ایک بھيانک طوفاں آیا پورا چھپر قسمیں دیا لیکن پھروں میری ہمت نے سارا منظر قسمیں دیا جتنا بڑھانے لائی تھی حقیقت ہفتوں تک برتن دھوکے اس کا کا کے شوہر نے اک دن ہے وہ ہے وہ دارو پی کر قسمیں دیا ہار گئے جب دنیا کے سب ویر بہادر اور راجا اک لڑکے نے دھنوشت اٹھایا اور سویمور قسمیں دیا حیرانی سے دنگ ہوئے تب جادو دیکھ رہے سب لوگ ایک کبوتر نے نبھائیے ہے وہ ہے وہ جب فرمائش قسمیں دیا ڈوب چکے تھے اس کا کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہم اتنے مت پوچھو کیا بتلائیں چڑیا اڑ ہے وہ ہے وہ ہم نے بندر قسمیں دیا
Related Ghazal
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
بے سبب ا سے کے نام کی ہے وہ ہے وہ نے کاٹ تو لی تھی زندگی ہے وہ ہے وہ نے حقیقت مجھے خواب ہے وہ ہے وہ نظر آیا اور تصویر کھینچ لی ہے وہ ہے وہ نے آپ کا کام ہوں گیا تو بے چارگی دوش لاش دریا ہے وہ ہے وہ پھینک دی ہے وہ ہے وہ نے کھیل تو ا سے لیے بھی ہارےگا چال چھلنی ہے آخری ہے وہ ہے وہ نے ایک حقیقت بے حجاب اور ا سے پر ڈال رکھی تھی روشنی ہے وہ ہے وہ نے
Zia Mazkoor
29 likes
حقیقت کیا ہے کہ پھولو کو دھوکہ ہوا تھا تیرا سوٹ تتلی نے پہنا ہوا تھا مجھے کیا پتا باڑھ ہے وہ ہے وہ کون ڈوبا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کشتی بنانے ہے وہ ہے وہ ڈوبا ہوا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید اسی ہاتھ ہے وہ ہے وہ رہ گیا تو ہوں وہی ہاتھ جو مجھ سے چھوٹا ہوا تھا کسی کی جگہ پر کھڑا ہوں گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری سیٹ پر کوئی بیٹھا ہوا تھا پرانی غزل ڈسٹبن ہے وہ ہے وہ پڑی تھی نیا شعر ٹیبل پہ رکھا ہوا تھا تمہیں دیکھ کر کچھ تو بھولا ہوا ہوں انتقامن یاد آیا ہے وہ ہے وہ روٹھا ہوا تھا
Zubair Ali Tabish
30 likes
हज़ारों ख़्वाहिशें ऐसी कि हर ख़्वाहिश पे दम निकले बहुत निकले मिरे अरमान लेकिन फिर भी कम निकले डरे क्यूँँ मेरा क़ातिल क्या रहेगा उस की गर्दन पर वो ख़ूँ जो चश्म-ए-तर से उम्र भर यूँँ दम-ब-दम निकले निकलना ख़ुल्द से आदम का सुनते आए हैं लेकिन बहुत बे-आबरू हो कर तिरे कूचे से हम निकले भरम खुल जाए ज़ालिम तेरे क़ामत की दराज़ी का अगर इस तुर्रा-ए-पुर-पेच-ओ-ख़म का पेच-ओ-ख़म निकले मगर लिखवाए कोई उस को ख़त तो हम से लिखवाए हुई सुब्ह और घर से कान पर रख कर क़लम निकले हुई इस दौर में मंसूब मुझ से बादा-आशामी फिर आया वो ज़माना जो जहाँ में जाम-ए-जम निकले हुई जिन से तवक़्क़ो' ख़स्तगी की दाद पाने की वो हम से भी ज़ियादा ख़स्ता-ए-तेग़-ए-सितम निकले मोहब्बत में नहीं है फ़र्क़ जीने और मरने का उसी को देख कर जीते हैं जिस काफ़िर पे दम निकले कहाँ मय-ख़ाने का दरवाज़ा 'ग़ालिब' और कहाँ वाइ'ज़ पर इतना जानते हैं कल वो जाता था कि हम निकले
Mirza Ghalib
26 likes
تری پیچھے ہوں گی دنیا پاگل بن کیا بولا ہے وہ ہے وہ نے کچھ سمجھا پاگل بن صحرا ہے وہ ہے وہ بھی ڈھونڈ لے دریا پاگل بن ورنا مر جائےگا پیاسا پاگل بن آدھا دا لگ آدھا پاگل نہیں نہیں نہیں اس کا کا کو پانا ہے تو پورا پاگل بن دانائی دکھلانے سے کچھ حاصل نہیں پاگل خا لگ ہے یہ دنیا پاگل بن دیکھیں تجھ کو لوگ تو پاگل ہوں جائیں اتنا عمدہ اتنا اعلیٰ پاگل بن لوگوں سے ڈر لگتا ہے تو گھر ہے وہ ہے وہ بیٹھ ج ہنستے ہے تو مری جیسا پاگل بن
Varun Anand
81 likes
More from Tanoj Dadhich
چمچماتی کار ہے وہ ہے وہ اس کا کی بدائی ہو گئی پر یقین آتا نہیں ہے بےوفائی ہو گئی پارک ہے وہ ہے وہ سب دوست میرے راہ دیکھیں ہیں میری اب تو جانے دو مجھے اب تو پڑھائی ہو گئی آدمی کو اور بچوں کو پتا چلتا نہیں روٹی سبزی کب بنی اور کب صفائی ہو گئی آؤ بیٹھو اب سنو تعریف میری دوستوں جس نے چھوڑا ہے مجھے اس کا کی برائی ہو گئی آخری چوٹی سے گرکر ہم مرے ہیں عشق کی ہم سمجھتے تھے ہمالیہ کی چڑھائی ہو گئی
Tanoj Dadhich
13 likes
کل ا سے کی شایمل ہے وہ ہے وہ نے اتاری م گر مت پوچھنا کیسے اتاری گلے تک آ گئی تھی بات مری سو پانی پی لیا نیچے اتاری اسے بھی موت نے کچھ دن پکارا حقیقت ج سے نے لاش پنکھے سے اتاری
Tanoj Dadhich
11 likes
کل تک جو بے وجہ ساتھ مری تھا چلا گیا تو ایسا لگا کہ آنکھ ہے وہ ہے وہ تنکہ چلا گیا تو ملنے حقیقت آئی اور اکیلے ہی آئی ہیں زبان کہ کیچ چھوٹ کے چوکا چلا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ بول جب رہا تھا نہیں روک پائے حقیقت سو رات بھر ہے وہ ہے وہ شعر سناتا چلا گیا تو کمزوریاں بتا کے اسے سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آٹے ہے وہ ہے وہ پانی حد سے زیادہ چلا گیا تو بے فکر تھا تنوچ خبر ہی نہیں ہوئی حقیقت پا سے آیا دل کو نکالا چلا گیا تو
Tanoj Dadhich
17 likes
تڑپتا ہی نہیں اتنا ا گر شاعر نہیں ہوتا تڑپنا کیا ہے وہ ہے وہ خوش رہتا ا گر شاعر نہیں ہوتا کبھی سنتا نہیں اس کا کو زما لگ غور سے یاروں اہم کردار قصے کا ا گر شاعر نہیں ہوتا مجھے سب کی محبت نے بنایا ایک آٹوگراف ہے وہ ہے وہ ہے وہ سگنیچر ہی رہ جاتا ا گر شاعر نہیں ہوتا خدا کی رحمتوں سے ہے وہ ہے وہ مری غزلوں کا مالک ہوں کہی نوکر بنا ہوتا ا گر شاعر نہیں ہوتا مجھے بھی گھیر لیتی پھروں کسی دن موتا باتیں سیاست ہے وہ ہے وہ چلا جاتا ا گر شاعر نہیں ہوتا نوا غافل چراغ آشو ورون آنند اور تابش تنوچ ان سے نہیں ملتا ا گر شاعر نہیں ہوتا
Tanoj Dadhich
19 likes
سمجھتی ہے غزل دنیا کہ دل نادان ہے یاروں اسے بھی آدمی کی اب ذرا پہچان ہے یاروں ویروہی ٹیم ہے وہ ہے وہ تھا تو اسے باہر بٹھاتے تھے ہماری ٹیم ہے وہ ہے وہ آ کر بنا کپتان ہے یاروں تصور غضب تیور تمنا اور تنہائی ملیںگے پھول سب ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ غزل گلدان ہے یاروں خدا کی بات ہے تو پھروں میرا کہنا ہے ب سے اتنا کتابی گیان سے بہتر ذرا سا دھیان ہے یاروں پڑھائی نوکری شا گرا پھروں ا سے کے دو بچے ہماری زندگی اتنی ک ہاں آسان ہے یاروں
Tanoj Dadhich
5 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Tanoj Dadhich.
Similar Moods
More moods that pair well with Tanoj Dadhich's ghazal.







