مری آنسو نہیں تھم رہے کہ حقیقت مجھ سے جدا ہوں گیا تو اور جاناں کہ رہے ہوں کہ چھوڑو اب ایسا بھی کیا ہوں گیا تو مے کدوں ہے وہ ہے وہ مری لائنیں پیسہ پھرتے ہیں لوگ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی پی کر کہا فلسفہ ہوں گیا تو
Related Sher
کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری صدیوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا
Allama Iqbal
354 likes
تمہیں ہم بھی ستانے پر اتر آئیں تو کیا ہوگا تمہارا دل دکھانے پر اتر آئیں تو کیا ہوگا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بدنام کرتے پھروں رہے ہوں اپنی محفل ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر ہم سچ بتانے پر اتر آئیں تو کیا ہوگا
Santosh S Singh
339 likes
دیکھو ہم کوئی وحشی نہیں دیوانے ہیں جاناں سے بٹن کھلواتے نہیں لگواتے ہیں
Varun Anand
300 likes
ہوا ہی کیا جو حقیقت ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ملا نہیں بدن ہی صرف ایک راستہ نہیں یہ پہلا عشق ہے تمہارا سوچ لو مری لیے یہ راستہ نیا نہیں
Azhar Iqbal
298 likes
اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی
Ali Zaryoun
361 likes
More from Tehzeeb Hafi
ا سے لیے روشنی ہے وہ ہے وہ ٹھنڈک ہے کچھ چراغوں کو نمہ کیا گیا تو ہے
Tehzeeb Hafi
42 likes
یہی ایک دن بچا تھا دیکھنے کو اسے ب سے ہے وہ ہے وہ بیٹھا کر آ رہے ہیں
Tehzeeb Hafi
58 likes
صحرا سے ہوں کے باغ ہے وہ ہے وہ آیا ہوں سیر کو ہاتھوں ہے وہ ہے وہ پھول ہیں مری پاؤں ہے وہ ہے وہ ریت ہے
Tehzeeb Hafi
41 likes
چہرہ دیکھیں تری ہونٹ اور پلکیں دیکھیں دل پہ آنکھیں رکھیں تیری سانسیں دیکھیں
Tehzeeb Hafi
69 likes
کوئی سمندر کوئی ن گرا ہوتی کوئی دریا ہوتا ہم جتنے پیاسے تھے ہمارا ایک گلا سے سے کیا ہوتا
Tehzeeb Hafi
85 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Tehzeeb Hafi.
Similar Moods
More moods that pair well with Tehzeeb Hafi's sher.







