ghazalKuch Alfaaz

کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے جانے کیسے لوگ حقیقت ہوں گے جو ا سے کو بھاتے ہوں گے شام ہوئے خوش باش ی ہاں کے مری پا سے آ جاتے ہیں مری بجھنے کا نہظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے حقیقت جو لگ آنے والا ہے نا ا سے سے مجھ کو زار تھا آنے والوں سے کیا زار آتے ہیں آتے ہوں گے ا سے کی یاد کی باد صبا ہے وہ ہے وہ اور تو کیا ہوتا ہوگا یوںہی مری بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے یاروں کچھ تو ذکر کروں جاناں ا سے کی خوشگوار بان ہوں کا حقیقت جو سمٹتے ہوں گے ان ہے وہ ہے وہ حقیقت تو مر جاتے ہوں گے میرا سان سے اکھڑتے ہی سب بین کریںگے روئیںگے زبان مری بعد بھی زبان سان سے لیے جاتے ہوں گے

Jaun Elia88 Likes

Related Ghazal

حقیقت زما لگ گزر گیا تو کب کا تھا جو دیوا لگ مر گیا تو کب کا ڈھونڈتا تھا جو اک نئی دنیا لوٹ کے اپنے گھر گیا تو کب کا حقیقت جو لایا تھا ہم کو دریا تک پار اکیلے اتر گیا تو کب کا ا سے کا جو حال ہے وہی جانے اپنا تو زخم بھر گیا تو کب کا خواب در خواب تھا جو شیرازہ اب ک ہاں ہے بکھر گیا تو کب کا

Javed Akhtar

62 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

کوئی اتنا پیارا کیسے ہوں سکتا ہے پھروں سارے کا سارا کیسے ہوں سکتا ہے کیسے کسی کی یاد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندہ رکھتی ہے ایک خیال سہارا کیسے ہوں سکتا ہے تجھ سے جب مل کر بھی اداسی کم نہیں ہوتی تری بغیر گزارا کیسے ہوں سکتا ہے یار ہوا سے کیسے آگ بھڑک اٹھتی ہے لفظ کوئی انگارا کیسے ہوں سکتا ہے کون زمانے بھر کی ٹھوکریں کھا کر خوش ہے درد کسی کو پیارا کیسے ہوں سکتا ہے ہم بھی کیسے ایک ہی بے وجہ کے ہوں کر رہ جائیں حقیقت بھی صرف ہمارا کیسے ہوں سکتا ہے کیسے ہوں سکتا ہے جو کچھ بھی ہے وہ ہے وہ چا ہوں بول نا مری یارا کیسے ہوں سکتا ہے

Jawwad Sheikh

39 likes

مہینوں بعد دفترون آ رہے ہیں ہم ایک صدمے سے باہر آ رہے ہیں تیری با ہوں سے دل اکتا گیا تو ہیں اب ا سے جھولے ہے وہ ہے وہ چکر آ رہے ہیں ک ہاں سویا ہے چوکیدار میرا یہ کیسے لوگ اندر آ رہے ہیں سمندر کر چکا تسلیم ہم کو خزانے خود ہی اوپر آ رہے ہیں یہی ایک دن بچا تھا دیکھنے کو اسے ب سے ہے وہ ہے وہ بٹھا کر آ رہے ہیں

Tehzeeb Hafi

116 likes

More from Jaun Elia

کوئی حالت نہیں یہ حالت ہے یہ تو آشوب ناک صورت ہے صورت آشنا ہے وہ ہے وہ یہ مری خموشی بردباری نہیں ہے وحشت ہے تجھ سے یہ گاہ گاہ کا شکوہ جب تلک ہے بسا غنیمت ہے خواہشیں دل کا ساتھ چھوڑ گئیں یہ اذیت بڑی اذیت ہے لوگ مصروف جانتے ہیں مجھے یاں میرا غم ہی مری فرصت ہے طنز پیرایہ تبسم ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے تکلف کی کیا ضرورت ہے ہم نے دیکھا تو ہم نے یہ دیکھا جو نہیں ہے حقیقت خوبصورت ہے وار کرنے کو چشم بد بین آئیں یہ تو ایثار ہے عنایت ہے گرم جوشی اور ا سے دودمان کیا بات کیا تمہیں مجھ سے کچھ شکایت ہے اب نکل آؤ اپنے اندر سے گھر ہے وہ ہے وہ سامان کی ضرورت ہے آج کا دن بھی عیش سے گزرا سر سے پا تک بدن سلامت ہے

Jaun Elia

14 likes

اپنی منزل کا راستہ بھیجو جان ہم کو و ہاں بلا بھیجو کیا ہمارا نہیں رہا ساون زلف یاں بھی کوئی گھٹا بھیجو نئی مصروف جو اب کھیلی ہیں و ہاں ان کی خوشبو کو اک ذرا بھیجو ہم لگ جیتے ہیں اور لگ مرتے ہیں درد بھیجو لگ جاناں دوا بھیجو دھول اڑتی ہے جو ا سے آنگن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کو بھیجو صبا صبا بھیجو اے فقیرو گلی کے ا سے گل کی جاناں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی خاک پا بھیجو شفقت شام ہجر کے ہاتھوں اپنی اتری ہوئی قباء بھیجو کچھ تو رشتہ ہے جاناں سے کم بختوں کچھ نہیں کوئی بد دعا بھیجو

Jaun Elia

13 likes

اپنی منزل کا راستہ بھیجو جان ہم کو و ہاں بلا بھیجو کیا ہمارا نہیں رہا ساون زلف یاں بھی کوئی گھٹا بھیجو نئی مصروف جو اب کھیلی ہیں و ہاں ان کی خوشبو کو اک ذرا بھیجو ہم لگ جیتے ہیں اور لگ مرتے ہیں درد بھیجو لگ جاناں دوا بھیجو دھول اڑتی ہے جو ا سے آنگن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کو بھیجو صبا صبا بھیجو اے فقیرو گلی کے ا سے گل کی جاناں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی خاک پا بھیجو شفقت شام ہجر کے ہاتھوں اپنی اتری ہوئی قباء بھیجو کچھ تو رشتہ ہے جاناں سے کم بختوں کچھ نہیں کوئی بد دعا بھیجو

Jaun Elia

29 likes

کوئی دم بھی ہے وہ ہے وہ کب اندر رہا ہوں لیے ہیں سان سے اور باہر رہا ہوں دھوئیں ہے وہ ہے وہ سان سے ہیں سانسوں ہے وہ ہے وہ پل ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ روشن دان تک ب سے مر رہا ہوں فنا ہر دم مجھے گنتی رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک دم کا تھا اور دن بھر رہا ہوں ذرا اک سان سے روکا تو لگا یوں کہ اتنی دیر اپنے گھر رہا ہوں بجز اپنے میسر ہے مجھے کیا سو خود سے اپنی جیبیں بھر رہا ہوں ہمیشہ زخم پہنچے ہیں مجھہی کو ہمیشہ ہے وہ ہے وہ پ سے لشکر رہا ہوں لٹا دے نیند کے بستر پہ اے رات ہے وہ ہے وہ ہے وہ دن بھر اپنی پلکوں پر رہا ہوں

Jaun Elia

19 likes

ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو ا سے زخم ہی کو بھول گیا تو وجہ وابستگی ہم سفر رہ کر اجنبی اجنبی کو بھول گیا تو صبح تک وجہ جاں کنی تھی جو بات ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسے شام ہی کو بھول گیا تو خواب ہا خواب گزاری کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ رنگ ہا رنگ کو بھول گیا تو کیوں لگ ہوں ناز ا سے ذہانت پر ایک ہے وہ ہے وہ ہر کسی کو بھول گیا تو سب دلیلیں تو مجھ کو یاد رہیں بحث کیا تھی اسی کو بھول گیا تو سب سے پر امن واقعہ یہ ہے آدمی آدمی کو بھول گیا تو قہقہہ مارتے ہی دیوا لگ ہر غم زندگی کو بھول گیا تو خواب ہا خواب ج سے کو چاہا تھا اندھیرا اسی کو بھول گیا تو کیا خوشگوار ہوئی ا گر اک بے وجہ اپنی خوش قسمتی کو بھول گیا تو سوچ کر ا سے کی خلوت انجمنی واں ہے وہ ہے وہ اپنی کمی کو بھول گیا تو سب برے مجھ کو یاد رہتے ہیں جو بھلا تھا اسی کو بھول گیا تو ان سے وعدہ تو کر لیا لیکن اپنی کم فرستی کو بھول گیا تو بستیوں اب تو راستہ دے دو اب تو ہے وہ ہے وہ ا سے گلی کو بھول گیا تو

Jaun Elia

34 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Jaun Elia.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Jaun Elia's ghazal.