وہ سوا یاد آئے بھلانے کے بعد زندگی بڑھ گئی زہر خانے کے بعد دل سلگتا رہا آشیانے کے بعد آگ ٹھنڈی ہوئی اک زمانے کے بعد روشنی کے لیے دل جلانا پڑا ایسی میسج جھکائیں تیرے جانے کے بعد جب نہ کچھ بن پڑا عرض غم کا جواب وہ خفا ہو گئے مسکرانے کے بعد دشمنوں سے پشیمان ہونا پڑا دوستوں کا خلوص آزمانے کے بعد رنج حد سے گزر کے خوشی بن گیا ہو گئے پار ہم ڈوب جانے کے بعد بخش دے یا رب اہل ہوس کو مکیں مجھ کو کیا چاہیے تجھ کو پانے کے بعد کیسے کیسے گلے یاد آئے خمار ان کے آنے سے قبل ان کے جانے کے بعد
Related Ghazal
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
ا سے طرح سے لگ آزماؤ مجھے ا سے کی تصویر مت دکھاؤ مجھے عین ممکن ہے ہے وہ ہے وہ پلٹ آؤں ا سے کی آواز ہے وہ ہے وہ بلاؤ مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بولا تھا یاد مت آنا جھوٹ بولا تھا یاد آؤ مجھے
Ali Zaryoun
64 likes
More from Khumar Barabankvi
हम उन्हें वो हमें भुला बैठे दो गुनहगार ज़हर खा बैठे हाल-ए-ग़म कह के ग़म बढ़ा बैठे तीर मारे थे तीर खा बैठे आँधियो जाओ अब करो आराम हम ख़ुद अपना दिया बुझा बैठे जी तो हल्का हुआ मगर यारो रो के हम लुत्फ़-ए-ग़म गँवा बैठे बे-सहारों का हौसला ही क्या घर में घबराए दर पे आ बैठे जब से बिछड़े वो मुस्कुराए न हम सब ने छेड़ा तो लब हिला बैठे हम रहे मुब्तला-ए-दैर-ओ-हरम वो दबे पाँव दिल में आ बैठे उठ के इक बे-वफ़ा ने दे दी जान रह गए सारे बा-वफ़ा बैठे हश्र का दिन अभी है दूर 'ख़ुमार' आप क्यूँँ ज़ाहिदों में जा बैठे
Khumar Barabankvi
8 likes
حسن جب مہرباں ہوں تو کیا کیجیے عشق کے مغفرت کی دعا کیجیے ا سے سلیقے سے ان سے گلہ کیجیے جب گلہ کیجیے ہن سے دیا کیجیے دوسروں پر اگر تبصرہ کیجیے سامنے آئینہ رکھ لیا کیجیے آپ سکھ سے ہیں ترک تعلق کے بعد اتنی جلدی نہ یہ فیصلہ کیجیے زندگی کٹ رہی ہے بڑے چین سے اور غم ہوں تو حقیقت بھی عطا کیجیے کوئی دھوکہ نہ کھا جائے میری طرح ایسے کھل کے نہ سب سے ملا کیجیے عقل و دل اپنی اپنی کہیں جب خمار عقل کی سنیے دل کا کہا کیجیے
Khumar Barabankvi
1 likes
تو چاہیے لگ تیری وفا چاہیے مجھے کچھ بھی لگ تری غم کے سوا چاہیے مجھے مرنے سے پہلے شکل ہی اک بار دیکھ لوں اے موت زندگی کا پتا چاہیے مجھے یا رب معاف کر کے لگ دے کرب انفعل ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے خطائیں کی ہیں سزا چاہیے مجھے خموشی حیات سے اکتا گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب چاہے دل ہی ٹوٹے صدا چاہیے مجھے ان مست مست آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو انتقامن غضب یہ عشق ہے تو قہر خدا چاہیے مجھے ناصح نصیحتوں کا زما لگ گزر گیا تو اب پیاری صرف تیری دعا چاہیے مجھے ہر درد کو دوا کی ضرورت ہے اے خمار جو درد خود ہوں اپنی دوا چاہیے مجھے
Khumar Barabankvi
2 likes
کیا ہوا حسن ہے ہم سفر یا نہیں عشق منزل ہی منزل ہے رستہ نہیں دو پرندے اڑے آنکھ نمہ ہوں گئی آج سمجھا کہ ہے وہ ہے وہ تجھ کو بھولا نہیں ترک مے کو ابھی دن ہی کتنے ہوئے کچھ کہا مے کو زاہد تو اچھا لگ ہر نظر مری بن جاتی زنجیر پا ا سے نے جاتے ہوئے مڑ کے دیکھا نہیں چھوڑ بھی دے میرا ساتھ اے زندگی مجھ کو تجھ سے ندامت ہے شکوہ نہیں تو نے توبہ تو کر لی م گر اے خمار تجھ کو رحمت پہ شاید بھروسا نہیں
Khumar Barabankvi
6 likes
حقیقت جو آئی حیات یاد آئی بھولی بسری سی بات یاد آئی کہ حال دل ان سے کہکے جب لوٹے ان سے کہنے کی بات یاد آئی آپنے دن بنا دیا تھا جسے زندگی بھر حقیقت رات یاد آئی تری در سے اٹھے ہی تھے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تنگی کائنات یاد آئی
Khumar Barabankvi
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Khumar Barabankvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Khumar Barabankvi's ghazal.







