کوئی اتنا پیارا کیسے ہوں سکتا ہے پھروں سارے کا سارا کیسے ہوں سکتا ہے کیسے کسی کی یاد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندہ رکھتی ہے ایک خیال سہارا کیسے ہوں سکتا ہے تجھ سے جب مل کر بھی اداسی کم نہیں ہوتی تری بغیر گزارا کیسے ہوں سکتا ہے یار ہوا سے کیسے آگ بھڑک اٹھتی ہے لفظ کوئی انگارا کیسے ہوں سکتا ہے کون زمانے بھر کی ٹھوکریں کھا کر خوش ہے درد کسی کو پیارا کیسے ہوں سکتا ہے ہم بھی کیسے ایک ہی بے وجہ کے ہوں کر رہ جائیں حقیقت بھی صرف ہمارا کیسے ہوں سکتا ہے کیسے ہوں سکتا ہے جو کچھ بھی ہے وہ ہے وہ چا ہوں بول نا مری یارا کیسے ہوں سکتا ہے
Related Ghazal
کسی لبا سے کی خوشبو جب اڑ کے آتی ہے تری بدن کی جدائی بے حد ستاتی ہے تری گلاب ترستے ہیں تیری خوشبو کو تیری سفید چمیلی تجھے بلاتی ہے تری بغیر مجھے چین کیسے پڑتا ہیں مری بغیر تجھے نیند کیسے آتی ہے
Jaun Elia
113 likes
خالی بیٹھے ہوں تو اک کام میرا کر دو نا مجھ کو اچھا سا کوئی زخم ادا کر دو نا دھیان سے پنچھیوں کو دیتے ہوں دا لگ پانی اتنے اچھے ہوں تو پنجرے سے رہا کر دو نا جب قریب آ ہی گئے ہوں تو اداسی کیسی جب دیا دے ہی رہے ہوں تو جلا کر دو نا
Zubair Ali Tabish
102 likes
ہم نے کب چاہا کہ حقیقت بے وجہ ہمارا ہوں جائے اتنا دکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارا ہوں جائے ہم جسے پا سے بٹھا لیں حقیقت بچھڑ جاتا ہے جاناں جسے ہاتھ لگا دو حقیقت تمہارا ہوں جائے جاناں کو لگتا ہے کہ جاناں جیت گئے ہوں مجھ سے ہے یہی بات تو پھروں کھیل دوبارہ ہوں جائے ہے محبت بھی غضب طرز تجارت کہ ی ہاں ہر دکاں دار یہ چاہے کہ خسارہ ہوں جائے
Yasir Khan
92 likes
ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
Rahat Indori
102 likes
کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے جانے کیسے لوگ حقیقت ہوں گے جو ا سے کو بھاتے ہوں گے شام ہوئے خوش باش ی ہاں کے مری پا سے آ جاتے ہیں مری بجھنے کا نہظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے حقیقت جو لگ آنے والا ہے نا ا سے سے مجھ کو زار تھا آنے والوں سے کیا زار آتے ہیں آتے ہوں گے ا سے کی یاد کی باد صبا ہے وہ ہے وہ اور تو کیا ہوتا ہوگا یوںہی مری بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے یاروں کچھ تو ذکر کروں جاناں ا سے کی خوشگوار بان ہوں کا حقیقت جو سمٹتے ہوں گے ان ہے وہ ہے وہ حقیقت تو مر جاتے ہوں گے میرا سان سے اکھڑتے ہی سب بین کریںگے روئیںگے زبان مری بعد بھی زبان سان سے لیے جاتے ہوں گے
Jaun Elia
88 likes
More from Jawwad Sheikh
ا سے نے کوئی تو دم پڑھا ہوا ہے ج سے نے دیکھا حقیقت مبتلا ہوا ہے اب تری راستے سے بچ نکلوں اک یہی راستہ بچا ہوا ہے آؤ تقریب رو نمائی کریں پاؤں ہے وہ ہے وہ ایک آبلا ہوا ہے پھروں وہی بحث چھیڑ دیتے ہوں اتنی مشکل سے رابطہ ہوا ہے رات کی واردات مت پوچھو واقعی ایک واقعہ ہوا ہے لگ رہا ہے یہ نرم لہجے سے پھروں تجھے کوئی مسئلہ ہوا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک ہاں اور حقیقت فصیل ک ہاں فاصلے کا ہی فیصلہ ہوا ہے اتنا مصروف ہوں گیا تو ہوں کہ ب سے میر بھی اک طرف پڑا ہوا ہے آج کچھ بھی نہیں ہوا جواد ہاں م گر ایک سانحہ ہوا ہے
Jawwad Sheikh
7 likes
غم ج ہاں سے ہے وہ ہے وہ اکتا گیا تو تو کیا ہوگا خود اپنی فکر ہے وہ ہے وہ گھلنے لگا تو کیا ہوگا یہ ناگزیر ہے امید کی نمو کے لیے گزرتا سمے کہی تھم گیا تو تو کیا ہوگا یہی بے حد ہے کہ ہم کو سکون سے جینے دے کسی کے ہاتھوں ہمارا بھلا تو کیا ہوگا یہ لوگ مری خموشی پہ مجھ سے نالاں ہیں کوئی یہ پوچھے ہے وہ ہے وہ گویا ہوا تو کیا ہوگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے لیے بھی بے حد مختلف ہوں لوگوں سے حقیقت سوچتے ہیں کہ ایسا ہوا تو کیا ہوگا جنوں کی راہ غضب ہے کہ پاؤں دھرنے کو زمین تک بھی نہیں نقش پا تو کیا ہوگا یہ ایک خوف بھی مری خوشی ہے وہ ہے وہ شامل ہے ترا بھی دھیان ا گر ہٹ گیا تو تو کیا ہوگا جو ہوں رہا ہے حقیقت ہوتا چلا گیا تو تو پھروں جو ہونے کو ہے وہی ہوں گیا تو تو کیا ہوگا
Jawwad Sheikh
9 likes
سب کو بچاؤ خود بھی بچو فاصلہ رکھو اب اور کچھ کروں لگ کروں فاصلہ رکھو خطرہ تو مفت ہے وہ ہے وہ بھی نہیں لینا چاہیے گھر سے نکل کے مول لگ لو فاصلہ رکھو فیلحال ا سے سے بچنے کا ہے ایک راستہ حقیقت یہ کہ ا سے سے بچ کے رہو فاصلہ رکھو دشمن ہے اور طرح کا جنگ اور طرح کی آگے بڑھو لگ پیچھے ہٹو فاصلہ رکھو
Jawwad Sheikh
7 likes
نہ صحیح عیش گزارا ہی صحیح زبان گر تو نہیں دنیا ہی صحیح چھوڑیے کچھ تو میرا بھی مجھ میں خون کا آخری اللہ ری ہی صحیح غور تو کیجے میری باتوں پر عمر میں آپ سے چھوٹا ہی صحیح رنج ہم نے بھی جدا پائے ہیں آپ دؤی ہیں تو دؤی ہی صحیح میں برا ہوں تو ہوں اب کیا کیجے کوئی اچھا ہے تو اچھا ہی صحیح کس کو سینے سے لگاؤں تیرے بعد جاتے جاتے کوئی دھوکہ ہی صحیح کر کچھ ایسا کہ تجھے یاد رکھوں بھول جانے کا تا کجا ہی صحیح تم پہ کب روک تھی چلتے جاتے میری سوچوں پہ تو پہرہ ہی صحیح وہ کسی طور نہ ہوگا میرا چلو ایسا ہے تو ایسا ہی صحیح سرخ کرنے لگی ہر شے جواد یاد کا رنگ سنہرا ہی صحیح
Jawwad Sheikh
16 likes
جو بھی جینے کے سلسلے کیے تھے ہم نے ب سے آپ کے لیے کیے تھے تب کہی جا کے اپنی مرضی کی پہلے اپنوں سے مشورے کیے تھے کبھی ا سے کی نگہ میسر تھی کیسے کیسے مشاہدے کیے تھے عقل کچھ اور کر کے بیٹھ رہی عشق نے اور فیصلے کیے تھے بات ہم نے سنی ہوئی سنی تھی کام ا سے نے کیے ہوئے کیے تھے اسے بھی ایک خط لکھا گیا تو تھا اپنے آگے بھی آئینے کیے تھے ی ہاں کچھ بھی نہیں ہے مری لیے تو نے کیا کیا مبالغے کیے تھے اول آنے کا شوق تھا لیکن کام سارے ہی دوسرے کیے تھے بڑی مشکل تھی حقیقت گھڑی جواد ہم نے کب ایسے فیصلے کیے تھے
Jawwad Sheikh
14 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Jawwad Sheikh.
Similar Moods
More moods that pair well with Jawwad Sheikh's ghazal.







