سر ہی اب پھوڑئیے ندامت ہے وہ ہے وہ ہے وہ نیند آنے لگی ہے فرقت ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہیں دلیلیں تری خلاف م گر سوچتا ہوں تری حمایت ہے وہ ہے وہ ہے وہ روح نے عشق کا فریب دیا جسم کو جسم کی ناتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب فقط عادتوں کی ورزش ہے روح شامل نہیں شکایت ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو درمیان لگ لاؤ کہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ چیختا ہوں بدن کی عسرت ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ کچھ آسان تو نہیں ہے کہ ہم روٹھتے اب بھی ہیں مروت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت جو تعمیر ہونے والی تھی لگ گئی آگ ا سے عمارت ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی ک سے طرح بسر ہوں گی دل نہیں لگ رہا محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حاصل کن ہے یہ جہان خراب یہی ممکن تھا اتنی عجلت ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں بنایا خدا نے آدم کو اپنی صورت پہ ایسی صورت ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور پھروں آدمی نے غور کیا چھپکلی کی لطیف صنعت ہے وہ ہے وہ ہے وہ اے خدا جو کہی نہیں موجود کیا لکھا ہے ہماری قسمت ہے وہ ہے وہ
Related Ghazal
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
More from Jaun Elia
تجھ ہے وہ ہے وہ پڑا ہوا ہوں حرکت نہیں ہے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ حالت لگ پوچھ یوں تو حالت نہیں ہے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب تو نظر ہے وہ ہے وہ آ جا بان ہوں کے گھر ہے وہ ہے وہ آ جا اے جان تیری کوئی صورت نہیں ہے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اے رنگ رنگ ہے وہ ہے وہ آ آغوش تنگ ہے وہ ہے وہ آ باتیں ہی رنگ کی ہیں رنگت نہیں ہے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے ہے وہ ہے وہ ہی کسی کی ہوں رو بروئی مجھ کو ہوں خود سے رو برو ہوں ہمت نہیں ہے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب تو سمٹ کے آ جا اور روح ہے وہ ہے وہ سما جا ویسے کسی کی پیاری وسعت نہیں ہے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ شیشے کے ا سے طرف سے ہے وہ ہے وہ سب کو تک رہا ہوں مرنے کی بھی کسی کو فرصت نہیں ہے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں مجھ کو اپنے رم ہے وہ ہے وہ لے جاؤ ساتھ اپنے اپنے سے اے ساعت دیدار وحشت نہیں ہے مجھ ہے وہ ہے وہ
Jaun Elia
21 likes
اپنی منزل کا راستہ بھیجو جان ہم کو و ہاں بلا بھیجو کیا ہمارا نہیں رہا ساون زلف یاں بھی کوئی گھٹا بھیجو نئی مصروف جو اب کھیلی ہیں و ہاں ان کی خوشبو کو اک ذرا بھیجو ہم لگ جیتے ہیں اور لگ مرتے ہیں درد بھیجو لگ جاناں دوا بھیجو دھول اڑتی ہے جو ا سے آنگن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کو بھیجو صبا صبا بھیجو اے فقیرو گلی کے ا سے گل کی جاناں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی خاک پا بھیجو شفقت شام ہجر کے ہاتھوں اپنی اتری ہوئی قباء بھیجو کچھ تو رشتہ ہے جاناں سے کم بختوں کچھ نہیں کوئی بد دعا بھیجو
Jaun Elia
29 likes
کام کی بات ہے وہ ہے وہ نے کی ہی نہیں یہ میرا طور زندگی ہی نہیں اے امید اے امید نو میدان مجھ سے میت تری اٹھی ہی نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو تھا ا سے گلی کا مست خرام ا سے گلی ہے وہ ہے وہ مری چلی ہی نہیں یہ سنا ہے کہ مری کوچ کے بعد ا سے کی خوشبو کہی بسی ہی نہیں تھی جو اک نقش قدم ادا سے ادا سے صبح حقیقت شاخ سے اڑی ہی نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ اب میرا جی نہیں لگتا اور ستم یہ کہ میرا جی ہی نہیں حقیقت جو رہتی تھی دل باندی ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں حقیقت لڑکی مجھے ملی ہی نہیں جائیے اور خاک اڑائیے آپ اب حقیقت گھر کیا کہ حقیقت گلی ہی نہیں ہاں یہ حقیقت شوق جو نہیں تھا کبھی ہاں یہ حقیقت زندگی جو تھی ہی نہیں
Jaun Elia
15 likes
ک سے سے اظہار مدعا کیجے آپ ملتے نہیں ہیں کیا کیجے ہوں لگ پایا یہ فیصلہ اب تک آپ کیجے تو کیا کیا کیجے آپ تھے ج سے کے چارہ گر حقیقت جواں سخت بیمار ہے دعا کیجے ایک ہی فن تو ہم نے سیکھا ہے ج سے سے م لیے اسے خفا کیجے ہے تقاضا مری طبیعت کا ہر کسی کو چراغ پا کیجے ہے تو بارے یہ عالم اسباب بے سبب سیجیے لگا کیجے آج ہم کیا گلہ کریں ا سے سے گلہ تنگی قبا کیجے نطق ہیوان پر گراں ہے ابھی گفتگو کم سے کم کیا کیجے حضرت زلف غالب افشاں نام اپنا صبا صبا کیجے زندگی کا غضب معاملہ ہے ایک لمحے ہے وہ ہے وہ فیصلہ کیجے مجھ کو عادت ہے روٹھ جانے کی آپ مجھ کو منا لیا کیجے ملتے رہیے اسی تپاک کے ساتھ بے وفائی کی انتہا کیجے کوہکن کو ہے خود کشی خواہش شاہ بانو سے التجا کیجے مجھ سے کہتی تھیں حقیقت شراب آنکھیں آپ حقیقت زہر مت پیا کیجے رنگ ہر رنگ ہے وہ ہے وہ ہے داد طلب خون تھوکوں تو واہ وا کیجے
Jaun Elia
29 likes
سینا کچا رہا ہوں تو کیا چپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر لگ گلہ سروہا لے کوئی ثابت ہوا سکون دل و جاں کہی نہیں رشتوں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ترک تعلقات کوئی مسئلہ نہیں یہ تو حقیقت راستہ ہے کہ ب سے چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے ہے وہ ہے وہ حقیقت دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت لگ دے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب مری خلاف زہر اگلتا پھیرے کوئی اے بے وجہ اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے ہے وہ ہے وہ اپنی انا کا مریض ہوں آخر مری مزاج ہے وہ ہے وہ کیوں دخل دے کوئی اک بے وجہ کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش ا سے زبان دراز کا منا نوچ لے کوئی
Jaun Elia
77 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Jaun Elia.
Similar Moods
More moods that pair well with Jaun Elia's ghazal.







