چمچماتی کار ہے وہ ہے وہ اس کا کی بدائی ہو گئی پر یقین آتا نہیں ہے بےوفائی ہو گئی پارک ہے وہ ہے وہ سب دوست میرے راہ دیکھیں ہیں میری اب تو جانے دو مجھے اب تو پڑھائی ہو گئی آدمی کو اور بچوں کو پتا چلتا نہیں روٹی سبزی کب بنی اور کب صفائی ہو گئی آؤ بیٹھو اب سنو تعریف میری دوستوں جس نے چھوڑا ہے مجھے اس کا کی برائی ہو گئی آخری چوٹی سے گرکر ہم مرے ہیں عشق کی ہم سمجھتے تھے ہمالیہ کی چڑھائی ہو گئی
Related Ghazal
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے
Waseem Barelvi
107 likes
More from Tanoj Dadhich
کل تک جو بے وجہ ساتھ مری تھا چلا گیا تو ایسا لگا کہ آنکھ ہے وہ ہے وہ تنکہ چلا گیا تو ملنے حقیقت آئی اور اکیلے ہی آئی ہیں زبان کہ کیچ چھوٹ کے چوکا چلا گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ بول جب رہا تھا نہیں روک پائے حقیقت سو رات بھر ہے وہ ہے وہ شعر سناتا چلا گیا تو کمزوریاں بتا کے اسے سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آٹے ہے وہ ہے وہ پانی حد سے زیادہ چلا گیا تو بے فکر تھا تنوچ خبر ہی نہیں ہوئی حقیقت پا سے آیا دل کو نکالا چلا گیا تو
Tanoj Dadhich
17 likes
کل ا سے کی شایمل ہے وہ ہے وہ نے اتاری م گر مت پوچھنا کیسے اتاری گلے تک آ گئی تھی بات مری سو پانی پی لیا نیچے اتاری اسے بھی موت نے کچھ دن پکارا حقیقت ج سے نے لاش پنکھے سے اتاری
Tanoj Dadhich
11 likes
कई लोगों से बेहतर हँस रहा है अगर तू अपने ऊपर हँस रहा है दशानन के अहम को तोड़ कर के बहुत छोटा सा बंदर हँस रहा है मुझे कोई नहीं ख़त भेजता अब मेरी छत का कबूतर हँस रहा है मुक़द्दर पर ये मेहनत हँस रही है ? या मेहनत पर मुक़द्दर हँस रहा है ? हज़ारों ग़म हैं उस की ज़िन्दगी में मगर फिर भी सुख़न-वर हँस रहा है कहा मैं ने कि दुनिया जीतनी है न जाने क्यूँ सिकन्दर हँस रहा है
Tanoj Dadhich
27 likes
سمجھتی ہے غزل دنیا کہ دل نادان ہے یاروں اسے بھی آدمی کی اب ذرا پہچان ہے یاروں ویروہی ٹیم ہے وہ ہے وہ تھا تو اسے باہر بٹھاتے تھے ہماری ٹیم ہے وہ ہے وہ آ کر بنا کپتان ہے یاروں تصور غضب تیور تمنا اور تنہائی ملیںگے پھول سب ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ غزل گلدان ہے یاروں خدا کی بات ہے تو پھروں میرا کہنا ہے ب سے اتنا کتابی گیان سے بہتر ذرا سا دھیان ہے یاروں پڑھائی نوکری شا گرا پھروں ا سے کے دو بچے ہماری زندگی اتنی ک ہاں آسان ہے یاروں
Tanoj Dadhich
5 likes
ڈرتا نہیں ہوں ہے وہ ہے وہ کسی بھی امتحاں سے دوں گا سبھی جواب م گر اطمینان سے لوٹ آتی ہے صدا یوں مری جسم سے مری چنو کہ لوٹ آئی ہوں خالی مکان سے ا سے نے لیا گلاب م گر کچھ نہیں کہا نکلا نہیں ہے تیر ابھی بھی کمان سے لنکیش کو ہرایا تھا سیتا بچائی تھی بنتا تھا گھر کو لوٹنا پشپک ویمان سے خود کا ہی آسمان ہے کافی تنوچ کو جلتا نہیں حقیقت اور کسی کی اڑان سے
Tanoj Dadhich
5 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Tanoj Dadhich.
Similar Moods
More moods that pair well with Tanoj Dadhich's ghazal.







