ghazalKuch Alfaaz

نہیں کہ اپنا زما لگ بھی تو نہیں آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی سے نبھانا بھی تو نہیں آیا جلا کے رکھ لیا ہاتھوں کے ساتھ دامن تک تمہیں چراغ بجھانا بھی تو نہیں آیا نئے مکان بنائے تو فاصلوں کی طرح ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ شہر بسانا بھی تو نہیں آیا حقیقت پوچھتا تھا مری آنکھ بھیگنے کا سبب مجھے بہانا بنانا بھی تو نہیں آیا مسئلہ دیکھنا مڑ مڑ کے حقیقت اسی کی طرف کسی کو چھوڑ کے جانا بھی تو نہیں آیا

Related Ghazal

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

غزل تو سب کو میٹھی لگ رہی تھی م گر نہاتک کو مرچی لگ رہی تھی تمہارے لب نہیں چومے تھے جب تک مجھے ہر چیز کڑوی لگ رہی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دن چھوڑنے والا تھا اس کا کو حقیقت ا سے دن سب سے پیاری لگ رہی تھی

Zubair Ali Tabish

80 likes

جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں

Tehzeeb Hafi

268 likes

کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر

Anwar Shaoor

95 likes

More from Waseem Barelvi

حقیقت مجھ کو کیا بتانا چاہتا ہے جو دنیا سے چھپانا چاہتا ہے مجھے دیکھو کہ ہے وہ ہے وہ ا سے کو ہی چا ہوں جسے سارا زما لگ چاہتا ہے کرنا ک ہاں ہے ا سے کا منشا حقیقت میرا سر جھکانا چاہتا ہے شکایت کا دھواں آنکھوں سے دل تک تعلق ٹوٹ جانا چاہتا ہے تقاضا سمے کا کچھ بھی ہوں یہ دل وہی قصہ پرانا چاہتا ہے

Waseem Barelvi

6 likes

اندھیرا ذہن کا سمت سفر جب کھونے لگتا ہے کسی کا دھیان آتا ہے اجالا ہونے لگتا ہے حقیقت جتنی دور ہوں اتنا ہی میرا ہونے لگتا ہے م گر جب پا سے آتا ہے تو مجھ سے کھونے لگتا ہے کسی نے رکھ دیے ممتا بھرے دو ہاتھ کیا سر پر مری اندر کوئی بچہ بلک کر رونے لگتا ہے محبت چار دن کی اور اداسی زندگی بھر کی یہی سب دیکھتا ہے اور کبیر رونے لگتا ہے سمجھتے ہی نہیں نادان کے دن کی ہے ملکیت پرائے کھیتوں پہ اپنوں ہے وہ ہے وہ جھگڑا ہونے لگتا ہے یہ دل بچ کر زمانے بھر سے چلنا چاہے ہے لیکن جب اپنی راہ چلتا ہے اکیلا ہونے لگتا ہے

Waseem Barelvi

10 likes

ہم اپنے آپ کو اک مسئلہ بنا لگ سکے اسی لیے تو کسی کی نظر ہے وہ ہے وہ آ لگ سکے ہم آنسوؤں کی طرح واسطے نبھا لگ سکے رہے جن آنکھوں ہے وہ ہے وہ ان ہے وہ ہے وہ ہی گھر بنا لگ سکے پھروں آندھیوں نے سکھایا و ہاں سفر کا ہنر ج ہاں چراغ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ راستہ دکھا لگ سکے جو پیش پیش تھے بستی بچانے والوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگی جب آگ تو اپنا بھی گھر بچا لگ سکے مری خدا کسی ایسی جگہ اسے رکھنا ج ہاں کوئی مری بارے ہے وہ ہے وہ کچھ بتا لگ سکے تمام عمر کی کوشش کا ب سے یہی حاصل کسی کو اپنے مطابق کوئی بنا لگ سکے تسلیوں پہ بے حد دن زیا نہیں جاتا کچھ ایسا ہوں کے ترا اعتبار آ لگ سکے

Waseem Barelvi

3 likes

تحریر سے ور لگ مری کیا ہوں نہیں سکتا اک تو ہے جو لفظوں ہے وہ ہے وہ ادا ہوں نہیں سکتا آنکھوں ہے وہ ہے وہ خیالات ہے وہ ہے وہ سانسوں ہے وہ ہے وہ بسا ہے چاہے بھی تو مجھ سے حقیقت جدا ہوں نہیں سکتا جینا ہے تو یہ جبر بھی سہنا ہی پڑےگا اللہ ری ہوں سمندر سے خفا ہوں نہیں سکتا گمراہ کیے ہوں گے کئی پھول سے جذبے ایسے تو کوئی راہ نما ہوں نہیں سکتا قد میرا بڑھانے کا اسے کام ملا ہے جو اپنے ہی پیروں پہ کھڑا ہوں نہیں سکتا اے پیار تری حصے ہے وہ ہے وہ آیا تری قسمت حقیقت درد جو چہروں سے ادا ہوں نہیں سکتا

Waseem Barelvi

1 likes

رنگ بے رنگ ہوں خوشبو کا بھروسا جائے میری آنکھوں سے جو دنیا تجھے دیکھا جائے ہم نے جس راہ کو چھوڑا پھروں اسے چھوڑ دیا اب نہ جائیں گے ادھر چاہے زمانہ جائے میں نے مدت سے کوئی خواب نہیں دیکھا ہے ہاتھ رکھ دے مری آنکھوں پہ کہ نیند آ جائے میں گناہوں کا طرف دار نہیں ہوں پھروں بھی رات کو دن کی نگاہوں سے نہ دیکھا جائے کچھ بڑی سوچوں میں یہ سوچیں بھی شامل ہیں چھپائیں کس بہانے سے کوئی شہر جلایا جائے

Waseem Barelvi

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Waseem Barelvi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Waseem Barelvi's ghazal.