ghazalKuch Alfaaz

اک ہجرت کی آوازوں کا کوئی بین سنے دروازوں کا زکریا پیڑوں کی مت سن یہ جنگل ہے خمیا زوں کا تری سر ہے وہ ہے وہ سوز نہیں پیاری تو اہل نہیں مری سازوں کا اوروں کو صلاحیں دیتا ہے کوئی ڈسا ہوا اندازوں کا میرا نخرا کرنا بنتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ غازی ہوں تری گازوں کا اک ریڑھی والا منکر ہے تری توپوں اور جہازوں کا

Ali Zaryoun15 Likes

Related Ghazal

خالی بیٹھے ہوں تو اک کام میرا کر دو نا مجھ کو اچھا سا کوئی زخم ادا کر دو نا دھیان سے پنچھیوں کو دیتے ہوں دا لگ پانی اتنے اچھے ہوں تو پنجرے سے رہا کر دو نا جب قریب آ ہی گئے ہوں تو اداسی کیسی جب دیا دے ہی رہے ہوں تو جلا کر دو نا

Zubair Ali Tabish

102 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

Rahat Indori

102 likes

کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے جانے کیسے لوگ حقیقت ہوں گے جو ا سے کو بھاتے ہوں گے شام ہوئے خوش باش ی ہاں کے مری پا سے آ جاتے ہیں مری بجھنے کا نہظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے حقیقت جو لگ آنے والا ہے نا ا سے سے مجھ کو زار تھا آنے والوں سے کیا زار آتے ہیں آتے ہوں گے ا سے کی یاد کی باد صبا ہے وہ ہے وہ اور تو کیا ہوتا ہوگا یوںہی مری بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے یاروں کچھ تو ذکر کروں جاناں ا سے کی خوشگوار بان ہوں کا حقیقت جو سمٹتے ہوں گے ان ہے وہ ہے وہ حقیقت تو مر جاتے ہوں گے میرا سان سے اکھڑتے ہی سب بین کریںگے روئیںگے زبان مری بعد بھی زبان سان سے لیے جاتے ہوں گے

Jaun Elia

88 likes

ا سے کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ جو خنجر ہے زیادہ تیز ہے اور پھروں بچپن سے ہی ا سے کا نشا لگ تیز ہے جب کبھی ا سے پار جانے کا خیال آتا مجھے کوئی آہستہ سے کہتا تھا کی دریا تیز ہے آج ملنا تھا بچھڑ جانے کی نیت سے ہمیں آج بھی حقیقت دیر سے پہنچا ہے کتنا تیز ہے اپنا سب کچھ ہار کے لوٹ آئی ہوں لگ مری پا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہیں کہتا بھی رہتا کی دنیا تیز ہے آج ا سے کے گال چومے ہیں تو اندازہ ہوا چائے اچھی ہے م گر تھوڑا سا میٹھا تیز ہے

Tehzeeb Hafi

220 likes

More from Ali Zaryoun

چپ چاپ کیوں گلزار جناں ہوں کوئی بات تو کروں حل بھی نکالتے ہیں ملاقات تو کروں خالی ہوا ہے وہ ہے وہ اڑنا فقیری نہیں میاں دل جوڑ کے دکھاؤ کرامات تو کروں کھیتوں کو کھا گئی ہے یہ شہریلی بستیاں صاحب علاج رنج مضافات تو کروں

Ali Zaryoun

15 likes

ادا عشق ہوں پوری انا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود اپنے ساتھ ہوں زبان خدا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجاوران ہوں سے تنگ ہیں کہ یوں کیسے بغیر شرم و حیا بھی حیا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سفر شروع تو ہونے دے اپنے ساتھ میرا تو خود کہےگا یہ کیسی بلا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھو گیا تو تو ترا رنگ کاٹ ڈالوں گا سو اپنے آپ سے تجھ کو بچا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ درود بر دل وحشی سلام بر تب عشق خود اپنی حمد خود اپنی ثنا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہی تو فرق ہے مری اور ان کے حل کے بیچ شکایتیں ہیں ا نہیں اور رضا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اولین کی عزت ہے وہ ہے وہ آخریں کا نور حقیقت انتہا ہوں کہ ہر ابتدا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دکھائی دوں بھی تو کیسے سنائی دوں بھی تو کیوں ورا نقش و نوا ہوں فنا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بحکم یار لویں قبض کرنے آتی ہے بجھا رہی ہے بجھائے ہوا کے ساتھ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ صابریں محبت یہ کاشفین جنوں انہی کے سن

Ali Zaryoun

5 likes

ख़्वाब का ख़्वाब हक़ीक़त की हक़ीक़त समझें ये समझना है तो फिर पहले तरीक़त समझें मैं जवाबन भी जिन्हें गाली नहीं देता वो लोग मेरी जानिब से इसे ख़ास मोहब्बत समझें मैं तो मर कर भी न बेचूँगा कभी यार का नाम आप ताजिर हैं नुमाइश को इबादत समझें मैं किसी बीच के रस्ते से नहीं पहुँचा यहाँ हासिदों से ये गुज़ारिश है रियाज़त समझें मेरा बे-साख़्ता-पन उन के लिए ख़तरा है साख़्ता लोग मुझे क्यूँँ न मुसीबत समझें फेसबुक वक़्त अगर दे तो ये प्यारे बच्चे अपने ख़ामोश बुज़ुर्गों की शिकायत समझें पेश करता हूँ मैं ख़ुद अपनी गिरफ़्तारी 'अली' उन से कहना कि मुझे ज़ेर-ए-हिरासत समझें

Ali Zaryoun

14 likes

پہلے پہل لڑینگے تمسخر اڑائیں گے جب عشق دیکھ لیںگے تو سر پر بٹھائیں گے تو تو پھروں اپنی جان ہے تیرا تو ذکر کیا ہم تری دوستوں کے بھی نخرے اٹھائیںگے تاکتے نے عشق کو جو دماغی خلل کہا چھوڑیں یہ رمز آپ نہیں جان پائیں گے پرکھیں گے ایک ایک کو لے کر تمہارا نام دشمن ہے کون دوست ہے پہچان جائیں گے قبلہ کبھی تو تازہ سخن بھی کریں عطا یہ چار پانچ غزلیں ہی کب تک سنائیں گے آگے تو آنے دیجیے رستہ تو چھوڑیے ہم کون ہیں یہ سامنے آ کر بتائیں گے یہ اہتمام اور کسی کے لیے نہیں طع لگ تمہارے نام کے ہم پر ہی آئیں گے

Ali Zaryoun

18 likes

لہجے ہے وہ ہے وہ خنک بات ہے وہ ہے وہ دم ہے تو کرم ہے گردن در حیدر پہ جو خم ہے تو کرم ہے مت سوچ کہ ا سے گھر پہ کرم ہے تو الم ہے در اصل تری گھر پہ الم ہے تو کرم ہے بستر پہ کمر تراش ٹھیک نہیں لگتی تو خوش ہوں خوراک بھی اے یار جو کم ہے تو کرم ہے بے نسبت و بے عشق ک ہاں ملتی ہے عزت مجھ پہ مری مولا کا کرم ہے تو کرم ہے منکر کی جلن ہی ہے وہ ہے وہ تو مومن کا مزہ ہے گر طع لگ و تشنی و ستم ہے تو کرم ہے اب جب کے کوئی حال بھی کیوں پوچھے کسی کا اک آنکھ مری واسطے نمہ ہے تو کرم ہے اب جب کے کوئی آنکھ نہیں رکتی کسی پر جو کوئی ج ہاں جس کا صنم ہے تو کرم ہے مدحت کا مزہ بھی ہوں تغزل کی ادا بھی کچھ ایسا سخن تجھ کو بہم ہے تو کرم ہے اندھیرا سے غزل سازوں کے ہوتے ہوئے ذریعون تھوڑا سا ا گر تیرا بھرم ہے تو کرم ہے

Ali Zaryoun

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ali Zaryoun.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ali Zaryoun's ghazal.