Poetry Collection

Shajar

Shajar par curated selection jahan sher, ghazal aur nazm ko readable format me discover kiya ja sakta hai.

Total

35

Sher

33

Ghazal

2

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

بچھڑ کے تجھ سے نہ دیکھا گیا کسی کا ملاپ اڑا دیئے ہیں پرندے شجر پہ بیٹھے ہوئے

کل رات جو ایندھن کے لیے کٹ کے گرا ہے چڑیوں کو بہت پیار تھا اس بوڑھے شجر سے

وہی چراغ بجھا جس کی لو قیامت تھی اسی پہ ضرب پڑی جو شجر پرانا تھا

شجر نے پوچھا کہ تجھ میں یہ کس کی خوشبو ہے ہوائے شام الم نے کہا اداسی کی

ہر شخص پر کیا نہ کرو اتنا اعتماد ہر سایہ دار شے کو شجر مت کہا کرو

اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائے جس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایا جائے

اڑ گئے سارے پرندے موسموں کی چاہ میں انتظار ان کا مگر بوڑھے شجر کرتے رہے

تھکن بہت تھی مگر سایۂ شجر میں جمالؔ میں بیٹھتا تو مرا ہم سفر چلا جاتا

میں اک شجر کی طرح رہگزر میں ٹھہرا ہوں تھکن اتار کے تو کس طرف روانہ ہوا

چلے جو دھوپ میں منزل تھی ان کی ہمیں تو کھا گیا سایہ شجر کا

بھلے ہی چھاؤں نہ دے آسرا تو دیتا ہے یہ آرزو کا شجر ہے خزاں رسیدہ سہی

سفر ہو شاہ کا یا قافلہ فقیروں کا شجر مزاج سمجھتے ہیں راہگیروں کا

پرندے لڑ ہی پڑے جائیداد پر آخر شجر پہ لکھا ہوا ہے شجر برائے فروخت

مکاں بناتے ہوئے چھت بہت ضروری ہے بچا کے صحن میں لیکن شجر بھی رکھنا ہے

لگایا محبت کا جب یاں شجر شجر لگ گیا اور ثمر جل گیا

جل کر گرا ہوں سوکھے شجر سے اڑا نہیں میں نے وہی کیا جو تقاضا وفا کا تھا

جو سایہ دار شجر تھے وہ صرف دار ہوئے دکھائی دیتے نہیں دور دور تک سائے

اس کو خزاں کے دور میں باغی سمجھ کے چوم جو بھی شجر پہ آخری پتا دکھائی دے

پلٹ گئے جو پرندے تو پھر گلہ کیا ہے ہر ایک شاخ شجر پر بچھے ہیں جال بہت

میرے اشجار عزادار ہوئے جاتے ہیں گاؤں کے گاؤں جو بازار ہوئے جاتے ہیں

بچھڑ کے تجھ سے نہ دیکھا گیا کسی کا ملاپ اڑا دیئے ہیں پرندے شجر پہ بیٹھے ہوئے

کل رات جو ایندھن کے لیے کٹ کے گرا ہے چڑیوں کو بہت پیار تھا اس بوڑھے شجر سے

وہی چراغ بجھا جس کی لو قیامت تھی اسی پہ ضرب پڑی جو شجر پرانا تھا

شجر نے پوچھا کہ تجھ میں یہ کس کی خوشبو ہے ہوائے شام الم نے کہا اداسی کی

ہر شخص پر کیا نہ کرو اتنا اعتماد ہر سایہ دار شے کو شجر مت کہا کرو

اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائے جس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایا جائے

اڑ گئے سارے پرندے موسموں کی چاہ میں انتظار ان کا مگر بوڑھے شجر کرتے رہے

تھکن بہت تھی مگر سایۂ شجر میں جمالؔ میں بیٹھتا تو مرا ہم سفر چلا جاتا

میں اک شجر کی طرح رہگزر میں ٹھہرا ہوں تھکن اتار کے تو کس طرف روانہ ہوا

چلے جو دھوپ میں منزل تھی ان کی ہمیں تو کھا گیا سایہ شجر کا

بھلے ہی چھاؤں نہ دے آسرا تو دیتا ہے یہ آرزو کا شجر ہے خزاں رسیدہ سہی

سفر ہو شاہ کا یا قافلہ فقیروں کا شجر مزاج سمجھتے ہیں راہگیروں کا

پرندے لڑ ہی پڑے جائیداد پر آخر شجر پہ لکھا ہوا ہے شجر برائے فروخت

مکاں بناتے ہوئے چھت بہت ضروری ہے بچا کے صحن میں لیکن شجر بھی رکھنا ہے

لگایا محبت کا جب یاں شجر شجر لگ گیا اور ثمر جل گیا

جل کر گرا ہوں سوکھے شجر سے اڑا نہیں میں نے وہی کیا جو تقاضا وفا کا تھا

جو سایہ دار شجر تھے وہ صرف دار ہوئے دکھائی دیتے نہیں دور دور تک سائے

اس کو خزاں کے دور میں باغی سمجھ کے چوم جو بھی شجر پہ آخری پتا دکھائی دے

پلٹ گئے جو پرندے تو پھر گلہ کیا ہے ہر ایک شاخ شجر پر بچھے ہیں جال بہت

میرے اشجار عزادار ہوئے جاتے ہیں گاؤں کے گاؤں جو بازار ہوئے جاتے ہیں

Explore Similar Collections

Shajar FAQs

Shajar collection me kya milega?

Shajar se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.