Poetry Collection

Shaam

The word ‘dusk’ has diverse metaphorical expressions in Urdu poetry. Urdu poets have explored these diversities to their utmost limits. It does not merely signify the end of a day, but has been used extensively to elaborate various emotions and phenomena of life. Read these couplets to find the deeper meanings of dusk.

Total

65

Sher

50

Ghazal

15

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں

تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے میں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے

یوں تو ہر شام امیدوں میں گزر جاتی ہے آج کچھ بات ہے جو شام پہ رونا آیا

شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیں اتنے سمجھوتوں پہ جیتے ہیں کہ مر جاتے ہیں

اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں

وہ کون تھا جو دن کے اجالے میں کھو گیا یہ چاند کس کو ڈھونڈنے نکلا ہے شام سے

کبھی تو آسماں سے چاند اترے جام ہو جائے تمہارے نام کی اک خوبصورت شام ہو جائے

اب کون منتظر ہے ہمارے لیے وہاں شام آ گئی ہے لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا

یاد ہے اب تک تجھ سے بچھڑنے کی وہ اندھیری شام مجھے تو خاموش کھڑا تھا لیکن باتیں کرتا تھا کاجل

شام ہوتے ہی کھلی سڑکوں کی یاد آتی ہے سوچتا روز ہوں میں گھر سے نہیں نکلوں گا

گھر کی وحشت سے لرزتا ہوں مگر جانے کیوں شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے

شام سے ان کے تصور کا نشہ تھا اتنا نیند آئی ہے تو آنکھوں نے برا مانا ہے

شام سے پہلے تری شام نہ ہونے دوں گا زندگی میں تجھے ناکام نہ ہونے دوں گا

کون سی بات نئی اے دل ناکام ہوئی شام سے صبح ہوئی صبح سے پھر شام ہوئی

بھیگی ہوئی اک شام کی دہلیز پہ بیٹھے ہم دل کے سلگنے کا سبب سوچ رہے ہیں

~ Shakeb Jalali

شجر نے پوچھا کہ تجھ میں یہ کس کی خوشبو ہے ہوائے شام الم نے کہا اداسی کی

عصر کے وقت میرے پاس نہ بیٹھ مجھ پہ اک سانولی کا سایہ ہے

نہ اداس ہو نہ ملال کر کسی بات کا نہ خیال کر کئی سال بعد ملے ہیں ہم تیرے نام آج کی شام ہے

نئی صبح پر نظر ہے مگر آہ یہ بھی ڈر ہے یہ سحر بھی رفتہ رفتہ کہیں شام تک نہ پہنچے

کبھی تو شام ڈھلے اپنے گھر گئے ہوتے کسی کی آنکھ میں رہ کر سنور گئے ہوتے

شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں

تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے میں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے

یوں تو ہر شام امیدوں میں گزر جاتی ہے آج کچھ بات ہے جو شام پہ رونا آیا

شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیں اتنے سمجھوتوں پہ جیتے ہیں کہ مر جاتے ہیں

اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں

وہ کون تھا جو دن کے اجالے میں کھو گیا یہ چاند کس کو ڈھونڈنے نکلا ہے شام سے

کبھی تو آسماں سے چاند اترے جام ہو جائے تمہارے نام کی اک خوبصورت شام ہو جائے

نہ اداس ہو نہ ملال کر کسی بات کا نہ خیال کر کئی سال بعد ملے ہیں ہم تیرے نام آج کی شام ہے

میں تمام دن کا تھکا ہوا تو تمام شب کا جگا ہوا ذرا ٹھہر جا اسی موڑ پر تیرے ساتھ شام گزار لوں

دوستوں سے ملاقات کی شام ہے یہ سزا کاٹ کر اپنے گھر جاؤں گا

نئی صبح پر نظر ہے مگر آہ یہ بھی ڈر ہے یہ سحر بھی رفتہ رفتہ کہیں شام تک نہ پہنچے

شام ہوتے ہی کھلی سڑکوں کی یاد آتی ہے سوچتا روز ہوں میں گھر سے نہیں نکلوں گا

گھر کی وحشت سے لرزتا ہوں مگر جانے کیوں شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے

کبھی تو شام ڈھلے اپنے گھر گئے ہوتے کسی کی آنکھ میں رہ کر سنور گئے ہوتے

بیٹھا ہوا ہوں لگ کے دریچہ سے محو یاس یہ شام آج میرے برابر اداس ہے

شام سے پہلے تری شام نہ ہونے دوں گا زندگی میں تجھے ناکام نہ ہونے دوں گا

شامیں کسی کو مانگتی ہیں آج بھی فراقؔ گو زندگی میں یوں مجھے کوئی کمی نہیں

شجر نے پوچھا کہ تجھ میں یہ کس کی خوشبو ہے ہوائے شام الم نے کہا اداسی کی

ہم بہت دور نکل آئے ہیں چلتے چلتے اب ٹھہر جائیں کہیں شام کے ڈھلتے ڈھلتے

Explore Similar Collections

Shaam FAQs

Shaam collection me kya milega?

Shaam se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.