ghazalKuch Alfaaz

کسی نے حال جو پوچھا کبھی محبت سے لپٹ کے رویا بے حد دیر ا سے سے شدت سے ہمارا ساتھ جو چھوٹا تو ا سے ہے وہ ہے وہ حیرت کیا ہمارے ہاتھ تو چھوٹے ہوئے تھے مدت سے یہ اور بات کہ بینائی جا چکی مری تمہارے خواب رکھے ہیں م گر حفاظت سے جب ا سے نے بھیڑ ہے وہ ہے وہ مجھ کو گلے لگایا تھا ہر ایک آنکھ مجھے تک رہی تھی حیرت سے یہ کاروبار سیاست بے حد ہی اچھا ہے ب سے آپ جھوٹ کو بیچو بڑی اپناپن سے

Yasir Khan4 Likes

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی

Ali Zaryoun

102 likes

مری لیے تو عشق کا وعدہ ہے شاعری آدھا سرور جاناں ہوں تو آدھا ہے شاعری رودراکش ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے تو سینے ہے وہ ہے وہ اوم ہے اندھیرا ہے میرا دل مری رادھا ہے شاعری اپنا تو میل جول ہی ب سے عاشقوں سے ہے درویش کا ب سے ایک لبادہ ہے شاعری ہوں آشنا کوئی تو مہ لقا ہے اپنا رنگ بے رموزیوں کے واسطے سادہ ہے شاعری جاناں سامنے ہوں اور مری دسترسی ہے وہ ہے وہ ہوں ا سے سمے مری دل کا ارادہ ہے شاعری بھگوان ہوں خدا ہوں محبت ہوں یا بدن ج سے سمت بھی چلو یہی زادہ ہے شاعری ا سے لیے بھی عشق ہی لکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ علی میرا کسی سے آخری وعدہ ہے شاعری

Ali Zaryoun

70 likes

ہم نے کب چاہا کہ حقیقت بے وجہ ہمارا ہوں جائے اتنا دکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارا ہوں جائے ہم جسے پا سے بٹھا لیں حقیقت بچھڑ جاتا ہے جاناں جسے ہاتھ لگا دو حقیقت تمہارا ہوں جائے جاناں کو لگتا ہے کہ جاناں جیت گئے ہوں مجھ سے ہے یہی بات تو پھروں کھیل دوبارہ ہوں جائے ہے محبت بھی غضب طرز تجارت کہ ی ہاں ہر دکاں دار یہ چاہے کہ خسارہ ہوں جائے

Yasir Khan

92 likes

کسی لبا سے کی خوشبو جب اڑ کے آتی ہے تری بدن کی جدائی بے حد ستاتی ہے تری گلاب ترستے ہیں تیری خوشبو کو تیری سفید چمیلی تجھے بلاتی ہے تری بغیر مجھے چین کیسے پڑتا ہیں مری بغیر تجھے نیند کیسے آتی ہے

Jaun Elia

113 likes

More from Yasir Khan

تمہارے کام اگر آئی مسکرانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو کوئی حرج نہیں میرے ٹوٹ جانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ فروخت ہوں گئی ہر اجازت جو دل مکان ہے وہ ہے وہ تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ اتنا خرچ ہوا ہوں اسے کمانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی جان سے جاؤں گا ہے یہ سچ لیکن اسے بھی زخم تو آئیں گے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت ایک لفظ محبت نہ بن سکا مجھ سے ہزار بار مٹا ہوں جسے بنانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہیں تو صرف خبر ہے چراغ جلنے کی ہمارے ہاتھ جلے ہیں اسے جلانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہارے وصل کی مستی تھی اور مے خانہ شراب لے کے گیا تو تھا شراب خانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ عمارتوں ہے وہ ہے وہ محبت کا دیوتا ہے حقیقت ہمارے ہاتھ کٹے ہیں جسے بنانے ہے وہ ہے وہ

Yasir Khan

8 likes

عشق سے جام سے برسات سے ڈر لگتا ہے یار جاناں کیا ہوں کہ ہر بات سے ڈر لگتا ہے عشق ہے عشق کوئی کھیل نہیں بچوں کا حقیقت چلا جائے جسے مات سے ڈر لگتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری حسن کا شیدائی نہیں ہوں سکتا روز بنتی ہوئی خیرات سے ڈر لگتا ہے ہم نے حالات بدلنے کی دعا مانگی تھی اب بدلتے ہوئے حالات سے ڈر لگتا ہے دل تو کرتا ہے کہ بارش ہے وہ ہے وہ نہائیں یاسر گھر جو تکبر ہوں تو برسات سے ڈر لگتا ہے

Yasir Khan

15 likes

ہم نے کب چاہا کہ حقیقت بے وجہ ہمارا ہوں جائے اتنا دکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارا ہوں جائے ہم جسے پا سے بٹھا لیں حقیقت بچھڑ جاتا ہے جاناں جسے ہاتھ لگا دو حقیقت تمہارا ہوں جائے جاناں کو لگتا ہے کہ جاناں جیت گئے ہوں مجھ سے ہے یہی بات تو پھروں کھیل دوبارہ ہوں جائے ہے محبت بھی غضب طرز تجارت کہ ی ہاں ہر دکاں دار یہ چاہے کہ خسارہ ہوں جائے

Yasir Khan

92 likes

مری چیخوں سے کمرہ بھر گیا تو تھا کوئی کل رات مجھ ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تھا بے حد مشکل ہے ا سے کا لوٹ آنا حقیقت پوری بات کب سن کر گیا تو تھا مجھے پہچانتا بھی ہے کوئی اب ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے یہ دیکھنے ہی گھر گیا تو تھا زما لگ ج سے کو دریا کہ رہا ہے ہماری آنکھ سے بہ کر گیا تو تھا کئی صدیوں سے سوکھا پڑ رہا ہے ی ہاں اک بے وجہ پیاسا مر گیا تو تھا ہمارا بوجھ تھا سر پر ہمارے تمہارے ساتھ تو نوکر گیا تو تھا یہ مت سمجھا غلطیاں ک سے سے ہوئی تھی بتا الزام ک سے کے سر گیا تو تھا

Yasir Khan

7 likes

جن کو معلوم نہیں ہوگا دعا کا زار حقیقت ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خاک بتائیں گے خدا کا زار حقیقت یہ کہتے ہیں محبت ہے وہ ہے وہ سزا پاؤگے اور ہے وہ ہے وہ خوب سمجھتا ہوں سزا کا زار زبان کانٹوں سے ہے وہ ہے وہ خوشبو کے معانی پوچھوں زبان اب آپ بتائیں گے وفا کا زار

Yasir Khan

21 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Yasir Khan.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Yasir Khan's ghazal.