مری چیخوں سے کمرہ بھر گیا تو تھا کوئی کل رات مجھ ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تھا بے حد مشکل ہے ا سے کا لوٹ آنا حقیقت پوری بات کب سن کر گیا تو تھا مجھے پہچانتا بھی ہے کوئی اب ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے یہ دیکھنے ہی گھر گیا تو تھا زما لگ ج سے کو دریا کہ رہا ہے ہماری آنکھ سے بہ کر گیا تو تھا کئی صدیوں سے سوکھا پڑ رہا ہے ی ہاں اک بے وجہ پیاسا مر گیا تو تھا ہمارا بوجھ تھا سر پر ہمارے تمہارے ساتھ تو نوکر گیا تو تھا یہ مت سمجھا غلطیاں ک سے سے ہوئی تھی بتا الزام ک سے کے سر گیا تو تھا
Related Ghazal
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
حقیقت منہ لگاتا ہے جب کوئی کام ہوتا ہے جو اس کا کا ہوتا ہے سمجھو غلام ہوتا ہے کسی کا ہوں کے دوبارہ نہ آنا میری طرف محبتوں ہے وہ ہے وہ حلالہ حرام ہوتا ہے اسے بھی گنتے ہیں ہم لوگ اہل خانہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہمارے یاں تو شجر کا بھی نام ہوتا ہے تجھ ایسے بے وجہ کے ہوتے ہیں ضرب سے دوست بہت تجھ ایسا بے وجہ بہت جلد آم ہوتا ہے کبھی لگی ہے تمہیں کوئی شام آخری شام ہمارے ساتھ یہ ہر ایک شام ہوتا ہے
Umair Najmi
81 likes
سفر ہے وہ ہے وہ دھوپ تو ہوں گی جو چل سکو تو چلو سبھی ہیں بھیڑ ہے وہ ہے وہ جاناں بھی نکل سکو تو چلو کسی کے واسطے راہیں ک ہاں بدلتی ہیں جاناں اپنے آپ کو خود ہی بدل سکو تو چلو ی ہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا مجھے گرا کے ا گر جاناں سنبھل سکو تو چلو کہی نہیں کوئی سورج دھواں دھواں ہے فضا خود اپنے آپ سے باہر نکل سکو تو چلو یہی ہے زندگی کچھ خواب چند امیدیں انہی کھلونوں سے جاناں بھی بہل سکو تو چلو
Nida Fazli
61 likes
مری لیے تو عشق کا وعدہ ہے شاعری آدھا سرور جاناں ہوں تو آدھا ہے شاعری رودراکش ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے تو سینے ہے وہ ہے وہ اوم ہے اندھیرا ہے میرا دل مری رادھا ہے شاعری اپنا تو میل جول ہی ب سے عاشقوں سے ہے درویش کا ب سے ایک لبادہ ہے شاعری ہوں آشنا کوئی تو مہ لقا ہے اپنا رنگ بے رموزیوں کے واسطے سادہ ہے شاعری جاناں سامنے ہوں اور مری دسترسی ہے وہ ہے وہ ہوں ا سے سمے مری دل کا ارادہ ہے شاعری بھگوان ہوں خدا ہوں محبت ہوں یا بدن ج سے سمت بھی چلو یہی زادہ ہے شاعری ا سے لیے بھی عشق ہی لکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ علی میرا کسی سے آخری وعدہ ہے شاعری
Ali Zaryoun
70 likes
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو ا سے کے شہر ہے وہ ہے وہ کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے ا سے کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز ا سے کی سو ہم بھی ا سے کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے ستارے تم تم بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں ا سے کی غزال سی آنکھیں سنا ہے ا سے کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکليں ا سے کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کی سیاہ چشمگی خوشگوار ہے سو ا سے کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئی لگ تمثال ہے جبیں ا سے
Ahmad Faraz
65 likes
More from Yasir Khan
تمہارے کام اگر آئی مسکرانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو کوئی حرج نہیں میرے ٹوٹ جانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ فروخت ہوں گئی ہر اجازت جو دل مکان ہے وہ ہے وہ تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ اتنا خرچ ہوا ہوں اسے کمانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی جان سے جاؤں گا ہے یہ سچ لیکن اسے بھی زخم تو آئیں گے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت ایک لفظ محبت نہ بن سکا مجھ سے ہزار بار مٹا ہوں جسے بنانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہیں تو صرف خبر ہے چراغ جلنے کی ہمارے ہاتھ جلے ہیں اسے جلانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہارے وصل کی مستی تھی اور مے خانہ شراب لے کے گیا تو تھا شراب خانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ عمارتوں ہے وہ ہے وہ محبت کا دیوتا ہے حقیقت ہمارے ہاتھ کٹے ہیں جسے بنانے ہے وہ ہے وہ
Yasir Khan
8 likes
عشق سے جام سے برسات سے ڈر لگتا ہے یار جاناں کیا ہوں کہ ہر بات سے ڈر لگتا ہے عشق ہے عشق کوئی کھیل نہیں بچوں کا حقیقت چلا جائے جسے مات سے ڈر لگتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری حسن کا شیدائی نہیں ہوں سکتا روز بنتی ہوئی خیرات سے ڈر لگتا ہے ہم نے حالات بدلنے کی دعا مانگی تھی اب بدلتے ہوئے حالات سے ڈر لگتا ہے دل تو کرتا ہے کہ بارش ہے وہ ہے وہ نہائیں یاسر گھر جو تکبر ہوں تو برسات سے ڈر لگتا ہے
Yasir Khan
15 likes
کسی نے حال جو پوچھا کبھی محبت سے لپٹ کے رویا بے حد دیر ا سے سے شدت سے ہمارا ساتھ جو چھوٹا تو ا سے ہے وہ ہے وہ حیرت کیا ہمارے ہاتھ تو چھوٹے ہوئے تھے مدت سے یہ اور بات کہ بینائی جا چکی مری تمہارے خواب رکھے ہیں م گر حفاظت سے جب ا سے نے بھیڑ ہے وہ ہے وہ مجھ کو گلے لگایا تھا ہر ایک آنکھ مجھے تک رہی تھی حیرت سے یہ کاروبار سیاست بے حد ہی اچھا ہے ب سے آپ جھوٹ کو بیچو بڑی اپناپن سے
Yasir Khan
4 likes
جن کو معلوم نہیں ہوگا دعا کا زار حقیقت ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خاک بتائیں گے خدا کا زار حقیقت یہ کہتے ہیں محبت ہے وہ ہے وہ سزا پاؤگے اور ہے وہ ہے وہ خوب سمجھتا ہوں سزا کا زار زبان کانٹوں سے ہے وہ ہے وہ خوشبو کے معانی پوچھوں زبان اب آپ بتائیں گے وفا کا زار
Yasir Khan
21 likes
آنکھوں کو کچھ خواب دکھا کر مانیں گے آپ ہمارے ہوش ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کر مانیں گے لگتا ہے یہ پانی بیچنے والے لوگ ہر بستی ہے وہ ہے وہ آگ لگا کر مانیں گے تجھ کو چھونے کی چاہت ہے وہ ہے وہ دیوانے شاید اپنے ہاتھ جلا کر مانیں گے طے تو یہ تھا پچھلی باتیں بھولنی ہیں آپ م گر سب یاد دلا کر مانیں گے گھر کا جھگڑا گر باہر آ جائےگا باہر والے اندر آ کر مانیں گے چاہے پھروں آواز چلی جائے لیکن ہم ا سے کو آواز لگا کر مانیں گے گھر پکا کرنے کی باتیں کرتے ہیں زبان حقیقت دیوار اٹھا کر مانیں گے
Yasir Khan
13 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Yasir Khan.
Similar Moods
More moods that pair well with Yasir Khan's ghazal.







