हम उन्हें वो हमें भुला बैठे दो गुनहगार ज़हर खा बैठे हाल-ए-ग़म कह के ग़म बढ़ा बैठे तीर मारे थे तीर खा बैठे आँधियो जाओ अब करो आराम हम ख़ुद अपना दिया बुझा बैठे जी तो हल्का हुआ मगर यारो रो के हम लुत्फ़-ए-ग़म गँवा बैठे बे-सहारों का हौसला ही क्या घर में घबराए दर पे आ बैठे जब से बिछड़े वो मुस्कुराए न हम सब ने छेड़ा तो लब हिला बैठे हम रहे मुब्तला-ए-दैर-ओ-हरम वो दबे पाँव दिल में आ बैठे उठ के इक बे-वफ़ा ने दे दी जान रह गए सारे बा-वफ़ा बैठे हश्र का दिन अभी है दूर 'ख़ुमार' आप क्यूँँ ज़ाहिदों में जा बैठे
Related Ghazal
گھر بنانا بہت ضروری ہے قیدخانہ بہت ضروری ہے پھول کھلنے سے پھل اترتے ہیں مسکرانا بہت ضروری ہے محفلیں بے سبب نہیں جمتی ایک فسانہ بہت ضروری ہے اب کے دروازہ خود سجایا ہے تیرا آنا بہت ضروری ہے آ سماں ہے وہ ہے وہ زمین والو کا اک ہری بہت ضروری ہے اب کے حقیقت بے سبب ہی روٹھا ہے اب منانا بہت ضروری ہے کتنے زندہ ہیں ہم پتا تو چلا زہر خانہ بہت ضروری ہے سر اٹھانے کے واسطے فہمی سر جھکانا بہت ضروری ہے
Fahmi Badayuni
29 likes
سچ بتائیں تو شرم آتی ہے اور مطابق تو شرم آتی ہے ہم پہ احسان ہیں اداسی کے مسکرائیں تو شرم آتی ہے ہار کی ایسی عادتیں ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جیت جائیں تو شرم آتی ہے ا سے کے آگے ہی ا سے کا بخشش ہوا سر اٹھائیں تو شرم آتی ہے عیش اوقات سے زیادہ کی اب مہلکہ تو شرم آتی ہے دھمکیاں خود کشی کی دیتے ہیں کر لگ پائیں تو شرم آتی ہے
Varun Anand
36 likes
यूँँ तो हर सम्त है इमदाद के बाज़ार खुले तेरे आगे ही मगर दस्त-ए-गुनहगार खुले आपने जुर्म किया आप का सर काटेंगे आपने इश्क़ किया आप की दस्तार खुले मेरे तोहफ़ों ने मोहब्बत का भरम तोड़ दिया चूड़ियाँ तंग निकल आई हैं और हार खुले
Ahmad Abdullah
26 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی سوچا ہوا ہے ہے وہ ہے وہ حقیقت سمے آنے پہ کر جاؤں گا جاناں مجھے زہر لگتے ہوں اور ہے وہ ہے وہ کسی دن تمہیں پی کے مر جاؤں گا تو تو بینائی ہے مری تری علاوہ مجھے کچھ بھی دکھتا نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تجھ کو ا گر تری گھر پہ اتارا تو ہے وہ ہے وہ کیسے گھر جاؤں گا چاہتا ہوں تمہیں اور بے حد چاہتا ہوں تمہیں خود بھی معلوم ہے ہاں ا گر مجھ سے پوچھا کسی نے تو ہے وہ ہے وہ سیدھا منا پر مکر جاؤں گا تری دل سے تری شہر سے تری گھر سے تیری آنکھ سے تری در سے تیری گلیوں سے تری وطن سے نکالا ہوا ہوں کدھر جاؤں گا
Tehzeeb Hafi
241 likes
More from Khumar Barabankvi
حسن جب مہرباں ہوں تو کیا کیجیے عشق کے مغفرت کی دعا کیجیے ا سے سلیقے سے ان سے گلہ کیجیے جب گلہ کیجیے ہن سے دیا کیجیے دوسروں پر اگر تبصرہ کیجیے سامنے آئینہ رکھ لیا کیجیے آپ سکھ سے ہیں ترک تعلق کے بعد اتنی جلدی نہ یہ فیصلہ کیجیے زندگی کٹ رہی ہے بڑے چین سے اور غم ہوں تو حقیقت بھی عطا کیجیے کوئی دھوکہ نہ کھا جائے میری طرح ایسے کھل کے نہ سب سے ملا کیجیے عقل و دل اپنی اپنی کہیں جب خمار عقل کی سنیے دل کا کہا کیجیے
Khumar Barabankvi
1 likes
وہ سوا یاد آئے بھلانے کے بعد زندگی بڑھ گئی زہر خانے کے بعد دل سلگتا رہا آشیانے کے بعد آگ ٹھنڈی ہوئی اک زمانے کے بعد روشنی کے لیے دل جلانا پڑا ایسی میسج جھکائیں تیرے جانے کے بعد جب نہ کچھ بن پڑا عرض غم کا جواب وہ خفا ہو گئے مسکرانے کے بعد دشمنوں سے پشیمان ہونا پڑا دوستوں کا خلوص آزمانے کے بعد رنج حد سے گزر کے خوشی بن گیا ہو گئے پار ہم ڈوب جانے کے بعد بخش دے یا رب اہل ہوس کو مکیں مجھ کو کیا چاہیے تجھ کو پانے کے بعد کیسے کیسے گلے یاد آئے خمار ان کے آنے سے قبل ان کے جانے کے بعد
Khumar Barabankvi
2 likes
تو چاہیے لگ تیری وفا چاہیے مجھے کچھ بھی لگ تری غم کے سوا چاہیے مجھے مرنے سے پہلے شکل ہی اک بار دیکھ لوں اے موت زندگی کا پتا چاہیے مجھے یا رب معاف کر کے لگ دے کرب انفعل ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے خطائیں کی ہیں سزا چاہیے مجھے خموشی حیات سے اکتا گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب چاہے دل ہی ٹوٹے صدا چاہیے مجھے ان مست مست آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو انتقامن غضب یہ عشق ہے تو قہر خدا چاہیے مجھے ناصح نصیحتوں کا زما لگ گزر گیا تو اب پیاری صرف تیری دعا چاہیے مجھے ہر درد کو دوا کی ضرورت ہے اے خمار جو درد خود ہوں اپنی دوا چاہیے مجھے
Khumar Barabankvi
2 likes
کیا ہوا حسن ہے ہم سفر یا نہیں عشق منزل ہی منزل ہے رستہ نہیں دو پرندے اڑے آنکھ نمہ ہوں گئی آج سمجھا کہ ہے وہ ہے وہ تجھ کو بھولا نہیں ترک مے کو ابھی دن ہی کتنے ہوئے کچھ کہا مے کو زاہد تو اچھا لگ ہر نظر مری بن جاتی زنجیر پا ا سے نے جاتے ہوئے مڑ کے دیکھا نہیں چھوڑ بھی دے میرا ساتھ اے زندگی مجھ کو تجھ سے ندامت ہے شکوہ نہیں تو نے توبہ تو کر لی م گر اے خمار تجھ کو رحمت پہ شاید بھروسا نہیں
Khumar Barabankvi
6 likes
حقیقت جو آئی حیات یاد آئی بھولی بسری سی بات یاد آئی کہ حال دل ان سے کہکے جب لوٹے ان سے کہنے کی بات یاد آئی آپنے دن بنا دیا تھا جسے زندگی بھر حقیقت رات یاد آئی تری در سے اٹھے ہی تھے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تنگی کائنات یاد آئی
Khumar Barabankvi
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Khumar Barabankvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Khumar Barabankvi's ghazal.







