اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے
Related Ghazal
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
ا سے سے پہلے کہ تجھے اور سہارا لگ ملے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری ساتھ ہوں جب تک مری جیسا لگ ملے کم سے کم بدلے ہے وہ ہے وہ جنت اسے دے دی جائے ج سے محبت کے گرفتار کو صحرا نا ملے لوگ کہتے ہے کے ہم لوگ برے آدمی ہے لوگ بھی ایسے جن ہوں نے ہمیں دیکھا نا ملے ب سے یہی کہ کے اسے ہے وہ ہے وہ نے خدا کو سونپا اتفاقاً کہی مل جائے تو روتا نا ملے بد دعا ہے کے و ہاں آئی ج ہاں بیٹھتے تھے اور افکار و ہاں آپ کو بیٹھا نا ملے
Afkar Alvi
38 likes
مجھ ہے وہ ہے وہ کتنے راز ہیں بتلاؤں کیا بند ایک مدت سے ہوں کھل جاؤں کیا تاب غم منت خوشامد التجا اور ہے وہ ہے وہ کیا کیا کروں مر جاؤں کیا تری جلسے ہے وہ ہے وہ تیرا پرچم لیے سیکڑوں لاشیں بھی ہیں گنواؤں کیا کل ی ہاں ہے وہ ہے وہ تھا ج ہاں جاناں آج ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہاری ہی طرح اتراوں کیا ایک پتھر ہے حقیقت مری راہ کا گر لگ ٹھکراؤں تو ٹھوکر کھاؤں کیا پھروں جگایا تو نے سوئے شعر کو پھروں وہی لہجہ درازی آؤں کیا
Rahat Indori
56 likes
مجھے ادا سے کر گئے ہوں خوش رہو مری مزاج پر گئے ہوں خوش رہو مری لیے لگ رک سکے تو کیا ہوا ج ہاں کہی ٹھہر گئے ہوں خوش رہو خوشی ہوئی ہے آج جاناں کو دیکھ کر بے حد نکھر سنور گئے ہوں خوش رہو ادا سے ہوں کسی کی بے وفائی پر وفا کہی تو کر گئے ہوں خوش رہو گلی ہے وہ ہے وہ اور لوگ بھی تھے آشنا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سلام بخیر کر گئے ہوں خوش رہو تمہیں تو مری دوستی پہ ناز تھا اسی سے اب مکر گئے ہوں خوش رہو کسی کی زندگی بنو کہ بندگی مری لیے تو مر گئے ہوں خوش رہو
Fazil Jamili
73 likes
کبھی کسی کو مکمل ج ہاں نہیں ملتا کہی زمین کہی آ سماں نہیں ملتا تمام شہر ہے وہ ہے وہ ایسا نہیں خلوص لگ ہوں ج ہاں امید ہوں ا سے کی و ہاں نہیں ملتا ک ہاں چراغ جلائیں ک ہاں گلاب رکھیں چھتیں تو ملتی ہیں لیکن مکان نہیں ملتا یہ کیا عذاب ہے سب اپنے آپ ہے وہ ہے وہ گم ہیں زبان ملی ہے م گر ہم زبان نہیں ملتا چراغ جلتے ہی بینائی بجھنے لگتی ہے خود اپنے گھر ہے وہ ہے وہ ہی گھر کا نشان نہیں ملتا
Nida Fazli
37 likes
More from Waseem Barelvi
اپنے سائے کو اتنا سمجھانے دے مجھ تک مری حصے کی دھوپ آنے دے ایک نظر ہے وہ ہے وہ کئی زمانے دیکھے تو بوڑھی آنکھوں کی تصویر بنانے دے بابا دنیا جیت کے ہے وہ ہے وہ دکھلا دوں گا اپنی نظر سے دور تو مجھ کو جانے دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ا سے باغ کا ایک پرندہ ہوں مری ہی آواز ہے وہ ہے وہ مجھ کو گانے دے پھروں تو یہ اونچا ہی ہوتا جائےگا بچپن کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ چاند آ جانے دے فصلیں پک جائیں تو کھیت سے بچھڑیںگی روتی آنکھ کو پیار ک ہاں سمجھانے دے
Waseem Barelvi
7 likes
حقیقت مجھ کو کیا بتانا چاہتا ہے جو دنیا سے چھپانا چاہتا ہے مجھے دیکھو کہ ہے وہ ہے وہ ا سے کو ہی چا ہوں جسے سارا زما لگ چاہتا ہے کرنا ک ہاں ہے ا سے کا منشا حقیقت میرا سر جھکانا چاہتا ہے شکایت کا دھواں آنکھوں سے دل تک تعلق ٹوٹ جانا چاہتا ہے تقاضا سمے کا کچھ بھی ہوں یہ دل وہی قصہ پرانا چاہتا ہے
Waseem Barelvi
6 likes
اندھیرا ذہن کا سمت سفر جب کھونے لگتا ہے کسی کا دھیان آتا ہے اجالا ہونے لگتا ہے حقیقت جتنی دور ہوں اتنا ہی میرا ہونے لگتا ہے م گر جب پا سے آتا ہے تو مجھ سے کھونے لگتا ہے کسی نے رکھ دیے ممتا بھرے دو ہاتھ کیا سر پر مری اندر کوئی بچہ بلک کر رونے لگتا ہے محبت چار دن کی اور اداسی زندگی بھر کی یہی سب دیکھتا ہے اور کبیر رونے لگتا ہے سمجھتے ہی نہیں نادان کے دن کی ہے ملکیت پرائے کھیتوں پہ اپنوں ہے وہ ہے وہ جھگڑا ہونے لگتا ہے یہ دل بچ کر زمانے بھر سے چلنا چاہے ہے لیکن جب اپنی راہ چلتا ہے اکیلا ہونے لگتا ہے
Waseem Barelvi
10 likes
بھلا غموں سے ک ہاں ہار جانے والے تھے ہم آنسوؤں کی طرح مسکرانے والے تھے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کر دیا اعلان گمراہی ور لگ ہمارے پیچھے بے حد لوگ آنے والے تھے ا نہیں تو خاک ہے وہ ہے وہ ملنا ہی تھا کہ مری تھے یہ خوشی کون سے اونچے گھرانے والے تھے ا نہیں قریب لگ ہونے دیا کبھی ہے وہ ہے وہ نے جو دوستی ہے وہ ہے وہ حدیں بھول جانے والے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جن کو جان کے پہچان بھی نہیں سکتا کچھ ایسے لوگ میرا گھر جلانے والے تھے ہمارا المیہ یہ تھا کہ ہم سفر بھی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ وہی ملے جو بے حد یاد آنے والے تھے مسئلہ کیسی مقدم کی راہ تھی ج سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ وہی ملے جو بے حد دل دکھانے والے تھے
Waseem Barelvi
5 likes
نہیں کہ اپنا زما لگ بھی تو نہیں آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی سے نبھانا بھی تو نہیں آیا جلا کے رکھ لیا ہاتھوں کے ساتھ دامن تک تمہیں چراغ بجھانا بھی تو نہیں آیا نئے مکان بنائے تو فاصلوں کی طرح ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ شہر بسانا بھی تو نہیں آیا حقیقت پوچھتا تھا مری آنکھ بھیگنے کا سبب مجھے بہانا بنانا بھی تو نہیں آیا مسئلہ دیکھنا مڑ مڑ کے حقیقت اسی کی طرف کسی کو چھوڑ کے جانا بھی تو نہیں آیا
Waseem Barelvi
4 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Waseem Barelvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Waseem Barelvi's ghazal.







