناداری ہے وہ ہے وہ آغوشوں کے بندھن ڈھیلے ہوں جاتے ہیں پھولوں کو سرخی دینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پتے پیلے ہوں جاتے ہیں
Related Ghazal
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
173 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
More from Fahmi Badayuni
صحراؤں نے مانگا پانی دریاؤں پر برسا پانی امنگوں کمزور نہیں تھیں دیواروں سے آیا پانی آخر ک سے ک سے نیم کی جڑ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کب تک ڈالیں میٹھا پانی چھت کا حال بتا دیتا ہے پرنالے سے گرتا پانی فکر و مسائل یاد جاناں گرم ہوائیں ٹھنڈا پانی پیاسے بچے کھیل رہے ہیں مچھلی مچھلی کتنا پانی
Fahmi Badayuni
11 likes
چلتی سانسوں کو جام کرنے لگا حقیقت نظر سے چھوؤں گا کرنے لگا رات فرہاد خواب ہے وہ ہے وہ آیا اور فرشی سلام بخیر کرنے لگا پھروں ہے وہ ہے وہ زہریلے کار خانوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندہ رہنے کا کام کرنے لگا صاف انکار کر نہیں پایا حقیقت میرا احترام کرنے لگا لیلیٰ گھر ہے وہ ہے وہ سلائی کرنے لگی قی سے دہلی ہے وہ ہے وہ کام کرنے لگا ہجر کے مال سے دل ناداں وصل کا انتظام کرنے لگا
Fahmi Badayuni
16 likes
نمک کی روز مالش کر رہے ہیں ہمارے زخم ورزش کر رہے ہیں سنو لوگوں کو یہ شک ہوں گیا تو ہے کہ ہم جینے کی سازش کر رہے ہیں ہماری پیاس کو رانی بنا لیں کئی دریا یہ کوشش کر رہے ہیں مری صحرا سے جو بادل اٹھے تھے کسی دریا پہ بارش کر رہے ہیں یہ سب پانی کی خالی بوتلیں ہیں جنہیں ہم نذر آتش کر رہے ہیں ابھی چمکے نہیں تاکتے کے جوتے ابھی چار چھے پالش کر رہے ہیں تری تصویر پنکھا میز مفلر مری کمرے ہے وہ ہے وہ گردش کر رہے ہیں
Fahmi Badayuni
6 likes
نہیں ہوں جاناں تو ایسا لگ رہا ہے کہ چنو شہر ہے وہ ہے وہ کرف یوں لگا ہے مری سائے ہے وہ ہے وہ ا سے کا نقش پا ہے بڑا احسان مجھ پر دھوپ کا ہے کوئی برباد ہوں کر جا چکا ہے کوئی برباد ہونا چاہتا ہے لہو آنکھوں ہے وہ ہے وہ آ کر چھپ گیا تو ہے لگ جانے شہر دل ہے وہ ہے وہ کیا ہوا ہے کٹی ہے عمر ب سے یہ اڑانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری بارے ہے وہ ہے وہ حقیقت کیا سوچتا ہے برائے نام ہیں ان سے مراسم برائے نام جینا پڑ رہا ہے ستارے تم تم جگمگاتے جا رہے ہیں خدا اپنا قصیدہ لکھ رہا ہے گلوں کی باتیں چھپ کر سن رہا ہوں تمہارا ذکر اچھا لگ رہا ہے
Fahmi Badayuni
9 likes
چارسازوں کے ب سے کی بات نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دواؤں کے ب سے کی بات نہیں چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ دیمکوں سے نجات جو کتابوں کے ب سے کی بات نہیں تیری خوشبو کو قید ہے وہ ہے وہ رکھنا عطر دانوں کے ب سے کی بات نہیں ختم کر دے عذاب قبروں کا تاج محلوں کے ب سے کی بات نہیں آنسوؤں ہے وہ ہے وہ جو جھلملاہٹ ہے حقیقت ستاروں کے ب سے کی بات نہیں ایسا لگتا ہے اب تیرا دیدار صرف آنکھوں کے ب سے کی بات نہیں
Fahmi Badayuni
30 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Fahmi Badayuni.
Similar Moods
More moods that pair well with Fahmi Badayuni's ghazal.







