ghazalKuch Alfaaz

آنکھوں کو کچھ خواب دکھا کر مانیں گے آپ ہمارے ہوش ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کر مانیں گے لگتا ہے یہ پانی بیچنے والے لوگ ہر بستی ہے وہ ہے وہ آگ لگا کر مانیں گے تجھ کو چھونے کی چاہت ہے وہ ہے وہ دیوانے شاید اپنے ہاتھ جلا کر مانیں گے طے تو یہ تھا پچھلی باتیں بھولنی ہیں آپ م گر سب یاد دلا کر مانیں گے گھر کا جھگڑا گر باہر آ جائےگا باہر والے اندر آ کر مانیں گے چاہے پھروں آواز چلی جائے لیکن ہم ا سے کو آواز لگا کر مانیں گے گھر پکا کرنے کی باتیں کرتے ہیں زبان حقیقت دیوار اٹھا کر مانیں گے

Yasir Khan13 Likes

Related Ghazal

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے

Mehshar Afridi

173 likes

جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں

Jaun Elia

315 likes

More from Yasir Khan

تمہارے کام اگر آئی مسکرانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو کوئی حرج نہیں میرے ٹوٹ جانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ فروخت ہوں گئی ہر اجازت جو دل مکان ہے وہ ہے وہ تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ اتنا خرچ ہوا ہوں اسے کمانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی جان سے جاؤں گا ہے یہ سچ لیکن اسے بھی زخم تو آئیں گے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت ایک لفظ محبت نہ بن سکا مجھ سے ہزار بار مٹا ہوں جسے بنانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہیں تو صرف خبر ہے چراغ جلنے کی ہمارے ہاتھ جلے ہیں اسے جلانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہارے وصل کی مستی تھی اور مے خانہ شراب لے کے گیا تو تھا شراب خانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ عمارتوں ہے وہ ہے وہ محبت کا دیوتا ہے حقیقت ہمارے ہاتھ کٹے ہیں جسے بنانے ہے وہ ہے وہ

Yasir Khan

8 likes

عشق سے جام سے برسات سے ڈر لگتا ہے یار جاناں کیا ہوں کہ ہر بات سے ڈر لگتا ہے عشق ہے عشق کوئی کھیل نہیں بچوں کا حقیقت چلا جائے جسے مات سے ڈر لگتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری حسن کا شیدائی نہیں ہوں سکتا روز بنتی ہوئی خیرات سے ڈر لگتا ہے ہم نے حالات بدلنے کی دعا مانگی تھی اب بدلتے ہوئے حالات سے ڈر لگتا ہے دل تو کرتا ہے کہ بارش ہے وہ ہے وہ نہائیں یاسر گھر جو تکبر ہوں تو برسات سے ڈر لگتا ہے

Yasir Khan

15 likes

کسی نے حال جو پوچھا کبھی محبت سے لپٹ کے رویا بے حد دیر ا سے سے شدت سے ہمارا ساتھ جو چھوٹا تو ا سے ہے وہ ہے وہ حیرت کیا ہمارے ہاتھ تو چھوٹے ہوئے تھے مدت سے یہ اور بات کہ بینائی جا چکی مری تمہارے خواب رکھے ہیں م گر حفاظت سے جب ا سے نے بھیڑ ہے وہ ہے وہ مجھ کو گلے لگایا تھا ہر ایک آنکھ مجھے تک رہی تھی حیرت سے یہ کاروبار سیاست بے حد ہی اچھا ہے ب سے آپ جھوٹ کو بیچو بڑی اپناپن سے

Yasir Khan

4 likes

جن کو معلوم نہیں ہوگا دعا کا زار حقیقت ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خاک بتائیں گے خدا کا زار حقیقت یہ کہتے ہیں محبت ہے وہ ہے وہ سزا پاؤگے اور ہے وہ ہے وہ خوب سمجھتا ہوں سزا کا زار زبان کانٹوں سے ہے وہ ہے وہ خوشبو کے معانی پوچھوں زبان اب آپ بتائیں گے وفا کا زار

Yasir Khan

21 likes

ہم نے کب چاہا کہ حقیقت بے وجہ ہمارا ہوں جائے اتنا دکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارا ہوں جائے ہم جسے پا سے بٹھا لیں حقیقت بچھڑ جاتا ہے جاناں جسے ہاتھ لگا دو حقیقت تمہارا ہوں جائے جاناں کو لگتا ہے کہ جاناں جیت گئے ہوں مجھ سے ہے یہی بات تو پھروں کھیل دوبارہ ہوں جائے ہے محبت بھی غضب طرز تجارت کہ ی ہاں ہر دکاں دار یہ چاہے کہ خسارہ ہوں جائے

Yasir Khan

92 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Yasir Khan.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Yasir Khan's ghazal.