اب نئے سپنے سجانا آپ کو شا گرا مبارک رات دن ب سے مسکرانا آپ کو شا گرا مبارک یاد کروائی تھی ہے وہ ہے وہ نے جو غزل مری کبھی حقیقت ہوں سکے تو بھول جانا آپ کو شا گرا مبارک جانتا ہوں من کرےگا بات کرلیں اک دفع ب سے فون لیکن مت لگانا آپ کو شا گرا مبارک دور اب ماں باپ سے گھر سے ہمیشہ ہی رہوگے سمے پر کھا لینا خا لگ آپ کو شا گرا مبارک آپ سے یہ التجا ہے وہ ہے وہ جب کبھی ٹی وی پہ آؤں آپ چینل مت ہٹانا آپ کو شا گرا مبارک پوچھ لے کوئی سہیلی کیا ہوا ا سے عشق کا تو دوست مجھ پر ہی لگانا آپ کو شا گرا مبارک آپنے شا گرا رچائی تو مری امید ٹوٹی شکریہ کرتا دیوا لگ آپ کو شا گرا مبارک
Related Ghazal
زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی
Ali Zaryoun
102 likes
اک پل ہے وہ ہے وہ اک ص گرا کا مزہ ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ ا نہیں مدتوں ہے وہ ہے وہ ہم قسطوں ہے وہ ہے وہ خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے آغاز کرنے والے کا مزہ آپ جانیے انجام کرنے والے کا مزہ ہم سے پوچھیے جلتے دیوں ہے وہ ہے وہ جلتے گھروں جیسی ذو ک ہاں سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے حقیقت جان ہی گئے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسیے م گر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمار توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے
Khumar Barabankvi
95 likes
کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے جانے کیسے لوگ حقیقت ہوں گے جو ا سے کو بھاتے ہوں گے شام ہوئے خوش باش ی ہاں کے مری پا سے آ جاتے ہیں مری بجھنے کا نہظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے حقیقت جو لگ آنے والا ہے نا ا سے سے مجھ کو زار تھا آنے والوں سے کیا زار آتے ہیں آتے ہوں گے ا سے کی یاد کی باد صبا ہے وہ ہے وہ اور تو کیا ہوتا ہوگا یوںہی مری بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے یاروں کچھ تو ذکر کروں جاناں ا سے کی خوشگوار بان ہوں کا حقیقت جو سمٹتے ہوں گے ان ہے وہ ہے وہ حقیقت تو مر جاتے ہوں گے میرا سان سے اکھڑتے ہی سب بین کریںگے روئیںگے زبان مری بعد بھی زبان سان سے لیے جاتے ہوں گے
Jaun Elia
88 likes
جام سگریٹ کش اور ب سے کچھ دھواں آخرش اور ب سے موت تک زندگی کا سفر رات دن کش مکش اور ب سے پی گیا تو پیڑ آندھی م گر گر پڑا کھا کے نور صفا اور ب سے زندگی جلتی سگریٹ ہے صرف دو چار کش اور ب سے سوختے پیڑ کی لکڑیاں آخری پیشکش اور ب سے
Sandeep Thakur
50 likes
غزل تو سب کو میٹھی لگ رہی تھی م گر نہاتک کو مرچی لگ رہی تھی تمہارے لب نہیں چومے تھے جب تک مجھے ہر چیز کڑوی لگ رہی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دن چھوڑنے والا تھا اس کا کو حقیقت ا سے دن سب سے پیاری لگ رہی تھی
Zubair Ali Tabish
80 likes
More from Tanoj Dadhich
چمچماتی کار ہے وہ ہے وہ اس کا کی بدائی ہو گئی پر یقین آتا نہیں ہے بےوفائی ہو گئی پارک ہے وہ ہے وہ سب دوست میرے راہ دیکھیں ہیں میری اب تو جانے دو مجھے اب تو پڑھائی ہو گئی آدمی کو اور بچوں کو پتا چلتا نہیں روٹی سبزی کب بنی اور کب صفائی ہو گئی آؤ بیٹھو اب سنو تعریف میری دوستوں جس نے چھوڑا ہے مجھے اس کا کی برائی ہو گئی آخری چوٹی سے گرکر ہم مرے ہیں عشق کی ہم سمجھتے تھے ہمالیہ کی چڑھائی ہو گئی
Tanoj Dadhich
13 likes
کل تک جو بے وجہ ساتھ مری تھا چلا گیا تو ایسا لگا کہ آنکھ ہے وہ ہے وہ تنکہ چلا گیا تو ملنے حقیقت آئی اور اکیلے ہی آئی ہیں زبان کہ کیچ چھوٹ کے چوکا چلا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ بول جب رہا تھا نہیں روک پائے حقیقت سو رات بھر ہے وہ ہے وہ شعر سناتا چلا گیا تو کمزوریاں بتا کے اسے سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آٹے ہے وہ ہے وہ پانی حد سے زیادہ چلا گیا تو بے فکر تھا تنوچ خبر ہی نہیں ہوئی حقیقت پا سے آیا دل کو نکالا چلا گیا تو
Tanoj Dadhich
17 likes
کل ا سے کی شایمل ہے وہ ہے وہ نے اتاری م گر مت پوچھنا کیسے اتاری گلے تک آ گئی تھی بات مری سو پانی پی لیا نیچے اتاری اسے بھی موت نے کچھ دن پکارا حقیقت ج سے نے لاش پنکھے سے اتاری
Tanoj Dadhich
11 likes
مجھے لگتا تھا دنیا ہے وہ ہے وہ تیرے جیسا نہیں ملتا مگر پھروں یاد آیا ڈھونڈنے سے کیا نہیں ملتا بنا انجام جانے عشق کا آغاز کر لے تو کبھی پہلے پریکشا سے کوئی پرچہ نہیں ملتا محبت کی غزل میری حقیقت ٹپری ہے جہاں پر ب سے مہکتی چائے ملتی ہے کوئی گٹکا نہیں ملتا
Tanoj Dadhich
14 likes
یہ رحمت ہو جائے ہمپر اگلے سال کاش چلے جائیں اپنے گھر اگلے سال ہاتھ نجومی نے دیکھا اور یہ بولا آپ سفل ہو جائیں گے پر اگلے سال بارہ ماس دیا ہے جتنا دکھ تم نے اتنی خوشیاں برسے تم پر اگلے سال فون جنم دن پر ہی شاید وہ کر دے جلدی آئے یار ستمبر اگلے سال ہم چنو کا بچپن یہ کہ کر گزرا لے آئیں گے اچھے نمبر اگلے سال
Tanoj Dadhich
18 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Tanoj Dadhich.
Similar Moods
More moods that pair well with Tanoj Dadhich's ghazal.







