سبھی کا دھوپ سے بچنے کو سر نہیں ہوتا ہر آدمی کے مقدر ہے وہ ہے وہ گھر نہیں ہوتا کبھی لہو سے بھی پوچھوں لکھنی پڑتی ہے ہر ایک معرکہ باتوں سے سر نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی آنکھ کا آنسو لگ بن سکا ور لگ مجھے بھی خاک ہے وہ ہے وہ ملنے کا ڈر نہیں ہوتا مجھے تلاش کروگے تو پھروں لگ پاؤگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک صدا ہوں صداؤں کا گھر نہیں ہوتا ہماری آنکھ کے آنسو کی اپنی دنیا ہے کسی مختلف کو جھونپڑیوں کا ڈر نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے مکان ہے وہ ہے وہ رہتا ہوں اور زندہ ہوں مسئلہ ج سے ہے وہ ہے وہ ہوا کا گزر نہیں ہوتا
Related Ghazal
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
غزل تو سب کو میٹھی لگ رہی تھی م گر نہاتک کو مرچی لگ رہی تھی تمہارے لب نہیں چومے تھے جب تک مجھے ہر چیز کڑوی لگ رہی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دن چھوڑنے والا تھا اس کا کو حقیقت ا سے دن سب سے پیاری لگ رہی تھی
Zubair Ali Tabish
80 likes
چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں
Ali Zaryoun
105 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
More from Waseem Barelvi
حقیقت مجھ کو کیا بتانا چاہتا ہے جو دنیا سے چھپانا چاہتا ہے مجھے دیکھو کہ ہے وہ ہے وہ ا سے کو ہی چا ہوں جسے سارا زما لگ چاہتا ہے کرنا ک ہاں ہے ا سے کا منشا حقیقت میرا سر جھکانا چاہتا ہے شکایت کا دھواں آنکھوں سے دل تک تعلق ٹوٹ جانا چاہتا ہے تقاضا سمے کا کچھ بھی ہوں یہ دل وہی قصہ پرانا چاہتا ہے
Waseem Barelvi
6 likes
اندھیرا ذہن کا سمت سفر جب کھونے لگتا ہے کسی کا دھیان آتا ہے اجالا ہونے لگتا ہے حقیقت جتنی دور ہوں اتنا ہی میرا ہونے لگتا ہے م گر جب پا سے آتا ہے تو مجھ سے کھونے لگتا ہے کسی نے رکھ دیے ممتا بھرے دو ہاتھ کیا سر پر مری اندر کوئی بچہ بلک کر رونے لگتا ہے محبت چار دن کی اور اداسی زندگی بھر کی یہی سب دیکھتا ہے اور کبیر رونے لگتا ہے سمجھتے ہی نہیں نادان کے دن کی ہے ملکیت پرائے کھیتوں پہ اپنوں ہے وہ ہے وہ جھگڑا ہونے لگتا ہے یہ دل بچ کر زمانے بھر سے چلنا چاہے ہے لیکن جب اپنی راہ چلتا ہے اکیلا ہونے لگتا ہے
Waseem Barelvi
10 likes
کچھ اتنا خوف کا مارا ہوا بھی پیار لگ ہوں حقیقت اعتبار دلائے اور اعتبار لگ ہوں ہوا خلاف ہوں موجوں پہ اختیار لگ ہوں یہ کیسی ضد ہے کہ دریا کسی سے پار لگ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ گاؤں لوٹ رہا ہوں بے حد دنوں کے بعد خدا کرے کہ اسے میرا انتظار لگ ہوں ذرا سی بات پہ گھٹ گھٹ کے صبح کر دینا مری طرح بھی کوئی میرا غم گسار لگ ہوں دکھی سماج ہے وہ ہے وہ آنسو بھرے زمانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسے یہ کون بتائے کہ خوشی بار لگ ہوں گناہگاروں پہ انگلی اٹھائے دیتے ہوں مسئلہ آج کہی جاناں بھی سنگسار لگ ہوں
Waseem Barelvi
7 likes
مری غم کو جو اپنا بتاتے رہے سمے پڑھنے لگیں پہ ہاتھوں سے جاتے رہے بارشیں آئیں اور فیصلہ کر گئیں لوگ ٹوٹی چھتیں آزماتے رہے آنکھیں منظر ہوئیں کان نغمہ ہوئے گھر کے انداز ہی گھر سے جاتے رہے شام آئی تو بچھڑے ہوئے ہم سفر آنسوؤں سے ان آنکھوں ہے وہ ہے وہ آتے رہے نہنہے بچوں نے چھو بھی لیا چاند کو بوڑھے بابا کہانی سناتے رہے دور تک ہاتھ ہے وہ ہے وہ کوئی پتھر لگ تھا پھروں بھی ہم جانے کیوں سر بچاتے رہے شاعری زہر تھی کیا کریں اے مسئلہ لوگ پیتے رہے ہم پلاتے رہے
Waseem Barelvi
10 likes
زندگی تجھ پہ اب الزام کوئی کیا رکھے اپنا احسا سے ہی ایسا ہے جو تنہا رکھے کن شکستوں کے شب و روز سے گزرا ہوگا حقیقت مصور جو ہر اک نقش ادھورا رکھے خشک مٹی ہی نے جب پاؤں زمانے لگ دیے بہتے دریا سے پھروں امید کوئی کیا رکھے آ غم لیل و نہار اسی موڑ پہ ہوں جاؤں جدا جو مجھے میرا ہی رہنے دے لگ تیرا رکھے آرزوؤں کے بے حد خواب تو دیکھو ہوں مسئلہ جانے ک سے حال ہے وہ ہے وہ بے درد زما لگ رکھے
Waseem Barelvi
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Waseem Barelvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Waseem Barelvi's ghazal.







