اک پل ہے وہ ہے وہ اک ص گرا کا مزہ ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ ا نہیں مدتوں ہے وہ ہے وہ ہم قسطوں ہے وہ ہے وہ خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے آغاز کرنے والے کا مزہ آپ جانیے انجام کرنے والے کا مزہ ہم سے پوچھیے جلتے دیوں ہے وہ ہے وہ جلتے گھروں جیسی ذو ک ہاں سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے حقیقت جان ہی گئے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسیے م گر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمار توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے
Related Ghazal
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
More from Khumar Barabankvi
کیا ہوا حسن ہے ہم سفر یا نہیں عشق منزل ہی منزل ہے رستہ نہیں دو پرندے اڑے آنکھ نمہ ہوں گئی آج سمجھا کہ ہے وہ ہے وہ تجھ کو بھولا نہیں ترک مے کو ابھی دن ہی کتنے ہوئے کچھ کہا مے کو زاہد تو اچھا لگ ہر نظر مری بن جاتی زنجیر پا ا سے نے جاتے ہوئے مڑ کے دیکھا نہیں چھوڑ بھی دے میرا ساتھ اے زندگی مجھ کو تجھ سے ندامت ہے شکوہ نہیں تو نے توبہ تو کر لی م گر اے خمار تجھ کو رحمت پہ شاید بھروسا نہیں
Khumar Barabankvi
6 likes
وہ سوا یاد آئے بھلانے کے بعد زندگی بڑھ گئی زہر خانے کے بعد دل سلگتا رہا آشیانے کے بعد آگ ٹھنڈی ہوئی اک زمانے کے بعد روشنی کے لیے دل جلانا پڑا ایسی میسج جھکائیں تیرے جانے کے بعد جب نہ کچھ بن پڑا عرض غم کا جواب وہ خفا ہو گئے مسکرانے کے بعد دشمنوں سے پشیمان ہونا پڑا دوستوں کا خلوص آزمانے کے بعد رنج حد سے گزر کے خوشی بن گیا ہو گئے پار ہم ڈوب جانے کے بعد بخش دے یا رب اہل ہوس کو مکیں مجھ کو کیا چاہیے تجھ کو پانے کے بعد کیسے کیسے گلے یاد آئے خمار ان کے آنے سے قبل ان کے جانے کے بعد
Khumar Barabankvi
2 likes
हम उन्हें वो हमें भुला बैठे दो गुनहगार ज़हर खा बैठे हाल-ए-ग़म कह के ग़म बढ़ा बैठे तीर मारे थे तीर खा बैठे आँधियो जाओ अब करो आराम हम ख़ुद अपना दिया बुझा बैठे जी तो हल्का हुआ मगर यारो रो के हम लुत्फ़-ए-ग़म गँवा बैठे बे-सहारों का हौसला ही क्या घर में घबराए दर पे आ बैठे जब से बिछड़े वो मुस्कुराए न हम सब ने छेड़ा तो लब हिला बैठे हम रहे मुब्तला-ए-दैर-ओ-हरम वो दबे पाँव दिल में आ बैठे उठ के इक बे-वफ़ा ने दे दी जान रह गए सारे बा-वफ़ा बैठे हश्र का दिन अभी है दूर 'ख़ुमार' आप क्यूँँ ज़ाहिदों में जा बैठे
Khumar Barabankvi
8 likes
حسن جب مہرباں ہوں تو کیا کیجیے عشق کے مغفرت کی دعا کیجیے ا سے سلیقے سے ان سے گلہ کیجیے جب گلہ کیجیے ہن سے دیا کیجیے دوسروں پر اگر تبصرہ کیجیے سامنے آئینہ رکھ لیا کیجیے آپ سکھ سے ہیں ترک تعلق کے بعد اتنی جلدی نہ یہ فیصلہ کیجیے زندگی کٹ رہی ہے بڑے چین سے اور غم ہوں تو حقیقت بھی عطا کیجیے کوئی دھوکہ نہ کھا جائے میری طرح ایسے کھل کے نہ سب سے ملا کیجیے عقل و دل اپنی اپنی کہیں جب خمار عقل کی سنیے دل کا کہا کیجیے
Khumar Barabankvi
1 likes
حقیقت جو آئی حیات یاد آئی بھولی بسری سی بات یاد آئی کہ حال دل ان سے کہکے جب لوٹے ان سے کہنے کی بات یاد آئی آپنے دن بنا دیا تھا جسے زندگی بھر حقیقت رات یاد آئی تری در سے اٹھے ہی تھے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تنگی کائنات یاد آئی
Khumar Barabankvi
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Khumar Barabankvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Khumar Barabankvi's ghazal.







