ghazalKuch Alfaaz

محبتوں کے سفر پر نکل کے دیکھوں گا یہ پل صراط ا گر ہے تو چل کے دیکھوں گا سوال یہ ہے کہ رفتار ک سے کی کتنی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ آفتاب سے آگے نکل کے دیکھوں گا مزاق اچھا رہے گا یہ چاند تاروں سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج شام سے پہلے ہی ڈھل کے دیکھوں گا حقیقت مری حکم کو پڑنا جان لیتا ہے ا گر یہ سچ ہے تو لہجہ بدل کے دیکھوں گا اجالے بانٹنے والوں پہ کیا گزرتی ہے کسی چراغ کی مانند جل کے دیکھوں گا غضب نہیں کہ وہی روشنی مجھ مل جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے گھر سے کسی دن نکل کے دیکھوں گا

Related Ghazal

ہے وہ ہے وہ نے چاہا تو نہیں تھا کہ کبھی ایسا ہوں لیکن اب ٹھان چکے ہوں تو چلو اچھا ہوں جاناں سے ناراض تو ہے وہ ہے وہ اور کسی بات پہ ہوں جاناں م گر اور کسی خیال و خواب سے شرمندہ ہوں اب کہی جا کے یہ معلوم ہوا ہے مجھ کو ٹھیک رہ جاتا ہے جو بے وجہ تری جیسا ہوں ایسے حالات ہے وہ ہے وہ ہوں بھی کوئی حسا سے تو کیا اور بے ح سے بھی ا گر ہوں تو کوئی کتنا ہوں تاکہ تو سمجھے کہ مردوں کے بھی دکھ ہوتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے چاہا بھی یہی تھا کہ تیرا بیٹا ہوں

Jawwad Sheikh

50 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

سر جھکاؤگے تو پتھر دیوتا ہوں جائےگا اتنا مت چاہو اسے حقیقت بےوفا ہوں جائےگا ہم بھی دریا ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا ہنر معلوم ہے ج سے طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہوں جائےگا کتنی سچائی سے مجھ سے زندگی نے کہ دیا تو نہیں میرا تو کوئی دوسرا ہوں جائےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خدا کا نام لے کر پی رہا ہوں دوستو زہر بھی ا سے ہے وہ ہے وہ ا گر ہوگا دوا ہوں جائےگا سب اسی کے ہیں ہوا خوشبو زمین و آ سماں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج ہاں بھی جاؤں گا ا سے کو پتا ہوں جائےگا

Bashir Badr

43 likes

حقیقت منہ لگاتا ہے جب کوئی کام ہوتا ہے جو اس کا کا ہوتا ہے سمجھو غلام ہوتا ہے کسی کا ہوں کے دوبارہ نہ آنا میری طرف محبتوں ہے وہ ہے وہ حلالہ حرام ہوتا ہے اسے بھی گنتے ہیں ہم لوگ اہل خانہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہمارے یاں تو شجر کا بھی نام ہوتا ہے تجھ ایسے بے وجہ کے ہوتے ہیں ضرب سے دوست بہت تجھ ایسا بے وجہ بہت جلد آم ہوتا ہے کبھی لگی ہے تمہیں کوئی شام آخری شام ہمارے ساتھ یہ ہر ایک شام ہوتا ہے

Umair Najmi

81 likes

صرف خنجر ہی نہیں آنکھوں ہے وہ ہے وہ پانی چاہیے اے خدا دشمن بھی مجھ کو خاندانی چاہیے شہر کی ساری الف لیلائیں بوڑھی ہوں چکیں شہزادے کو کوئی تازہ کہانی چاہیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اے سورج تجھے پوجا نہیں سمجھا تو ہے مری حصے ہے وہ ہے وہ بھی تھوڑی دھوپ آنی چاہیے مری قیمت کون دے سکتا ہے ا سے بازار ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں زلیخا ہوں تمہیں قیمت لگانی چاہیے زندگی ہے اک سفر اور زندگی کی راہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی بھی آئی تو ٹھوکر لگانی چاہیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اپنی خشک آنکھوں سے لہو چھلکا دیا اک سمندر کہ رہا تھا مجھ کو پانی چاہیے

Rahat Indori

38 likes

More from Rahat Indori

شجر ہیں اب ثمر آثار مری چلے آتے ہیں دعویدار مری مہاجر ہیں لگ اب انصار مری مخالف ہیں بے حد ا سے بار مری ی ہاں اک بوند کا محتاج ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سمندر ہیں سمندر پار مری ابھی مردوں ہے وہ ہے وہ روحیں پھونک ڈالیں ا گر چاہیں تو یہ بیمار مری ہوائیں اوڑھ کر سویا تھا دشمن گئے بیکار سارے وار مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ کر دشمنوں ہے وہ ہے وہ ب سے گیا تو ہوں ی ہاں ہمدرد ہیں دو چار مری ہنسی ہے وہ ہے وہ ٹال دینا تھا مجھے بھی غلطیاں کیوں ہوں گئے سرکار مری تصور ہے وہ ہے وہ لگ جانے کون آیا مہک اٹھے در و دیوار مری تمہارا نام دنیا جانتی ہے بے حد رسوا ہیں اب اشعار مری بھنور ہے وہ ہے وہ رک گئی ہے ناو مری کنارے رہ گئے ا سے پار مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود اپنی حفاظت کر رہا ہوں ابھی سوئے ہیں پہرے دار مری

Rahat Indori

4 likes

چہروں کی دھوپ آنکھوں کی گہرائی لے گیا تو آئی لگ سارے شہر کی بینائی لے گیا تو ڈوبے ہوئے جہاز پہ کیا تبصرہ کریں یہ حادثہ تو سوچ کی گہرائی لے گیا تو حالانکہ بے زبان تھا لیکن عجیب تھا جو بے وجہ مجھ سے چھین کے گویائی لے گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج اپنے گھر سے نکلنے لگ پاؤں گا ب سے اک قمیص تھی جو میرا بھائی لے گیا تو تاکتے تمہارے واسطے اب کچھ نہیں رہا گلیوں کے سارے سنگ تو سودائی لے گیا تو

Rahat Indori

19 likes

اسے سامان سفر جان یہ جگنو رکھ لے راہ ہے وہ ہے وہ تیرگی ہوں گی مری آنسو رکھ لے تو جو چاہے تو ترا جھوٹ بھی بک سکتا ہے شرط اتنی ہے کہ سونے کی ترازو رکھ لے حقیقت کوئی جسم نہیں ہے کہ اسے چھو بھی سکیں ہاں ا گر نام ہی رکھنا ہے تو خوشبو رکھ لے تجھ کو اندیکھی بلن گرا ہے وہ ہے وہ سفر کرنا ہے احتیاطاً مری ہمت مری بازو رکھ لے مری خواہش ہے کہ آنگن ہے وہ ہے وہ لگ دیوار اٹھے مری بھائی مری حصے کی ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رکھ لے

Rahat Indori

0 likes

زندگی کی ہر کہانی نبھے گی ہوں جائے گی ہم لگ ہوں گے تو یہ دنیا در بدر ہوں جائے گی پاؤں پتھر کر کے چھوڑےگی ا گر رک جائیے چلتے رہیے تو ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی ہم سفر ہوں جائے گی نڈھال کو ساتھ لے کر رات روشن کیجیے راستہ سورج کا دیکھا تو سحر ہوں جائے گی زندگی بھی کاش مری ساتھ رہتی عمر بھر خیر اب چنو بھی ہونی ہے بسر ہوں جائے گی جاناں نے خود ہی سر چڑھائی تھی سو اب چکھو مزہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ کہتا تھا کہ دنیا درد سر ہوں جائے گی تلخیاں بھی لازمی ہیں زندگی کے واسطے اتنا میٹھا بن کے مت رہیے شکر ہوں جائے گی

Rahat Indori

4 likes

ہم نے خود اپنی رہنمائی کی اور شہرت ہوئی خدائی کی ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے دنیا سے مجھ سے دنیا نے سیکڑوں بار بے وفائی کی کھلے رہتے ہیں سارے دروازے کوئی صورت نہیں رہائی کی ٹوٹ کر ہم ملے ہیں پہلی بار یہ شروعات ہے جدائی کی سوئے رہتے ہیں اوڑھ کر خود کو اب ضرورت نہیں رضائی کی منزلیں چومتی ہیں مری قدم داد دیجئے شکستہ پائی کی زندگی چنو تیسے کاٹنی ہے کیا بھلائی کی کیا برائی کی عشق کے کاروبار ہے وہ ہے وہ ہم نے جان دے کر بڑی کمائی کی اب کسی کی زبان نہیں کھلتی رسم جاری ہے منا بھرائی کی

Rahat Indori

7 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Rahat Indori.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Rahat Indori's ghazal.