سب اک چراغ کے پروانے ہونا چاہتے ہیں عجیب لوگ ہیں دیوانے ہونا چاہتے ہیں
Poetry Collection
Shama
A lamp burns all night and spreads its light silently. No one cares what the lamp suffers through to spread that light. No one even bothers to think about how it faces the dark night to do what it is destined to do. Poets have used the lamp as a strong metaphor in their poetry. They have also elaborated the symbolic relationship between the moth and itself and in this process, they have commented upon the philosophy of life itself that is characterized both by deprivation and fulfillment.
Total
29
Sher
29
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
اے شمع تیری عمر طبیعی ہے ایک رات ہنس کر گزار یا اسے رو کر گزار دے
تو کہیں ہو دل دیوانہ وہاں پہنچے گا شمع ہوگی جہاں پروانہ وہاں پہنچے گا
شمع کے مانند ہم اس بزم میں چشم تر آئے تھے دامن تر چلے
پروانوں کا تو حشر جو ہونا تھا ہو چکا گزری ہے رات شمع پہ کیا دیکھتے چلیں
میں ڈھونڈھ رہا ہوں مری وہ شمع کہاں ہے جو بزم کی ہر چیز کو پروانہ بنا دے
خود ہی پروانے جل گئے ورنہ شمع جلتی ہے روشنی کے لیے
پروانے آ ہی جائیں گے کھنچ کر بہ جبر عشق محفل میں صرف شمع جلانے کی دیر ہے
جانے کیا محفل پروانہ میں دیکھا اس نے پھر زباں کھل نہ سکی شمع جو خاموش ہوئی
شمع بجھ کر رہ گئی پروانہ جل کر رہ گیا یادگار حسن و عشق اک داغ دل پر رہ گیا
خیال تک نہ کیا اہل انجمن نے ذرا تمام رات جلی شمع انجمن کے لیے
پروانہ کی تپش نے خدا جانے کان میں کیا کہہ دیا کہ شمع کے سر سے دھواں اٹھا
وہ شمع کرے فخر بھلا خود پہ تو کیسے دہلیز پہ جس کی کوئی پروانہ نہیں ہے
نظروں میں تصادم دل میں چبھن اک شمع ہے اک پروانہ ہے دونوں ہی میں باتیں ہوتی ہیں آواز کا لیکن نام نہیں
شمع کا شانۂ اقبال ہے توفیق کرم غنچہ گل ہوتے ہی خود صاحب زر ہوتا ہے
یہ چراغ انجمن تو ہیں بس ایک شب کے مہماں تو جلا وہ شمع اے دل جو بجھے کبھی نہ جل کے
سحر کے ساتھ ہوگا چاک میرا دامن ہستی برنگ شمع بزم دہر میں مہماں ہوں شب بھر کا
شمع معشوقوں کو سکھلاتی ہے طرز عاشقی جل کے پروانے سے پہلے بجھ کے پروانے کے بعد
شمع پر خون کا الزام ہو ثابت کیوں کر پھونک دی لاش بھی کمبخت نے پروانے کی
رات اس کی محفل میں سر سے جل کے پاؤں تک شمع کی پگھل چربی استخواں نکل آئی
سب اک چراغ کے پروانے ہونا چاہتے ہیں عجیب لوگ ہیں دیوانے ہونا چاہتے ہیں
اے شمع تیری عمر طبیعی ہے ایک رات ہنس کر گزار یا اسے رو کر گزار دے
تو کہیں ہو دل دیوانہ وہاں پہنچے گا شمع ہوگی جہاں پروانہ وہاں پہنچے گا
شمع کے مانند ہم اس بزم میں چشم تر آئے تھے دامن تر چلے
شمع معشوقوں کو سکھلاتی ہے طرز عاشقی جل کے پروانے سے پہلے بجھ کے پروانے کے بعد
پروانوں کا تو حشر جو ہونا تھا ہو چکا گزری ہے رات شمع پہ کیا دیکھتے چلیں
یوں تو جل بجھنے میں دونوں ہیں برابر لیکن وہ کہاں شمع میں جو آگ ہے پروانے میں
مت کرو شمع کوں بد نام جلاتی وہ نہیں آپ سیں شوق پتنگوں کو ہے جل جانے کا
پروانے آ ہی جائیں گے کھنچ کر بہ جبر عشق محفل میں صرف شمع جلانے کی دیر ہے
شمع پر خون کا الزام ہو ثابت کیوں کر پھونک دی لاش بھی کمبخت نے پروانے کی
جانے کیا محفل پروانہ میں دیکھا اس نے پھر زباں کھل نہ سکی شمع جو خاموش ہوئی
شمع بجھ کر رہ گئی پروانہ جل کر رہ گیا یادگار حسن و عشق اک داغ دل پر رہ گیا
خیال تک نہ کیا اہل انجمن نے ذرا تمام رات جلی شمع انجمن کے لیے
پروانہ کی تپش نے خدا جانے کان میں کیا کہہ دیا کہ شمع کے سر سے دھواں اٹھا
وہ شمع کرے فخر بھلا خود پہ تو کیسے دہلیز پہ جس کی کوئی پروانہ نہیں ہے
نظروں میں تصادم دل میں چبھن اک شمع ہے اک پروانہ ہے دونوں ہی میں باتیں ہوتی ہیں آواز کا لیکن نام نہیں
شمع کا شانۂ اقبال ہے توفیق کرم غنچہ گل ہوتے ہی خود صاحب زر ہوتا ہے
یہ چراغ انجمن تو ہیں بس ایک شب کے مہماں تو جلا وہ شمع اے دل جو بجھے کبھی نہ جل کے
سحر کے ساتھ ہوگا چاک میرا دامن ہستی برنگ شمع بزم دہر میں مہماں ہوں شب بھر کا
رات اس کی محفل میں سر سے جل کے پاؤں تک شمع کی پگھل چربی استخواں نکل آئی
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Shama FAQs
Shama collection me kya milega?
Shama se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.