کل تک جو بے وجہ ساتھ مری تھا چلا گیا تو ایسا لگا کہ آنکھ ہے وہ ہے وہ تنکہ چلا گیا تو ملنے حقیقت آئی اور اکیلے ہی آئی ہیں زبان کہ کیچ چھوٹ کے چوکا چلا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ بول جب رہا تھا نہیں روک پائے حقیقت سو رات بھر ہے وہ ہے وہ شعر سناتا چلا گیا تو کمزوریاں بتا کے اسے سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آٹے ہے وہ ہے وہ پانی حد سے زیادہ چلا گیا تو بے فکر تھا تنوچ خبر ہی نہیں ہوئی حقیقت پا سے آیا دل کو نکالا چلا گیا تو
Related Ghazal
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں
Ali Zaryoun
158 likes
کسی لبا سے کی خوشبو جب اڑ کے آتی ہے تری بدن کی جدائی بے حد ستاتی ہے تری گلاب ترستے ہیں تیری خوشبو کو تیری سفید چمیلی تجھے بلاتی ہے تری بغیر مجھے چین کیسے پڑتا ہیں مری بغیر تجھے نیند کیسے آتی ہے
Jaun Elia
113 likes
جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں
Tehzeeb Hafi
268 likes
کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے جانے کیسے لوگ حقیقت ہوں گے جو ا سے کو بھاتے ہوں گے شام ہوئے خوش باش ی ہاں کے مری پا سے آ جاتے ہیں مری بجھنے کا نہظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے حقیقت جو لگ آنے والا ہے نا ا سے سے مجھ کو زار تھا آنے والوں سے کیا زار آتے ہیں آتے ہوں گے ا سے کی یاد کی باد صبا ہے وہ ہے وہ اور تو کیا ہوتا ہوگا یوںہی مری بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے یاروں کچھ تو ذکر کروں جاناں ا سے کی خوشگوار بان ہوں کا حقیقت جو سمٹتے ہوں گے ان ہے وہ ہے وہ حقیقت تو مر جاتے ہوں گے میرا سان سے اکھڑتے ہی سب بین کریںگے روئیںگے زبان مری بعد بھی زبان سان سے لیے جاتے ہوں گے
Jaun Elia
88 likes
More from Tanoj Dadhich
کل ا سے کی شایمل ہے وہ ہے وہ نے اتاری م گر مت پوچھنا کیسے اتاری گلے تک آ گئی تھی بات مری سو پانی پی لیا نیچے اتاری اسے بھی موت نے کچھ دن پکارا حقیقت ج سے نے لاش پنکھے سے اتاری
Tanoj Dadhich
11 likes
ڈرتا نہیں ہوں ہے وہ ہے وہ کسی بھی امتحاں سے دوں گا سبھی جواب م گر اطمینان سے لوٹ آتی ہے صدا یوں مری جسم سے مری چنو کہ لوٹ آئی ہوں خالی مکان سے ا سے نے لیا گلاب م گر کچھ نہیں کہا نکلا نہیں ہے تیر ابھی بھی کمان سے لنکیش کو ہرایا تھا سیتا بچائی تھی بنتا تھا گھر کو لوٹنا پشپک ویمان سے خود کا ہی آسمان ہے کافی تنوچ کو جلتا نہیں حقیقت اور کسی کی اڑان سے
Tanoj Dadhich
5 likes
ایک بھيانک طوفاں آیا پورا چھپر قسمیں دیا لیکن پھروں میری ہمت نے سارا منظر قسمیں دیا جتنا بڑھانے لائی تھی حقیقت ہفتوں تک برتن دھوکے اس کا کا کے شوہر نے اک دن ہے وہ ہے وہ دارو پی کر قسمیں دیا ہار گئے جب دنیا کے سب ویر بہادر اور راجا اک لڑکے نے دھنوشت اٹھایا اور سویمور قسمیں دیا حیرانی سے دنگ ہوئے تب جادو دیکھ رہے سب لوگ ایک کبوتر نے نبھائیے ہے وہ ہے وہ جب فرمائش قسمیں دیا ڈوب چکے تھے اس کا کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہم اتنے مت پوچھو کیا بتلائیں چڑیا اڑ ہے وہ ہے وہ ہم نے بندر قسمیں دیا
Tanoj Dadhich
21 likes
کوئی گالی نہیں دیتا کوئی غصہ نہیں ہوتا تو ہے وہ ہے وہ مشہور تو ہوتا م گر اتنا نہیں ہوتا ہم اس کا کو گھر نہیں کہتے بھلے کتنا بڑا ہی ہوں ج ہاں تلسی نہیں ہوتی ج ہاں مٹکا نہیں ہوتا بلا لو سب بڑے شاعر م گر اک دو نئے رکھنا شگن پورا نہیں ہوتا ا گر سکہ نہیں ہوتا زما لگ ہے نیا اب حقیقت محبت کر نہیں سکتا حقیقت ج سے سے ایک بھی روپیہ کبھی خرچہ نہیں ہوتا تنوچ ا سے بار تو لاؤ نیاپن شعر ہے وہ ہے وہ اپنے کہ ب سے اک نام لکھنے سے کوئی مقطع نہیں ہوتا
Tanoj Dadhich
12 likes
مجھے لگتا تھا دنیا ہے وہ ہے وہ تیرے جیسا نہیں ملتا مگر پھروں یاد آیا ڈھونڈنے سے کیا نہیں ملتا بنا انجام جانے عشق کا آغاز کر لے تو کبھی پہلے پریکشا سے کوئی پرچہ نہیں ملتا محبت کی غزل میری حقیقت ٹپری ہے جہاں پر ب سے مہکتی چائے ملتی ہے کوئی گٹکا نہیں ملتا
Tanoj Dadhich
14 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Tanoj Dadhich.
Similar Moods
More moods that pair well with Tanoj Dadhich's ghazal.







