رنگ بے رنگ ہوں خوشبو کا بھروسا جائے میری آنکھوں سے جو دنیا تجھے دیکھا جائے ہم نے جس راہ کو چھوڑا پھروں اسے چھوڑ دیا اب نہ جائیں گے ادھر چاہے زمانہ جائے میں نے مدت سے کوئی خواب نہیں دیکھا ہے ہاتھ رکھ دے مری آنکھوں پہ کہ نیند آ جائے میں گناہوں کا طرف دار نہیں ہوں پھروں بھی رات کو دن کی نگاہوں سے نہ دیکھا جائے کچھ بڑی سوچوں میں یہ سوچیں بھی شامل ہیں چھپائیں کس بہانے سے کوئی شہر جلایا جائے
Related Ghazal
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
بات ایسی ہے ایسا تھا پہلے درد ہونے پہ روتا تھا پہلے چنو چاہے حقیقت کھیلا کرتا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی کا کھلونا تھا پہلے تجھ پہ کتنا بھروسا کرتا تھا خود پہ کتنا بھروسا تھا پہلے آخری راستے پہ چلنے کو پیر ا سے نے اٹھایا تھا پہلے اب تو تصویر تک نہیں بنتی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو پیکر بناتا تھا پہلے روشنی آئی جب جلا کوئی سب کی آنکھوں پہ پردہ تھا پہلے گنتی پیچھے سے کی گئی ورنا میرا نمبر تو پہلا تھا پہلے
Himanshi babra KATIB
45 likes
چھوڑ کر جانے کا جھمکے نہیں ہوتا تھا کوئی بھی زخم ہوں ناسور نہیں ہوتا تھا میرے بھی ہونٹ پہ سگریٹ نہیں ہوتی تھی ا سے کی بھی مانگ ہے وہ ہے وہ سندور نہیں ہوتا تھا عورتیں پیار ہے وہ ہے وہ تب شوق نہیں رکھتی تھی آدمی عشق ہے وہ ہے وہ مزدور نہیں ہوتا تھا
Kushal Dauneria
54 likes
جھک کے چلتا ہوں کہ قد ا سے کے برابر لگ لگے دوسرا یہ کہ اسے راہ ہے وہ ہے وہ ٹھوکر لگ لگے یہ تری ساتھ تعلق کا بڑا فائدہ ہے آدمی ہوں بھی تو اوقات سے باہر لگ لگے نیم تاریک سا ماحول ہے درکار مجھے ایسا ماحول ج ہاں آنکھ لگے ڈر لگ لگے ماو نے چومنا ہوتے ہیں بریدا سر بھی ا سے سے کہنا کہ کوئی زخم جبیں پر لگ لگے یہ طلبگار نگا ہوں کے تقاضے ہر سو کوئی تو ایسی جگہ ہوں جو مجھے گھر لگ لگے یہ جو آئی لگ ہے دیکھوں تو خلا دکھتا ہے ا سے جگہ کچھ بھی لگ لگواؤں تو بہتر لگ لگے جاناں نے چھوڑا تو کسی اور سے ٹکراؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیسے ممکن ہے کہ اندھے کا کہی سر لگ لگے
Umair Najmi
46 likes
بعد ہے وہ ہے وہ مجھ سے نا کہنا گھر پلٹنا ٹھیک ہے ویسے سننے ہے وہ ہے وہ یہی آیا ہے رستہ ٹھیک ہے شاخ سے پتہ گرے بارش گردشیں بادل چھٹے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہی تو سب کچھ غلط کرتا ہوں اچھا ٹھیک ہے ذہن تک تسلیم کر لیتا ہے ا سے کی برتری آنکھ تک تصدیق کر دیتی ہے بندہ ٹھیک ہے ایک تیری آواز سننے کے لیے زندہ ہے ہم تو ہی جب خاموش ہوں جائے تو پھروں کیا ٹھیک ہے
Tehzeeb Hafi
182 likes
More from Waseem Barelvi
حقیقت مجھ کو کیا بتانا چاہتا ہے جو دنیا سے چھپانا چاہتا ہے مجھے دیکھو کہ ہے وہ ہے وہ ا سے کو ہی چا ہوں جسے سارا زما لگ چاہتا ہے کرنا ک ہاں ہے ا سے کا منشا حقیقت میرا سر جھکانا چاہتا ہے شکایت کا دھواں آنکھوں سے دل تک تعلق ٹوٹ جانا چاہتا ہے تقاضا سمے کا کچھ بھی ہوں یہ دل وہی قصہ پرانا چاہتا ہے
Waseem Barelvi
6 likes
اندھیرا ذہن کا سمت سفر جب کھونے لگتا ہے کسی کا دھیان آتا ہے اجالا ہونے لگتا ہے حقیقت جتنی دور ہوں اتنا ہی میرا ہونے لگتا ہے م گر جب پا سے آتا ہے تو مجھ سے کھونے لگتا ہے کسی نے رکھ دیے ممتا بھرے دو ہاتھ کیا سر پر مری اندر کوئی بچہ بلک کر رونے لگتا ہے محبت چار دن کی اور اداسی زندگی بھر کی یہی سب دیکھتا ہے اور کبیر رونے لگتا ہے سمجھتے ہی نہیں نادان کے دن کی ہے ملکیت پرائے کھیتوں پہ اپنوں ہے وہ ہے وہ جھگڑا ہونے لگتا ہے یہ دل بچ کر زمانے بھر سے چلنا چاہے ہے لیکن جب اپنی راہ چلتا ہے اکیلا ہونے لگتا ہے
Waseem Barelvi
10 likes
اپنے سائے کو اتنا سمجھانے دے مجھ تک مری حصے کی دھوپ آنے دے ایک نظر ہے وہ ہے وہ کئی زمانے دیکھے تو بوڑھی آنکھوں کی تصویر بنانے دے بابا دنیا جیت کے ہے وہ ہے وہ دکھلا دوں گا اپنی نظر سے دور تو مجھ کو جانے دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ا سے باغ کا ایک پرندہ ہوں مری ہی آواز ہے وہ ہے وہ مجھ کو گانے دے پھروں تو یہ اونچا ہی ہوتا جائےگا بچپن کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ چاند آ جانے دے فصلیں پک جائیں تو کھیت سے بچھڑیںگی روتی آنکھ کو پیار ک ہاں سمجھانے دے
Waseem Barelvi
7 likes
سبھی کا دھوپ سے بچنے کو سر نہیں ہوتا ہر آدمی کے مقدر ہے وہ ہے وہ گھر نہیں ہوتا کبھی لہو سے بھی پوچھوں لکھنی پڑتی ہے ہر ایک معرکہ باتوں سے سر نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی آنکھ کا آنسو لگ بن سکا ور لگ مجھے بھی خاک ہے وہ ہے وہ ملنے کا ڈر نہیں ہوتا مجھے تلاش کروگے تو پھروں لگ پاؤگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک صدا ہوں صداؤں کا گھر نہیں ہوتا ہماری آنکھ کے آنسو کی اپنی دنیا ہے کسی مختلف کو جھونپڑیوں کا ڈر نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے مکان ہے وہ ہے وہ رہتا ہوں اور زندہ ہوں مسئلہ ج سے ہے وہ ہے وہ ہوا کا گزر نہیں ہوتا
Waseem Barelvi
3 likes
کیا بتاؤں کیسا خود کو در بدر ہے وہ ہے وہ نے کیا عمر بھر ک سے ک سے کے حصے کا سفر ہے وہ ہے وہ نے کیا تو تو خوبصورت بھی لگ کر پائے گا ا سے شدت کے ساتھ ج سے بلا کا پیار تجھ سے بے خبر ہے وہ ہے وہ نے کیا کیسے بچوں کو بتاؤں راستوں کے پیچ و خم زندگی بھر تو کتابوں کا سفر ہے وہ ہے وہ نے کیا ک سے کو فرصت تھی کہ بتلاتا تجھے اتنی سی بات خود سے کیا دانستہ تجھ سے چھوٹ کر ہے وہ ہے وہ نے کیا چند جذباتی سے رشتوں کے بچانے کو مسئلہ کیسا کیسا جبر اپنے آپ پر ہے وہ ہے وہ نے کیا
Waseem Barelvi
5 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Waseem Barelvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Waseem Barelvi's ghazal.







