ghazalKuch Alfaaz

حسن اک گلستاں کا رہیےگا ہے آنکھ شہتوت بدن ڈالی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کچھ دیر اداسی ہنسکر ماری ہے مار نہیں ڈالی ہے ساز و سنگار سے چمکایا بدن ایک ہی نوٹ حقیقت بھی جالی ہے

Related Ghazal

ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی سوچا ہوا ہے ہے وہ ہے وہ حقیقت سمے آنے پہ کر جاؤں گا جاناں مجھے زہر لگتے ہوں اور ہے وہ ہے وہ کسی دن تمہیں پی کے مر جاؤں گا تو تو بینائی ہے مری تری علاوہ مجھے کچھ بھی دکھتا نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تجھ کو ا گر تری گھر پہ اتارا تو ہے وہ ہے وہ کیسے گھر جاؤں گا چاہتا ہوں تمہیں اور بے حد چاہتا ہوں تمہیں خود بھی معلوم ہے ہاں ا گر مجھ سے پوچھا کسی نے تو ہے وہ ہے وہ سیدھا منا پر مکر جاؤں گا تری دل سے تری شہر سے تری گھر سے تیری آنکھ سے تری در سے تیری گلیوں سے تری وطن سے نکالا ہوا ہوں کدھر جاؤں گا

Tehzeeb Hafi

241 likes

صرف خنجر ہی نہیں آنکھوں ہے وہ ہے وہ پانی چاہیے اے خدا دشمن بھی مجھ کو خاندانی چاہیے شہر کی ساری الف لیلائیں بوڑھی ہوں چکیں شہزادے کو کوئی تازہ کہانی چاہیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اے سورج تجھے پوجا نہیں سمجھا تو ہے مری حصے ہے وہ ہے وہ بھی تھوڑی دھوپ آنی چاہیے مری قیمت کون دے سکتا ہے ا سے بازار ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں زلیخا ہوں تمہیں قیمت لگانی چاہیے زندگی ہے اک سفر اور زندگی کی راہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی بھی آئی تو ٹھوکر لگانی چاہیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اپنی خشک آنکھوں سے لہو چھلکا دیا اک سمندر کہ رہا تھا مجھ کو پانی چاہیے

Rahat Indori

38 likes

مری لیے تو عشق کا وعدہ ہے شاعری آدھا سرور جاناں ہوں تو آدھا ہے شاعری رودراکش ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے تو سینے ہے وہ ہے وہ اوم ہے اندھیرا ہے میرا دل مری رادھا ہے شاعری اپنا تو میل جول ہی ب سے عاشقوں سے ہے درویش کا ب سے ایک لبادہ ہے شاعری ہوں آشنا کوئی تو مہ لقا ہے اپنا رنگ بے رموزیوں کے واسطے سادہ ہے شاعری جاناں سامنے ہوں اور مری دسترسی ہے وہ ہے وہ ہوں ا سے سمے مری دل کا ارادہ ہے شاعری بھگوان ہوں خدا ہوں محبت ہوں یا بدن ج سے سمت بھی چلو یہی زادہ ہے شاعری ا سے لیے بھی عشق ہی لکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ علی میرا کسی سے آخری وعدہ ہے شاعری

Ali Zaryoun

70 likes

اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے

Waseem Barelvi

107 likes

عشق ہے وہ ہے وہ دان کرنا پڑتا ہے جاں کو ہلکان کرنا پڑتا ہے غضب مفت ہے وہ ہے وہ نہیں ملتا پہلے نقصان کرنا پڑتا ہے ا سے کی ہنہناتی گفتگو کے لیے آنکھ کو کان کرنا پڑتا ہے پھروں اداسی کے بھی تقاضے ہیں گھر کو ویران کرنا پڑتا ہے

Mehshar Afridi

37 likes

More from Kushal Dauneria

حقیقت جب بند کمرے ہے وہ ہے وہ لٹکا ہوا تھا یہ ک سے کو پتا تھا کھلاڑی محبت ہے وہ ہے وہ بلکل نیا تھا یہ ک سے کو پتا تھا کہ ان جاہلوں نے اسے آدمی کی طرح بھی لگ رکھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بچپن سے ج سے بے وجہ کو پوجتا تھا یہ ک سے کو پتا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب تک اسے جیت لینے کی تیاریاں کر رہا تھا حقیقت تب تک کسی اور کا ہوں چکا تھا یہ ک سے کو پتا تھا

Kushal Dauneria

24 likes

آئی دن مجھ سے خفا رہتا ہے دل کو اک ڈر سا لگا رہتا ہے سارا دن پیار کرےگا مجھ سے چنو تو گھر پہ بڑا رہتا ہے سب سے کہتی ہے تمہارا شاعر میرے پہلو ہے وہ ہے وہ پڑا رہتا ہے عشق حقیقت کھیل ہے ج سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر وقت جان کا خطرہ بنا رہتا ہے

Kushal Dauneria

22 likes

بچی ہے روشنی جو بھی چراغوں سے نکل جائے جو مری دل سے نکلا ہے دعاؤں سے نکل جائے ہم ایسے لوگ جو دشمن کے رونے پر ٹھہر جائیں حقیقت ایسا بے وجہ جو اپنوں کی لاشوں سے نکل جائے پڑھانے کا ا گر زار ہے ہاتھوں سے نکل جانا خدایا پھروں مری بیٹی بھی ہاتھوں سے نکل جائے وہی اک بے وجہ تھا میرا ی ہاں پر جی لگانے کو اسی کو چاہتے تھے سب کہ گاؤں سے نکل جائے ادھر تو چھو رہی ہے جسم میرا ٹھنڈے ہاتھوں سے ادھر حقیقت چاہتی ہے رات باتوں سے نکل جائے نمائش باپ کی دولت کی کر کے سوچتا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ شاید امتحاں عشق پیسوں سے نکل جائے

Kushal Dauneria

25 likes

کوئی حسین تو کوئی دردناک سمجھےگا میرا مزاج وہی ٹھیک ٹھاک سمجھےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے کے ساتھ کئی راتوں سے ہوں ا سے کا نام بتا تو دوں گا م گر تو مزاق سمجھےگا حقیقت ج سے حساب سے گاتا ہے ا سے سے لگتا ہے کہ مری دکھ کو تو ب سے لڑکھڑاتے پراک سمجھےگا

Kushal Dauneria

36 likes

کیا ہوں کہ مری زندگی سے تو نکل سکے ج سے سے کہ مری درد کا پہلو نکل سکے درکار ا سے لیے ہے مجھے دوسرا بدن ا سے کی دل و دماغ سے خوشبو نکل سکے سب اپنی اپنی لاشوں کو مندیر ہے وہ ہے وہ لے چلو شاید خدا کی آنکھ سے آنسو نکل سکے گہری ہوئیں جڑیں تو یہ شاخیں خا لگ وحدت پسند ہوئیں پاؤں جمعے تو پیڑ کے بازو نکل سکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد صرف انہی کوششوں ہے وہ ہے وہ ہوں گردن سے ا سے کے نام کا ٹیٹو نکل سکے اپنی ہتھیلیوں ہے وہ ہے وہ یہ آنکھیں نچوڑ لوں ممکن ہے تری ہجر سے چلو نکل سکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں رات ہے وہ ہے وہ سورج مکھی کھلے ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا ہوں دن ہے وہ ہے وہ بھی جگنو نکل سکے

Kushal Dauneria

18 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Kushal Dauneria.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Kushal Dauneria's ghazal.