ghazalKuch Alfaaz

ج سے طرح سمے گزرنے کے لیے ہوتا ہے آدمی شکل پہ مرنے کے لیے ہوتا ہے تیری آنکھوں سے ملاقات ہوئی تب یہ کھلا ڈوبنے والا ابھرنے کے لیے ہوتا ہے عشق کیوں پیچھے ہٹا بات نبھانے سے میاں حسن تو خیر مکرنے کے لیے ہوتا ہے آنکھ ہوتی ہے کسی راہ کو تکنے کے لیے دل کسی پاؤں پہ دھرنے کے لیے ہوتا ہے دل کی دہلی کا چناؤ ہی ا پیش ہے صاحب جب بھی ہوتا ہے یہ ہَرنے کے لیے ہوتا ہے کوئی بستی ہوں اجڑنے کے لیے بستی ہے کوئی مجمع ہوں گزرا کے لیے ہوتا ہے

Ali Zaryoun61 Likes

Related Ghazal

غزل تو سب کو میٹھی لگ رہی تھی م گر نہاتک کو مرچی لگ رہی تھی تمہارے لب نہیں چومے تھے جب تک مجھے ہر چیز کڑوی لگ رہی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دن چھوڑنے والا تھا اس کا کو حقیقت ا سے دن سب سے پیاری لگ رہی تھی

Zubair Ali Tabish

80 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

اک پل ہے وہ ہے وہ اک ص گرا کا مزہ ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ ا نہیں مدتوں ہے وہ ہے وہ ہم قسطوں ہے وہ ہے وہ خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے آغاز کرنے والے کا مزہ آپ جانیے انجام کرنے والے کا مزہ ہم سے پوچھیے جلتے دیوں ہے وہ ہے وہ جلتے گھروں جیسی ذو ک ہاں سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے حقیقت جان ہی گئے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسیے م گر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمار توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے

Khumar Barabankvi

95 likes

ہم نے کب چاہا کہ حقیقت بے وجہ ہمارا ہوں جائے اتنا دکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارا ہوں جائے ہم جسے پا سے بٹھا لیں حقیقت بچھڑ جاتا ہے جاناں جسے ہاتھ لگا دو حقیقت تمہارا ہوں جائے جاناں کو لگتا ہے کہ جاناں جیت گئے ہوں مجھ سے ہے یہی بات تو پھروں کھیل دوبارہ ہوں جائے ہے محبت بھی غضب طرز تجارت کہ ی ہاں ہر دکاں دار یہ چاہے کہ خسارہ ہوں جائے

Yasir Khan

92 likes

More from Ali Zaryoun

ادا عشق ہوں پوری انا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود اپنے ساتھ ہوں زبان خدا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجاوران ہوں سے تنگ ہیں کہ یوں کیسے بغیر شرم و حیا بھی حیا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سفر شروع تو ہونے دے اپنے ساتھ میرا تو خود کہےگا یہ کیسی بلا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھو گیا تو تو ترا رنگ کاٹ ڈالوں گا سو اپنے آپ سے تجھ کو بچا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ درود بر دل وحشی سلام بر تب عشق خود اپنی حمد خود اپنی ثنا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہی تو فرق ہے مری اور ان کے حل کے بیچ شکایتیں ہیں ا نہیں اور رضا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اولین کی عزت ہے وہ ہے وہ آخریں کا نور حقیقت انتہا ہوں کہ ہر ابتدا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دکھائی دوں بھی تو کیسے سنائی دوں بھی تو کیوں ورا نقش و نوا ہوں فنا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بحکم یار لویں قبض کرنے آتی ہے بجھا رہی ہے بجھائے ہوا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ صابریں محبت یہ کاشفین جنوں انہی کے سن

Ali Zaryoun

5 likes

چراغاہیں نئی آباد ہوں گی م گر جو بستیاں برباد ہوں گی خدا مٹی کو پھروں سے حکم دےگا کئی شکلیں نئی ایجاد ہوں گی ابھی ممکن نہیں لیکن یہ ہوگا کتابیں فالتو ہوں گی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان آنکھوں کو پڑھکر سوچتا ہوں یہ نظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے طرح سے یاد ہوں گی یہ پریاں پھروں نہیں آوےگی عشق دل ملنے یہ غزلیں پھروں نہیں ارشاد ہوں گی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ڈرتا ہوں علی ان عادتوں سے کے جو مجھ کو تمہارے بعد ہوں گی

Ali Zaryoun

21 likes

چپ چاپ کیوں گلزار جناں ہوں کوئی بات تو کروں حل بھی نکالتے ہیں ملاقات تو کروں خالی ہوا ہے وہ ہے وہ اڑنا فقیری نہیں میاں دل جوڑ کے دکھاؤ کرامات تو کروں کھیتوں کو کھا گئی ہے یہ شہریلی بستیاں صاحب علاج رنج مضافات تو کروں

Ali Zaryoun

15 likes

سکوت شام کا حصہ تو مت بنا مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ رنگ ہوں سو کسی موج ہے وہ ہے وہ ملا مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان دنوں تری آنکھوں کے اختیار ہے وہ ہے وہ ہوں جمال سبز کسی تجربے ہے وہ ہے وہ لا مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ بوڑھے جسم کی ذلت اٹھا نہیں سکتا کسی اچھی اچھی تجلی سے کر نیا مجھ کو ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے ہونے کی تکمیل چاہتا ہوں سخی سو اب بدن کی دیکھوں سے کر رہا مجھ کو مجھے چراغ کی حیرت بھی ہوں چکی معلوم اب ا سے سے آگے کوئی راستہ بتا مجھ کو ا سے اسم خاص کی ترکیب سے بنا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبتوں کے مقالے سے کر نیا مجھ کو درون سی لگ جسے دل سمجھ رہا تھا علی حقیقت نیلی آگ ہے یہ اب پتا چلا مجھ کو

Ali Zaryoun

9 likes

لہجے ہے وہ ہے وہ خنک بات ہے وہ ہے وہ دم ہے تو کرم ہے گردن در حیدر پہ جو خم ہے تو کرم ہے مت سوچ کہ ا سے گھر پہ کرم ہے تو الم ہے در اصل تری گھر پہ الم ہے تو کرم ہے بستر پہ کمر تراش ٹھیک نہیں لگتی تو خوش ہوں خوراک بھی اے یار جو کم ہے تو کرم ہے بے نسبت و بے عشق ک ہاں ملتی ہے عزت مجھ پہ مری مولا کا کرم ہے تو کرم ہے منکر کی جلن ہی ہے وہ ہے وہ تو مومن کا مزہ ہے گر طع لگ و تشنی و ستم ہے تو کرم ہے اب جب کے کوئی حال بھی کیوں پوچھے کسی کا اک آنکھ مری واسطے نمہ ہے تو کرم ہے اب جب کے کوئی آنکھ نہیں رکتی کسی پر جو کوئی ج ہاں جس کا صنم ہے تو کرم ہے مدحت کا مزہ بھی ہوں تغزل کی ادا بھی کچھ ایسا سخن تجھ کو بہم ہے تو کرم ہے اندھیرا سے غزل سازوں کے ہوتے ہوئے ذریعون تھوڑا سا ا گر تیرا بھرم ہے تو کرم ہے

Ali Zaryoun

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ali Zaryoun.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ali Zaryoun's ghazal.