ghazalKuch Alfaaz

گھر بنانا بہت ضروری ہے قیدخانہ بہت ضروری ہے پھول کھلنے سے پھل اترتے ہیں مسکرانا بہت ضروری ہے محفلیں بے سبب نہیں جمتی ایک فسانہ بہت ضروری ہے اب کے دروازہ خود سجایا ہے تیرا آنا بہت ضروری ہے آ سماں ہے وہ ہے وہ زمین والو کا اک ہری بہت ضروری ہے اب کے حقیقت بے سبب ہی روٹھا ہے اب منانا بہت ضروری ہے کتنے زندہ ہیں ہم پتا تو چلا زہر خانہ بہت ضروری ہے سر اٹھانے کے واسطے فہمی سر جھکانا بہت ضروری ہے

Related Ghazal

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں

Tehzeeb Hafi

268 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

More from Fahmi Badayuni

صحراؤں نے مانگا پانی دریاؤں پر برسا پانی امنگوں کمزور نہیں تھیں دیواروں سے آیا پانی آخر ک سے ک سے نیم کی جڑ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کب تک ڈالیں میٹھا پانی چھت کا حال بتا دیتا ہے پرنالے سے گرتا پانی فکر و مسائل یاد جاناں گرم ہوائیں ٹھنڈا پانی پیاسے بچے کھیل رہے ہیں مچھلی مچھلی کتنا پانی

Fahmi Badayuni

11 likes

چارسازوں کے ب سے کی بات نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دواؤں کے ب سے کی بات نہیں چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ دیمکوں سے نجات جو کتابوں کے ب سے کی بات نہیں تیری خوشبو کو قید ہے وہ ہے وہ رکھنا عطر دانوں کے ب سے کی بات نہیں ختم کر دے عذاب قبروں کا تاج محلوں کے ب سے کی بات نہیں آنسوؤں ہے وہ ہے وہ جو جھلملاہٹ ہے حقیقت ستاروں کے ب سے کی بات نہیں ایسا لگتا ہے اب تیرا دیدار صرف آنکھوں کے ب سے کی بات نہیں

Fahmi Badayuni

30 likes

پرندے سہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اڑ رہے ہیں برابر ہے وہ ہے وہ فرشتے اڑ رہے ہیں خوشی سے کب یہ تنکے اڑ رہے ہیں ہوا کے ڈر کے مارے اڑ رہے ہیں کہیں کوئی کماں طعنہ ہوئے ہے کبوتر آڑے ترچھے اڑ رہے ہیں تمہارا خط ہوا ہے وہ ہے وہ اڑ رہا ہے تعاقب ہے وہ ہے وہ لفافے اڑ رہے ہیں بہت کہتی رہی آندھی سے چڑیا کہ پہلی بار بچے اڑ رہے ہیں شجر کے سبز پتوں کی ہوا سے فضا ہے وہ ہے وہ خشک پتے اڑ رہے ہیں

Fahmi Badayuni

13 likes

حقیقت کہی تھا کہی دکھائی دیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج ہاں تھا وہیں دکھائی دیا خواب ہے وہ ہے وہ اک حسین دکھائی دیا حقیقت بھی پردہ نشین دکھائی دیا جب تلک تو نہیں دکھائی دیا گھر کہی کا کہی دکھائی دیا روز چہرے نے آئینے بدلے جو نہیں تھا نہیں دکھائی دیا بد مزہ کیوں ہیں آ سماں والے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھا ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ دکھائی دیا ا سے کو لے کر چلی گئی گاڑی پھروں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ نہیں دکھائی دیا

Fahmi Badayuni

13 likes

دل جب خالی ہوں جاتا ہے اور بھی بھاری ہوں جاتا ہے جب تو ساقی ہوں جاتا ہے عشق شرابی ہوں جاتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب تک کچھ طے کرتا ہوں سب کچھ ماضی ہوں جاتا ہے ا سے کے چھوتے ہی قسمت کا تالا چابی ہوں جاتا ہے پہلے تو کافی ہوتا تھا اب ناکافی ہوں جاتا ہے

Fahmi Badayuni

29 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Fahmi Badayuni.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Fahmi Badayuni's ghazal.