تری آگے سرکشی دکھلاؤں گا تو تو جو کہ دے وہی بن جاؤں گا اے زبوری پھول اے نیلے گلاب مت خفا ہوں ہے وہ ہے وہ دوبارہ آؤںگا سات صدیاں سات راتیں سات دن اک پہیلی ہے کسے سمجھاؤں گا یار ہوں جائے صحیح تجھ سے مجھے تری قبضے سے تجھے چھڑواؤں گا جاناں بے حد معصوم لڑکی ہوں تمہیں نجم بھیجوں گا دعا پہناؤں گا کوئی دریا ہے لگ جنگل اور لگ باغ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ی ہاں بلکل نہیں رہ پاؤں گا یاد کرواؤں گا تجھ کو تری زخم تیری ساری نعمتیں گنواؤں گا کھڑکیاں ا سے کے لیے مشکل لگ ہوں مجھ سے مت کہنا ہے وہ ہے وہ یہ کر جاؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ علی زریون ہوں کافی ہے یہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ظفر اقبال کیوں بن جاؤں گا
Related Ghazal
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
173 likes
More from Ali Zaryoun
ادا عشق ہوں پوری انا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود اپنے ساتھ ہوں زبان خدا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجاوران ہوں سے تنگ ہیں کہ یوں کیسے بغیر شرم و حیا بھی حیا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سفر شروع تو ہونے دے اپنے ساتھ میرا تو خود کہےگا یہ کیسی بلا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھو گیا تو تو ترا رنگ کاٹ ڈالوں گا سو اپنے آپ سے تجھ کو بچا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ درود بر دل وحشی سلام بر تب عشق خود اپنی حمد خود اپنی ثنا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہی تو فرق ہے مری اور ان کے حل کے بیچ شکایتیں ہیں ا نہیں اور رضا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اولین کی عزت ہے وہ ہے وہ آخریں کا نور حقیقت انتہا ہوں کہ ہر ابتدا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دکھائی دوں بھی تو کیسے سنائی دوں بھی تو کیوں ورا نقش و نوا ہوں فنا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بحکم یار لویں قبض کرنے آتی ہے بجھا رہی ہے بجھائے ہوا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ صابریں محبت یہ کاشفین جنوں انہی کے سن
Ali Zaryoun
5 likes
تور سینا ہے سر کروگے میاں اپنے اندر سفر کروگے میاں جاناں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ روز یاد کرتے ہوں پھروں تو جاناں عمر بھر کروگے میاں حقیقت جو اک لفظ مر گیا تو ہے اس کا کا کو کس کی خبر کروگے میاں اور دل درویش ایک مدی لگ ہے جاناں مدینے ہے وہ ہے وہ سیر کروگے میاں
Ali Zaryoun
6 likes
اک ہجرت کی آوازوں کا کوئی بین سنے دروازوں کا زکریا پیڑوں کی مت سن یہ جنگل ہے خمیا زوں کا تری سر ہے وہ ہے وہ سوز نہیں پیاری تو اہل نہیں مری سازوں کا اوروں کو صلاحیں دیتا ہے کوئی ڈسا ہوا اندازوں کا میرا نخرا کرنا بنتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ غازی ہوں تری گازوں کا اک ریڑھی والا منکر ہے تری توپوں اور جہازوں کا
Ali Zaryoun
15 likes
ساز تیار کر رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور خبردار کر رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو شاید برا لگے لیکن دیکھ کے پیار کر رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں نہیں چاہیے یہ تاج اور تخت صاف انکار کر رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی جا کر اسے بتا تو دے جس کا کردار کر رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج سے خود کو تیری حالت سے دستبردار کر رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دو ج ہاں مجھ کو مل رہے ہیں م گر تجھ پر اصرار کر رہا ہوں ہے وہ ہے وہ
Ali Zaryoun
8 likes
آج بھی تنگی کی قسمت ہے وہ ہے وہ ہے وہ سم قاتل ہے سلسبیل نہیں سب خدا کے وکیل ہیں لیکن آدمی کا کوئی وکیل نہیں ہے کشادہ ازل سے رو زمین حرم و دیر بے فسیل نہیں زندگی اپنے روگ سے ہے تباہ اور درماں کی کچھ سبیل نہیں جاناں بے حد جاذب و جمیل صحیح زندگی جاذب و جمیل نہیں لگ کروں بحث ہار جاوگی حسن اتنی بڑی دلیل نہیں
Ali Zaryoun
7 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ali Zaryoun.
Similar Moods
More moods that pair well with Ali Zaryoun's ghazal.







