زاہد شراب پینے دے مسجد میں بیٹھ کر یا وہ جگہ بتا دے جہاں پر خدا نہ ہو
Poetry Collection
Sharab
If you wish to be intoxicated and be swayed, here are some select verses for you. You would realise that the taste of wine and its intoxicating quality have entered these lines also. So, they will let you enjoy yourself and would also surprise you for their sheer appeal to your senses. You would wonder how wine that intoxicates may also become a rich metaphor of a liberated world.
Total
80
Sher
50
Ghazal
30
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے میں جتنی ہم چھوڑ دیا کرتے تھے پیمانے میں
آئے تھے ہنستے کھیلتے مے خانے میں فراقؔ جب پی چکے شراب تو سنجیدہ ہو گئے
غالبؔ چھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھی پیتا ہوں روز ابر و شب ماہ تاب میں
کچھ بھی بچا نہ کہنے کو ہر بات ہو گئی آؤ کہیں شراب پئیں رات ہو گئی
بارش شراب عرش ہے یہ سوچ کر عدمؔ بارش کے سب حروف کو الٹا کے پی گیا
شب کو مے خوب سی پی صبح کو توبہ کر لی رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی
زاہد شراب پینے سے کافر ہوا میں کیوں کیا ڈیڑھ چلو پانی میں ایمان بہہ گیا
اتنی پی جائے کہ مٹ جائے میں اور تو کی تمیز یعنی یہ ہوش کی دیوار گرا دی جائے
لطف مے تجھ سے کیا کہوں زاہد ہائے کم بخت تو نے پی ہی نہیں
پہلے شراب زیست تھی اب زیست ہے شراب کوئی پلا رہا ہے پئے جا رہا ہوں میں
ترک مے ہی سمجھ اسے ناصح اتنی پی ہے کہ پی نہیں جاتی
مرے اشک بھی ہیں اس میں یہ شراب ابل نہ جائے مرا جام چھونے والے ترا ہاتھ جل نہ جائے
میں آدمی ہوں کوئی فرشتہ نہیں حضور میں آج اپنی ذات سے گھبرا کے پی گیا
بے پئے ہی شراب سے نفرت یہ جہالت نہیں تو پھر کیا ہے
اے ذوقؔ دیکھ دختر رز کو نہ منہ لگا چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی
پیتا ہوں جتنی اتنی ہی بڑھتی ہے تشنگی ساقی نے جیسے پیاس ملا دی شراب میں
شکن نہ ڈال جبیں پر شراب دیتے ہوئے یہ مسکراتی ہوئی چیز مسکرا کے پلا
جبیں یعنی ماتھا۔ جبیں پر شکن ڈالنے کے کئی معنی ہیں۔ جیسے غصہ کرنا، کسی سے روکھائی سے پیش آنا وغیرہ۔ شاعر اپنے ساقی یعنی محبوب سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ شراب ایک مسکراتی ہوئی چیز ہے اور اسے کسی کو دیتے ہوئے ماتھے پر شکن لانا اچھی بات نہیں کیونکہ اگر ساقی ماتھے پر شکن لاکر کسی کو شراب پلاتا ہے تو پھر اس کا اصلی مزہ جاتا رہتا ہے۔ اس لئے ساقی پر لازم ہے کہ وہ دستورِ مے نے نوشی کا لحاظ کرتے ہوئے پلانے والے کو شراب مسکرا کر پلائے۔ شفق سوپوری
کدھر سے برق چمکتی ہے دیکھیں اے واعظ میں اپنا جام اٹھاتا ہوں تو کتاب اٹھا
واعظ نہ تم پیو نہ کسی کو پلا سکو کیا بات ہے تمہاری شراب طہور کی
زاہد شراب پینے دے مسجد میں بیٹھ کر یا وہ جگہ بتا دے جہاں پر خدا نہ ہو
اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے میں جتنی ہم چھوڑ دیا کرتے تھے پیمانے میں
آئے تھے ہنستے کھیلتے مے خانے میں فراقؔ جب پی چکے شراب تو سنجیدہ ہو گئے
غالبؔ چھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھی پیتا ہوں روز ابر و شب ماہ تاب میں
کچھ بھی بچا نہ کہنے کو ہر بات ہو گئی آؤ کہیں شراب پئیں رات ہو گئی
بارش شراب عرش ہے یہ سوچ کر عدمؔ بارش کے سب حروف کو الٹا کے پی گیا
آخر گل اپنی صرف در مے کدہ ہوئی پہنچے وہاں ہی خاک جہاں کا خمیر ہو
شب کو مے خوب سی پی صبح کو توبہ کر لی رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی
شب جو ہم سے ہوا معاف کرو نہیں پی تھی بہک گئے ہوں گے
اے ذوقؔ دیکھ دختر رز کو نہ منہ لگا چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی
اتنی پی جائے کہ مٹ جائے میں اور تو کی تمیز یعنی یہ ہوش کی دیوار گرا دی جائے
لطف مے تجھ سے کیا کہوں زاہد ہائے کم بخت تو نے پی ہی نہیں
پیتا ہوں جتنی اتنی ہی بڑھتی ہے تشنگی ساقی نے جیسے پیاس ملا دی شراب میں
پہلے شراب زیست تھی اب زیست ہے شراب کوئی پلا رہا ہے پئے جا رہا ہوں میں
شکن نہ ڈال جبیں پر شراب دیتے ہوئے یہ مسکراتی ہوئی چیز مسکرا کے پلا
جبیں یعنی ماتھا۔ جبیں پر شکن ڈالنے کے کئی معنی ہیں۔ جیسے غصہ کرنا، کسی سے روکھائی سے پیش آنا وغیرہ۔ شاعر اپنے ساقی یعنی محبوب سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ شراب ایک مسکراتی ہوئی چیز ہے اور اسے کسی کو دیتے ہوئے ماتھے پر شکن لانا اچھی بات نہیں کیونکہ اگر ساقی ماتھے پر شکن لاکر کسی کو شراب پلاتا ہے تو پھر اس کا اصلی مزہ جاتا رہتا ہے۔ اس لئے ساقی پر لازم ہے کہ وہ دستورِ مے نے نوشی کا لحاظ کرتے ہوئے پلانے والے کو شراب مسکرا کر پلائے۔ شفق سوپوری
وہ ملے بھی تو اک جھجھک سی رہی کاش تھوڑی سی ہم پئے ہوتے
مرے اشک بھی ہیں اس میں یہ شراب ابل نہ جائے مرا جام چھونے والے ترا ہاتھ جل نہ جائے
کدھر سے برق چمکتی ہے دیکھیں اے واعظ میں اپنا جام اٹھاتا ہوں تو کتاب اٹھا
خشک باتوں میں کہاں ہے شیخ کیف زندگی وہ تو پی کر ہی ملے گا جو مزا پینے میں ہے
واعظ نہ تم پیو نہ کسی کو پلا سکو کیا بات ہے تمہاری شراب طہور کی
Explore Similar Collections
Sharab FAQs
Sharab collection me kya milega?
Sharab se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.