چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Related Ghazal
اب مری ساتھ نہیں ہے سمجھے نا سمجھانے کی بات نہیں ہے سمجھے نا جاناں مانگوگے اور تمہیں مل جائےگا پیار ہے یہ خیرات نہیں ہے سمجھے نا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بادل ہوں ج سے پر چا ہوں برسوں گا مری کوئی ذات نہیں ہے سمجھے نا اپنا خالی ہاتھ مجھے مت دکھلاؤ ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ میرا ہاتھ نہیں ہے سمجھے نا
Zubair Ali Tabish
66 likes
تمہارا کیا ہے تمہیں صرف گیان دینا ہے ہماری سوچو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ امتحاں دینا ہے گلاب بھی ہیں گلابوں ہے وہ ہے وہ بچھاؤ بھی ہیں بتا نشانی دینی ہے یا پھروں نشان دینا ہے تیرا سوال مری جان کا سوال ہے اور جواب دینے سے آسان جان دینا ہے ان ہوں نے اپنے مطابق سزا غزل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سزا کے مطابق نقص دینا ہے یہ بے زبانوں کی محفل ہے دوست یاد رہے ی ہاں خموشی کا زار زبان دینا ہے
Charagh Sharma
39 likes
جاناں اتنا جو مسکرا رہے ہوں کیا غم ہے ج سے کو چھپا رہے ہوں آنکھوں ہے وہ ہے وہ نمی ہنسی لبوں پر کیا حال ہے کیا دکھا رہے ہوں بن جائیں گے زہر پیتے پیتے یہ خوشی جو پیتے جا رہے ہوں جن زخموں کو سمے بھر چلا ہے جاناں کیوں ا نہیں چھیڑے جا رہے ہوں ریکھاؤں کا کھیل ہے مقدر ریکھاؤں سے مات کھا رہے ہوں
Kaifi Azmi
31 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں
Jaun Elia
315 likes
More from Waseem Barelvi
اپنے سائے کو اتنا سمجھانے دے مجھ تک مری حصے کی دھوپ آنے دے ایک نظر ہے وہ ہے وہ کئی زمانے دیکھے تو بوڑھی آنکھوں کی تصویر بنانے دے بابا دنیا جیت کے ہے وہ ہے وہ دکھلا دوں گا اپنی نظر سے دور تو مجھ کو جانے دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ا سے باغ کا ایک پرندہ ہوں مری ہی آواز ہے وہ ہے وہ مجھ کو گانے دے پھروں تو یہ اونچا ہی ہوتا جائےگا بچپن کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ چاند آ جانے دے فصلیں پک جائیں تو کھیت سے بچھڑیںگی روتی آنکھ کو پیار ک ہاں سمجھانے دے
Waseem Barelvi
7 likes
حقیقت مجھ کو کیا بتانا چاہتا ہے جو دنیا سے چھپانا چاہتا ہے مجھے دیکھو کہ ہے وہ ہے وہ ا سے کو ہی چا ہوں جسے سارا زما لگ چاہتا ہے کرنا ک ہاں ہے ا سے کا منشا حقیقت میرا سر جھکانا چاہتا ہے شکایت کا دھواں آنکھوں سے دل تک تعلق ٹوٹ جانا چاہتا ہے تقاضا سمے کا کچھ بھی ہوں یہ دل وہی قصہ پرانا چاہتا ہے
Waseem Barelvi
6 likes
اندھیرا ذہن کا سمت سفر جب کھونے لگتا ہے کسی کا دھیان آتا ہے اجالا ہونے لگتا ہے حقیقت جتنی دور ہوں اتنا ہی میرا ہونے لگتا ہے م گر جب پا سے آتا ہے تو مجھ سے کھونے لگتا ہے کسی نے رکھ دیے ممتا بھرے دو ہاتھ کیا سر پر مری اندر کوئی بچہ بلک کر رونے لگتا ہے محبت چار دن کی اور اداسی زندگی بھر کی یہی سب دیکھتا ہے اور کبیر رونے لگتا ہے سمجھتے ہی نہیں نادان کے دن کی ہے ملکیت پرائے کھیتوں پہ اپنوں ہے وہ ہے وہ جھگڑا ہونے لگتا ہے یہ دل بچ کر زمانے بھر سے چلنا چاہے ہے لیکن جب اپنی راہ چلتا ہے اکیلا ہونے لگتا ہے
Waseem Barelvi
10 likes
لہو لگ ہوں تو ترجماں نہیں ہوتا ہمارے دور ہے وہ ہے وہ آنسو زبان نہیں ہوتا ج ہاں رہے گا وہیں روشنی لٹائے گا کسی چراغ کا اپنا مکان نہیں ہوتا یہ ک سے مقام پہ لائی ہے مری تنہائی کہ مجھ سے آج کوئی بد گماں نہیں ہوتا ب سے اک نگاہ مری راہ دیکھتی ہوتی یہ سارا شہر میرا میزبان نہیں ہوتا ترا خیال لگ ہوتا تو کون سمجھاتا ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ ہوں تو کوئی آ سماں نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کو بھول گیا تو ہوں یہ کون مانے گا کسی چراغ کے ب سے ہے وہ ہے وہ دھواں نہیں ہوتا مسئلہ صدیوں کی آنکھوں سے دیکھیے مجھ کو حقیقت لفظ ہوں جو کبھی داستان نہیں ہوتا
Waseem Barelvi
2 likes
مجھے تو اللہ ری ہی ہونا بے حد ستاتا ہے اسی لیے تو سمندر پہ رحم آتا ہے حقیقت ا سے طرح بھی مری اہمیت گھٹاتا ہے کہ مجھ سے ملنے ہے وہ ہے وہ شرطیں بے حد لگاتا ہے بچھڑتے سمے کسی آنکھ ہے وہ ہے وہ جو آتا ہے تمام عمر حقیقت آنسو بے حد رلاتا ہے ک ہاں پہنچ گئی دنیا اسے پتا ہی نہیں جو اب بھی ماضی کے قصے سنائے جاتا ہے اٹھائے جائیں ج ہاں ہاتھ ایسے جلسے ہے وہ ہے وہ ہے وہ وہی برا جو کوئی مسئلہ اٹھاتا ہے لگ کوئی عہدہ لگ ڈگری لگ نام کی تختی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہ رہا ہوں ی ہاں میرا گھر بتاتا ہے سمجھ رہا ہوں کہی خود کو مری کمزوری تو ا سے سے کہ دو مجھے بھول لگ بھی آتا ہے
Waseem Barelvi
4 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Waseem Barelvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Waseem Barelvi's ghazal.







