ی ہاں جاناں دیکھنا رتبہ ہمارا ہماری ریت ہے دریا ہمارا کسی سے کل پتا جی کہ رہے تھے محبت کھا گئی لڑکا ہمارا تعلق ختم کرنے جا رہی ہے کہی گروہ لگ دے بچہ ہمارا
Related Ghazal
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں
Tehzeeb Hafi
268 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
تھوڑا لکھا اور زیادہ چھوڑ دیا آنے والوں کے لیے رستہ چھوڑ دیا جاناں کیا جانو ا سے دریا پر کیا گزری جاناں نے تو ب سے پانی بھرنا چھوڑ دیا لڑکیاں عشق ہے وہ ہے وہ کتنی پاگل ہوتی ہیں فون بجا اور چولہا جلتا چھوڑ دیا روز اک پتہ مجھ ہے وہ ہے وہ آ گرتا ہے جب سے ہے وہ ہے وہ نے جنگل جانا چھوڑ دیا ب سے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے تھوڑی دیر اور پھروں ا سے آواز نے پیچھا چھوڑ دیے
Tehzeeb Hafi
262 likes
More from Kushal Dauneria
ہے وہ ہے وہ نے تو ب سے مزاق ہے وہ ہے وہ پوچھا خراب ہے حقیقت پیر ہاتھ دیکھ کے بولا خراب ہے ہر دن اسے دکھایا کہ کتنے غنیم ہیں ہر رات ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ سوچا خراب ہے یہ عشق ہوں چکا ہے ترپ چال تاش کی آگے غلام کے میرا اکا خراب ہے آزاد لڑ کیوں سے بھلی قید عورتیں زار کہ جھیل ٹھیک ہے دریا خراب ہے ہم ج سے خدا کی آ سے ہے وہ ہے وہ بیٹھے ہیں رات دن حقیقت جا چکا ہے بول کے دنیا خراب ہے زیادہ کسی کی موت پہ رونا نہیں صحیح اور جنم دن پہ شور شرابا خراب ہے آدھا بھی ا سے کے جتنا ہے وہ ہے وہ روشن نہیں ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دیے کو بول رہا تھا خراب ہے
Kushal Dauneria
35 likes
حسن اک گلستاں کا رہیےگا ہے آنکھ شہتوت بدن ڈالی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کچھ دیر اداسی ہنسکر ماری ہے مار نہیں ڈالی ہے ساز و سنگار سے چمکایا بدن ایک ہی نوٹ حقیقت بھی جالی ہے
Kushal Dauneria
24 likes
سارے کا سارا تو میرا بھی نہیں اور حقیقت بے وجہ بےوفا بھی نہیں غور سے دیکھنے پہ بولی ہے شا گرا سے پہلے سوچنا بھی نہیں اچھی صحت کا ہے میرا محبوب دھوکے دیتے ہوئے تھکا بھی نہیں جتنا برباد کر دیا تو نے اتنا آباد تو ہے وہ ہے وہ تھا بھی نہیں مجھ کو ب سے اتنا دین آتا ہے ج ہاں ہے وہ ہے وہ خود نہیں خدا بھی نہیں
Kushal Dauneria
43 likes
بچی ہے روشنی جو بھی چراغوں سے نکل جائے جو مری دل سے نکلا ہے دعاؤں سے نکل جائے ہم ایسے لوگ جو دشمن کے رونے پر ٹھہر جائیں حقیقت ایسا بے وجہ جو اپنوں کی لاشوں سے نکل جائے پڑھانے کا ا گر زار ہے ہاتھوں سے نکل جانا خدایا پھروں مری بیٹی بھی ہاتھوں سے نکل جائے وہی اک بے وجہ تھا میرا ی ہاں پر جی لگانے کو اسی کو چاہتے تھے سب کہ گاؤں سے نکل جائے ادھر تو چھو رہی ہے جسم میرا ٹھنڈے ہاتھوں سے ادھر حقیقت چاہتی ہے رات باتوں سے نکل جائے نمائش باپ کی دولت کی کر کے سوچتا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ شاید امتحاں عشق پیسوں سے نکل جائے
Kushal Dauneria
25 likes
یہ حقیقت قبیلہ ہے جو حسن کو خدا مانے ی ہاں پہ کون تیری بات کا برا مانے اشارہ کر دیا ہے آپ کی طرف ہے وہ ہے وہ نے یہ بچے پوچھ رہے تھے کہ بےوفا مانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے بدن کی بناوٹ کو ایسے دیکھتا ہوں کہ چنو دیکھ لی ہوں زاہدوں سداما نے
Kushal Dauneria
30 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Kushal Dauneria.
Similar Moods
More moods that pair well with Kushal Dauneria's ghazal.







