ghazalKuch Alfaaz

کوئی دم بھی ہے وہ ہے وہ کب اندر رہا ہوں لیے ہیں سان سے اور باہر رہا ہوں دھوئیں ہے وہ ہے وہ سان سے ہیں سانسوں ہے وہ ہے وہ پل ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ روشن دان تک ب سے مر رہا ہوں فنا ہر دم مجھے گنتی رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک دم کا تھا اور دن بھر رہا ہوں ذرا اک سان سے روکا تو لگا یوں کہ اتنی دیر اپنے گھر رہا ہوں بجز اپنے میسر ہے مجھے کیا سو خود سے اپنی جیبیں بھر رہا ہوں ہمیشہ زخم پہنچے ہیں مجھہی کو ہمیشہ ہے وہ ہے وہ پ سے لشکر رہا ہوں لٹا دے نیند کے بستر پہ اے رات ہے وہ ہے وہ ہے وہ دن بھر اپنی پلکوں پر رہا ہوں

Jaun Elia19 Likes

Related Ghazal

چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں

Ali Zaryoun

105 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

More from Jaun Elia

تجھ ہے وہ ہے وہ پڑا ہوا ہوں حرکت نہیں ہے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ حالت لگ پوچھ یوں تو حالت نہیں ہے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب تو نظر ہے وہ ہے وہ آ جا بان ہوں کے گھر ہے وہ ہے وہ آ جا اے جان تیری کوئی صورت نہیں ہے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اے رنگ رنگ ہے وہ ہے وہ آ آغوش تنگ ہے وہ ہے وہ آ باتیں ہی رنگ کی ہیں رنگت نہیں ہے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے ہے وہ ہے وہ ہی کسی کی ہوں رو بروئی مجھ کو ہوں خود سے رو برو ہوں ہمت نہیں ہے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب تو سمٹ کے آ جا اور روح ہے وہ ہے وہ سما جا ویسے کسی کی پیاری وسعت نہیں ہے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ شیشے کے ا سے طرف سے ہے وہ ہے وہ سب کو تک رہا ہوں مرنے کی بھی کسی کو فرصت نہیں ہے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں مجھ کو اپنے رم ہے وہ ہے وہ لے جاؤ ساتھ اپنے اپنے سے اے ساعت دیدار وحشت نہیں ہے مجھ ہے وہ ہے وہ

Jaun Elia

21 likes

کوئی حالت نہیں یہ حالت ہے یہ تو آشوب ناک صورت ہے صورت آشنا ہے وہ ہے وہ یہ مری خموشی بردباری نہیں ہے وحشت ہے تجھ سے یہ گاہ گاہ کا شکوہ جب تلک ہے بسا غنیمت ہے خواہشیں دل کا ساتھ چھوڑ گئیں یہ اذیت بڑی اذیت ہے لوگ مصروف جانتے ہیں مجھے یاں میرا غم ہی مری فرصت ہے طنز پیرایہ تبسم ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے تکلف کی کیا ضرورت ہے ہم نے دیکھا تو ہم نے یہ دیکھا جو نہیں ہے حقیقت خوبصورت ہے وار کرنے کو چشم بد بین آئیں یہ تو ایثار ہے عنایت ہے گرم جوشی اور ا سے دودمان کیا بات کیا تمہیں مجھ سے کچھ شکایت ہے اب نکل آؤ اپنے اندر سے گھر ہے وہ ہے وہ سامان کی ضرورت ہے آج کا دن بھی عیش سے گزرا سر سے پا تک بدن سلامت ہے

Jaun Elia

14 likes

اپنی منزل کا راستہ بھیجو جان ہم کو و ہاں بلا بھیجو کیا ہمارا نہیں رہا ساون زلف یاں بھی کوئی گھٹا بھیجو نئی مصروف جو اب کھیلی ہیں و ہاں ان کی خوشبو کو اک ذرا بھیجو ہم لگ جیتے ہیں اور لگ مرتے ہیں درد بھیجو لگ جاناں دوا بھیجو دھول اڑتی ہے جو ا سے آنگن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کو بھیجو صبا صبا بھیجو اے فقیرو گلی کے ا سے گل کی جاناں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی خاک پا بھیجو شفقت شام ہجر کے ہاتھوں اپنی اتری ہوئی قباء بھیجو کچھ تو رشتہ ہے جاناں سے کم بختوں کچھ نہیں کوئی بد دعا بھیجو

Jaun Elia

29 likes

ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو ا سے زخم ہی کو بھول گیا تو وجہ وابستگی ہم سفر رہ کر اجنبی اجنبی کو بھول گیا تو صبح تک وجہ جاں کنی تھی جو بات ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسے شام ہی کو بھول گیا تو خواب ہا خواب گزاری کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ رنگ ہا رنگ کو بھول گیا تو کیوں لگ ہوں ناز ا سے ذہانت پر ایک ہے وہ ہے وہ ہر کسی کو بھول گیا تو سب دلیلیں تو مجھ کو یاد رہیں بحث کیا تھی اسی کو بھول گیا تو سب سے پر امن واقعہ یہ ہے آدمی آدمی کو بھول گیا تو قہقہہ مارتے ہی دیوا لگ ہر غم زندگی کو بھول گیا تو خواب ہا خواب ج سے کو چاہا تھا اندھیرا اسی کو بھول گیا تو کیا خوشگوار ہوئی ا گر اک بے وجہ اپنی خوش قسمتی کو بھول گیا تو سوچ کر ا سے کی خلوت انجمنی واں ہے وہ ہے وہ اپنی کمی کو بھول گیا تو سب برے مجھ کو یاد رہتے ہیں جو بھلا تھا اسی کو بھول گیا تو ان سے وعدہ تو کر لیا لیکن اپنی کم فرستی کو بھول گیا تو بستیوں اب تو راستہ دے دو اب تو ہے وہ ہے وہ ا سے گلی کو بھول گیا تو

Jaun Elia

34 likes

سر ہی اب پھوڑئیے ندامت ہے وہ ہے وہ ہے وہ نیند آنے لگی ہے فرقت ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہیں دلیلیں تری خلاف م گر سوچتا ہوں تری حمایت ہے وہ ہے وہ ہے وہ روح نے عشق کا فریب دیا جسم کو جسم کی ناتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب فقط عادتوں کی ورزش ہے روح شامل نہیں شکایت ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو درمیان لگ لاؤ کہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ چیختا ہوں بدن کی عسرت ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ کچھ آسان تو نہیں ہے کہ ہم روٹھتے اب بھی ہیں مروت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت جو تعمیر ہونے والی تھی لگ گئی آگ ا سے عمارت ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی ک سے طرح بسر ہوں گی دل نہیں لگ رہا محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حاصل کن ہے یہ جہان خراب یہی ممکن تھا اتنی عجلت ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں بنایا خدا نے آدم کو اپنی صورت پہ ایسی صورت ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور پھروں آدمی نے غور کیا چھپکلی کی لطیف صنعت ہے وہ ہے وہ ہے وہ اے خدا جو کہی نہیں موجود کیا لکھا ہے ہماری قسمت ہے وہ ہے وہ

Jaun Elia

32 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Jaun Elia.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Jaun Elia's ghazal.