ہم نے کب چاہا کہ حقیقت بے وجہ ہمارا ہوں جائے اتنا دکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارا ہوں جائے ہم جسے پا سے بٹھا لیں حقیقت بچھڑ جاتا ہے جاناں جسے ہاتھ لگا دو حقیقت تمہارا ہوں جائے جاناں کو لگتا ہے کہ جاناں جیت گئے ہوں مجھ سے ہے یہی بات تو پھروں کھیل دوبارہ ہوں جائے ہے محبت بھی غضب طرز تجارت کہ ی ہاں ہر دکاں دار یہ چاہے کہ خسارہ ہوں جائے
Related Ghazal
جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں
Tehzeeb Hafi
268 likes
ی ہاں جاناں دیکھنا رتبہ ہمارا ہماری ریت ہے دریا ہمارا کسی سے کل پتا جی کہ رہے تھے محبت کھا گئی لڑکا ہمارا تعلق ختم کرنے جا رہی ہے کہی گروہ لگ دے بچہ ہمارا
Kushal Dauneria
67 likes
سینا کچا رہا ہوں تو کیا چپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر لگ گلہ سروہا لے کوئی ثابت ہوا سکون دل و جاں کہی نہیں رشتوں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ترک تعلقات کوئی مسئلہ نہیں یہ تو حقیقت راستہ ہے کہ ب سے چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے ہے وہ ہے وہ حقیقت دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت لگ دے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب مری خلاف زہر اگلتا پھیرے کوئی اے بے وجہ اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے ہے وہ ہے وہ اپنی انا کا مریض ہوں آخر مری مزاج ہے وہ ہے وہ کیوں دخل دے کوئی اک بے وجہ کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش ا سے زبان دراز کا منا نوچ لے کوئی
Jaun Elia
77 likes
اب مری ساتھ نہیں ہے سمجھے نا سمجھانے کی بات نہیں ہے سمجھے نا جاناں مانگوگے اور تمہیں مل جائےگا پیار ہے یہ خیرات نہیں ہے سمجھے نا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بادل ہوں ج سے پر چا ہوں برسوں گا مری کوئی ذات نہیں ہے سمجھے نا اپنا خالی ہاتھ مجھے مت دکھلاؤ ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ میرا ہاتھ نہیں ہے سمجھے نا
Zubair Ali Tabish
66 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
More from Yasir Khan
عشق سے جام سے برسات سے ڈر لگتا ہے یار جاناں کیا ہوں کہ ہر بات سے ڈر لگتا ہے عشق ہے عشق کوئی کھیل نہیں بچوں کا حقیقت چلا جائے جسے مات سے ڈر لگتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری حسن کا شیدائی نہیں ہوں سکتا روز بنتی ہوئی خیرات سے ڈر لگتا ہے ہم نے حالات بدلنے کی دعا مانگی تھی اب بدلتے ہوئے حالات سے ڈر لگتا ہے دل تو کرتا ہے کہ بارش ہے وہ ہے وہ نہائیں یاسر گھر جو تکبر ہوں تو برسات سے ڈر لگتا ہے
Yasir Khan
15 likes
تمہارے کام اگر آئی مسکرانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو کوئی حرج نہیں میرے ٹوٹ جانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ فروخت ہوں گئی ہر اجازت جو دل مکان ہے وہ ہے وہ تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ اتنا خرچ ہوا ہوں اسے کمانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی جان سے جاؤں گا ہے یہ سچ لیکن اسے بھی زخم تو آئیں گے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت ایک لفظ محبت نہ بن سکا مجھ سے ہزار بار مٹا ہوں جسے بنانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہیں تو صرف خبر ہے چراغ جلنے کی ہمارے ہاتھ جلے ہیں اسے جلانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہارے وصل کی مستی تھی اور مے خانہ شراب لے کے گیا تو تھا شراب خانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ عمارتوں ہے وہ ہے وہ محبت کا دیوتا ہے حقیقت ہمارے ہاتھ کٹے ہیں جسے بنانے ہے وہ ہے وہ
Yasir Khan
8 likes
کسی نے حال جو پوچھا کبھی محبت سے لپٹ کے رویا بے حد دیر ا سے سے شدت سے ہمارا ساتھ جو چھوٹا تو ا سے ہے وہ ہے وہ حیرت کیا ہمارے ہاتھ تو چھوٹے ہوئے تھے مدت سے یہ اور بات کہ بینائی جا چکی مری تمہارے خواب رکھے ہیں م گر حفاظت سے جب ا سے نے بھیڑ ہے وہ ہے وہ مجھ کو گلے لگایا تھا ہر ایک آنکھ مجھے تک رہی تھی حیرت سے یہ کاروبار سیاست بے حد ہی اچھا ہے ب سے آپ جھوٹ کو بیچو بڑی اپناپن سے
Yasir Khan
4 likes
مری چیخوں سے کمرہ بھر گیا تو تھا کوئی کل رات مجھ ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تھا بے حد مشکل ہے ا سے کا لوٹ آنا حقیقت پوری بات کب سن کر گیا تو تھا مجھے پہچانتا بھی ہے کوئی اب ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے یہ دیکھنے ہی گھر گیا تو تھا زما لگ ج سے کو دریا کہ رہا ہے ہماری آنکھ سے بہ کر گیا تو تھا کئی صدیوں سے سوکھا پڑ رہا ہے ی ہاں اک بے وجہ پیاسا مر گیا تو تھا ہمارا بوجھ تھا سر پر ہمارے تمہارے ساتھ تو نوکر گیا تو تھا یہ مت سمجھا غلطیاں ک سے سے ہوئی تھی بتا الزام ک سے کے سر گیا تو تھا
Yasir Khan
7 likes
آنکھوں کو کچھ خواب دکھا کر مانیں گے آپ ہمارے ہوش ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کر مانیں گے لگتا ہے یہ پانی بیچنے والے لوگ ہر بستی ہے وہ ہے وہ آگ لگا کر مانیں گے تجھ کو چھونے کی چاہت ہے وہ ہے وہ دیوانے شاید اپنے ہاتھ جلا کر مانیں گے طے تو یہ تھا پچھلی باتیں بھولنی ہیں آپ م گر سب یاد دلا کر مانیں گے گھر کا جھگڑا گر باہر آ جائےگا باہر والے اندر آ کر مانیں گے چاہے پھروں آواز چلی جائے لیکن ہم ا سے کو آواز لگا کر مانیں گے گھر پکا کرنے کی باتیں کرتے ہیں زبان حقیقت دیوار اٹھا کر مانیں گے
Yasir Khan
13 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Yasir Khan.
Similar Moods
More moods that pair well with Yasir Khan's ghazal.







