تجھ ہے وہ ہے وہ پڑا ہوا ہوں حرکت نہیں ہے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ حالت لگ پوچھ یوں تو حالت نہیں ہے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب تو نظر ہے وہ ہے وہ آ جا بان ہوں کے گھر ہے وہ ہے وہ آ جا اے جان تیری کوئی صورت نہیں ہے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اے رنگ رنگ ہے وہ ہے وہ آ آغوش تنگ ہے وہ ہے وہ آ باتیں ہی رنگ کی ہیں رنگت نہیں ہے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے ہے وہ ہے وہ ہی کسی کی ہوں رو بروئی مجھ کو ہوں خود سے رو برو ہوں ہمت نہیں ہے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب تو سمٹ کے آ جا اور روح ہے وہ ہے وہ سما جا ویسے کسی کی پیاری وسعت نہیں ہے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ شیشے کے ا سے طرف سے ہے وہ ہے وہ سب کو تک رہا ہوں مرنے کی بھی کسی کو فرصت نہیں ہے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں مجھ کو اپنے رم ہے وہ ہے وہ لے جاؤ ساتھ اپنے اپنے سے اے ساعت دیدار وحشت نہیں ہے مجھ ہے وہ ہے وہ
Related Ghazal
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر
Anwar Shaoor
95 likes
ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
Rahat Indori
102 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
More from Jaun Elia
کوئی حالت نہیں یہ حالت ہے یہ تو آشوب ناک صورت ہے صورت آشنا ہے وہ ہے وہ یہ مری خموشی بردباری نہیں ہے وحشت ہے تجھ سے یہ گاہ گاہ کا شکوہ جب تلک ہے بسا غنیمت ہے خواہشیں دل کا ساتھ چھوڑ گئیں یہ اذیت بڑی اذیت ہے لوگ مصروف جانتے ہیں مجھے یاں میرا غم ہی مری فرصت ہے طنز پیرایہ تبسم ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے تکلف کی کیا ضرورت ہے ہم نے دیکھا تو ہم نے یہ دیکھا جو نہیں ہے حقیقت خوبصورت ہے وار کرنے کو چشم بد بین آئیں یہ تو ایثار ہے عنایت ہے گرم جوشی اور ا سے دودمان کیا بات کیا تمہیں مجھ سے کچھ شکایت ہے اب نکل آؤ اپنے اندر سے گھر ہے وہ ہے وہ سامان کی ضرورت ہے آج کا دن بھی عیش سے گزرا سر سے پا تک بدن سلامت ہے
Jaun Elia
14 likes
کوئی دم بھی ہے وہ ہے وہ کب اندر رہا ہوں لیے ہیں سان سے اور باہر رہا ہوں دھوئیں ہے وہ ہے وہ سان سے ہیں سانسوں ہے وہ ہے وہ پل ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ روشن دان تک ب سے مر رہا ہوں فنا ہر دم مجھے گنتی رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک دم کا تھا اور دن بھر رہا ہوں ذرا اک سان سے روکا تو لگا یوں کہ اتنی دیر اپنے گھر رہا ہوں بجز اپنے میسر ہے مجھے کیا سو خود سے اپنی جیبیں بھر رہا ہوں ہمیشہ زخم پہنچے ہیں مجھہی کو ہمیشہ ہے وہ ہے وہ پ سے لشکر رہا ہوں لٹا دے نیند کے بستر پہ اے رات ہے وہ ہے وہ ہے وہ دن بھر اپنی پلکوں پر رہا ہوں
Jaun Elia
19 likes
ایک ہی مجدہ نوید صبح لاتی ہے دھوپ آنگن ہے وہ ہے وہ پھیل جاتی ہے رنگ موسم ہے اور باد صبا شہر کوچوں ہے وہ ہے وہ خاک اڑاتی ہے خو پر کاغذ اڑتے پھرتے ہیں میز پر گرد جمتی جاتی ہے سوچتا ہوں کہ ا سے کی یاد آخر اب کسے رات بھر جگاتی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی اذن نوا گری چا ہوں بے دلی بھی تو لب ہلاتی ہے سو گئے پیڑ جاگ اٹھی خوشبو زندگی خواب کیوں مہ لقا ہے ا سے سرپا وفا کی فرقت ہے وہ ہے وہ ہے وہ خواہش غیر کیوں ستاتی ہے آپ اپنے سے ہم سخن رہنا ہم نشین سان سے پھول جاتی ہے کیا ستم ہے کہ اب تری صورت غور کرنے پہ یاد آتی ہے کون ا سے گھر کی دیکھ بھال کرے روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے
Jaun Elia
32 likes
اپنی منزل کا راستہ بھیجو جان ہم کو و ہاں بلا بھیجو کیا ہمارا نہیں رہا ساون زلف یاں بھی کوئی گھٹا بھیجو نئی مصروف جو اب کھیلی ہیں و ہاں ان کی خوشبو کو اک ذرا بھیجو ہم لگ جیتے ہیں اور لگ مرتے ہیں درد بھیجو لگ جاناں دوا بھیجو دھول اڑتی ہے جو ا سے آنگن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کو بھیجو صبا صبا بھیجو اے فقیرو گلی کے ا سے گل کی جاناں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی خاک پا بھیجو شفقت شام ہجر کے ہاتھوں اپنی اتری ہوئی قباء بھیجو کچھ تو رشتہ ہے جاناں سے کم بختوں کچھ نہیں کوئی بد دعا بھیجو
Jaun Elia
13 likes
ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو ا سے زخم ہی کو بھول گیا تو وجہ وابستگی ہم سفر رہ کر اجنبی اجنبی کو بھول گیا تو صبح تک وجہ جاں کنی تھی جو بات ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسے شام ہی کو بھول گیا تو خواب ہا خواب گزاری کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ رنگ ہا رنگ کو بھول گیا تو کیوں لگ ہوں ناز ا سے ذہانت پر ایک ہے وہ ہے وہ ہر کسی کو بھول گیا تو سب دلیلیں تو مجھ کو یاد رہیں بحث کیا تھی اسی کو بھول گیا تو سب سے پر امن واقعہ یہ ہے آدمی آدمی کو بھول گیا تو قہقہہ مارتے ہی دیوا لگ ہر غم زندگی کو بھول گیا تو خواب ہا خواب ج سے کو چاہا تھا اندھیرا اسی کو بھول گیا تو کیا خوشگوار ہوئی ا گر اک بے وجہ اپنی خوش قسمتی کو بھول گیا تو سوچ کر ا سے کی خلوت انجمنی واں ہے وہ ہے وہ اپنی کمی کو بھول گیا تو سب برے مجھ کو یاد رہتے ہیں جو بھلا تھا اسی کو بھول گیا تو ان سے وعدہ تو کر لیا لیکن اپنی کم فرستی کو بھول گیا تو بستیوں اب تو راستہ دے دو اب تو ہے وہ ہے وہ ا سے گلی کو بھول گیا تو
Jaun Elia
34 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Jaun Elia.
Similar Moods
More moods that pair well with Jaun Elia's ghazal.







