کام کی بات ہے وہ ہے وہ نے کی ہی نہیں یہ میرا طور زندگی ہی نہیں اے امید اے امید نو میدان مجھ سے میت تری اٹھی ہی نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو تھا ا سے گلی کا مست خرام ا سے گلی ہے وہ ہے وہ مری چلی ہی نہیں یہ سنا ہے کہ مری کوچ کے بعد ا سے کی خوشبو کہی بسی ہی نہیں تھی جو اک نقش قدم ادا سے ادا سے صبح حقیقت شاخ سے اڑی ہی نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ اب میرا جی نہیں لگتا اور ستم یہ کہ میرا جی ہی نہیں حقیقت جو رہتی تھی دل باندی ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں حقیقت لڑکی مجھے ملی ہی نہیں جائیے اور خاک اڑائیے آپ اب حقیقت گھر کیا کہ حقیقت گلی ہی نہیں ہاں یہ حقیقت شوق جو نہیں تھا کبھی ہاں یہ حقیقت زندگی جو تھی ہی نہیں
Related Ghazal
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
More from Jaun Elia
اپنی منزل کا راستہ بھیجو جان ہم کو و ہاں بلا بھیجو کیا ہمارا نہیں رہا ساون زلف یاں بھی کوئی گھٹا بھیجو نئی مصروف جو اب کھیلی ہیں و ہاں ان کی خوشبو کو اک ذرا بھیجو ہم لگ جیتے ہیں اور لگ مرتے ہیں درد بھیجو لگ جاناں دوا بھیجو دھول اڑتی ہے جو ا سے آنگن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کو بھیجو صبا صبا بھیجو اے فقیرو گلی کے ا سے گل کی جاناں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی خاک پا بھیجو شفقت شام ہجر کے ہاتھوں اپنی اتری ہوئی قباء بھیجو کچھ تو رشتہ ہے جاناں سے کم بختوں کچھ نہیں کوئی بد دعا بھیجو
Jaun Elia
13 likes
کوئی حالت نہیں یہ حالت ہے یہ تو آشوب ناک صورت ہے صورت آشنا ہے وہ ہے وہ یہ مری خموشی بردباری نہیں ہے وحشت ہے تجھ سے یہ گاہ گاہ کا شکوہ جب تلک ہے بسا غنیمت ہے خواہشیں دل کا ساتھ چھوڑ گئیں یہ اذیت بڑی اذیت ہے لوگ مصروف جانتے ہیں مجھے یاں میرا غم ہی مری فرصت ہے طنز پیرایہ تبسم ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے تکلف کی کیا ضرورت ہے ہم نے دیکھا تو ہم نے یہ دیکھا جو نہیں ہے حقیقت خوبصورت ہے وار کرنے کو چشم بد بین آئیں یہ تو ایثار ہے عنایت ہے گرم جوشی اور ا سے دودمان کیا بات کیا تمہیں مجھ سے کچھ شکایت ہے اب نکل آؤ اپنے اندر سے گھر ہے وہ ہے وہ سامان کی ضرورت ہے آج کا دن بھی عیش سے گزرا سر سے پا تک بدن سلامت ہے
Jaun Elia
14 likes
کوئی دم بھی ہے وہ ہے وہ کب اندر رہا ہوں لیے ہیں سان سے اور باہر رہا ہوں دھوئیں ہے وہ ہے وہ سان سے ہیں سانسوں ہے وہ ہے وہ پل ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ روشن دان تک ب سے مر رہا ہوں فنا ہر دم مجھے گنتی رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک دم کا تھا اور دن بھر رہا ہوں ذرا اک سان سے روکا تو لگا یوں کہ اتنی دیر اپنے گھر رہا ہوں بجز اپنے میسر ہے مجھے کیا سو خود سے اپنی جیبیں بھر رہا ہوں ہمیشہ زخم پہنچے ہیں مجھہی کو ہمیشہ ہے وہ ہے وہ پ سے لشکر رہا ہوں لٹا دے نیند کے بستر پہ اے رات ہے وہ ہے وہ ہے وہ دن بھر اپنی پلکوں پر رہا ہوں
Jaun Elia
19 likes
ہم جی رہے ہیں کوئی بہانا کیے بغیر ا سے کے بغیر ا سے کی تمنا کیے بغیر امبار ا سے کا پردہ حرمت بنا میاں دیوار تک نہیں گری پردہ کیے بغیر یاراں حقیقت جو ہے میرا مسیحا جان و دل بے حد عزیز ہے مجھے اچھا کیے بغیر ہے وہ ہے وہ ہے وہ بستر خیال پہ ڈیوٹی ہوں ا سے کے پا سے صبح ازل سے کوئی تقاضا کیے بغیر ا سے کا ہے جو بھی کچھ ہے میرا اور ہے وہ ہے وہ م گر حقیقت مجھ کو چاہیے کوئی سودا کیے بغیر یہ زندگی جو ہے اسے معنی بھی چاہیے وعدہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ قبول ہے ایفا کیے بغیر اے قاتلوں کے شہر ب سے اتنی ہی عرض ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں لگ قتل کوئی تماشا کیے بغیر مرشد کے جھوٹ کی تو سزا بے حساب ہے جاناں چھوڑ یوں لگ شہر کو صحرا کیے بغیر ان آنگنوں ہے وہ ہے وہ کتنا سکون و سرور تھا آرائش نظر تری پروا کیے بغیر یاراں خوشا یہ روز و شب دل کہ اب ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سب کچھ ہے خوش گوار بے شرط کیے بغیر گریہ کناں کی فرد ہے وہ ہے وہ اپنا نہیں ہے نام ہم گریہ کن ازل کے ہیں گریہ کیے بغیر آخر ہیں کون لوگ جو بخشی
Jaun Elia
36 likes
اک ہنر ہے جو کر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سب کے دل سے اتر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیسے اپنی ہنسی کو ضبط کروں سن رہا ہوں کہ گھر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا بتاؤں کہ مر نہیں پاتا جیتے جی جب سے مر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب ہے ب سے اپنا سامنا در سانحے ہر کسی سے گزر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ وہی ناز و ادا وہی غمزے سر بسر آپ پر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ غضب الزام ہوں زمانے کا کہ ی ہاں سب کے سر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کبھی خود تک پہنچ نہیں پایا جب کہ واں عمر بھر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے جاناں ملا ہوں ج سے دن سے بے طرح خود سے ڈر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئے جاناں ہے وہ ہے وہ سوگ برپا ہے کہ اچانک سدھر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ
Jaun Elia
51 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Jaun Elia.
Similar Moods
More moods that pair well with Jaun Elia's ghazal.







