ہم بہت دور نکل آئے ہیں چلتے چلتے اب ٹھہر جائیں کہیں شام کے ڈھلتے ڈھلتے
Related Sher
یہ دکھ ا پیش ہے کہ ا سے سے ہے وہ ہے وہ دور ہوں رہا ہوں یہ غم جدا ہے حقیقت خود مجھے دور کر رہا ہے تری چیزیں پر لکھ رہا ہوں ہے وہ ہے وہ تازہ غزلیں یہ تیرا غم ہے جو مجھ کو مشہور کر رہا ہے
Tehzeeb Hafi
394 likes
ہم بھی دریا ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا ہنر معلوم ہے ج سے طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہوں جائےگا
Bashir Badr
373 likes
جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
368 likes
دیکھو ہم کوئی وحشی نہیں دیوانے ہیں جاناں سے بٹن کھلواتے نہیں لگواتے ہیں
Varun Anand
300 likes
مری آنسو نہیں تھم رہے کہ حقیقت مجھ سے جدا ہوں گیا تو اور جاناں کہ رہے ہوں کہ چھوڑو اب ایسا بھی کیا ہوں گیا تو مے کدوں ہے وہ ہے وہ مری لائنیں پیسہ پھرتے ہیں لوگ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی پی کر کہا فلسفہ ہوں گیا تو
Tehzeeb Hafi
388 likes
More from Iqbal Azeem
ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے گھر سے چلے ہوئے سر راہ عمر گزر گئی کوئی جستجو کا صلہ ملا لگ سفر کا حق ہی ادا ہوا
Iqbal Azeem
10 likes
قاتل نے ک سے صفائی سے دھوئی ہے آستین ا سے کو خبر نہیں کہ لہو بولتا بھی ہے
Iqbal Azeem
10 likes
اپنے مرکز سے ا گر دور نکل جاؤگے خواب ہوں جاؤگے افسانوں ہے وہ ہے وہ ڈھل جاؤگے ہم سفر ڈھونڈو لگ رہبر کا سہارا چاہو ٹھوکریں سر و سامان حیات تو خود ہی سنبھل جاؤگے
Iqbal Azeem
10 likes
ہم بے حد دور نکل آئی ہیں چلتے چلتے اب ٹھہر جائیں کہی شام کے ڈھلتے ڈھلتے
Iqbal Azeem
30 likes
اب ہم بھی سوچتے ہیں کہ بازار گرم ہے اپنا ضمیر بیچ کے دنیا خرید لیں
Iqbal Azeem
11 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Iqbal Azeem.
Similar Moods
More moods that pair well with Iqbal Azeem's sher.







