اٹھو یہ منظر شب تاب دیکھنے کے لیے کہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لیے
Top 20 Sher Series
Shayari of Irfan Siddiqui
Shayari of Irfan Siddiqui ek clean reading flow me, writer aur full-detail links ke saath.
Total
20
Sher
20
Featured Picks
Series se pehle kuch standout sher padhein.
بدن میں جیسے لہو تازیانہ ہو گیا ہے اسے گلے سے لگائے زمانہ ہو گیا ہے
رات کو جیت تو پاتا نہیں لیکن یہ چراغ کم سے کم رات کا نقصان بہت کرتا ہے
ہوشیاری دل نادان بہت کرتا ہے رنج کم سہتا ہے اعلان بہت کرتا ہے
سر اگر سر ہے تو نیزوں سے شکایت کیسی دل اگر دل ہے تو دریا سے بڑا ہونا ہے
جو کچھ ہوا وہ کیسے ہوا جانتا ہوں میں جو کچھ نہیں ہوا وہ بتا کیوں نہیں ہوا
ہمیں تو خیر بکھرنا ہی تھا کبھی نہ کبھی ہوائے تازہ کا جھونکا بہانہ ہو گیا ہے
عجب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا مرے سفینے کو غرقاب دیکھنے کے لیے
اپنے کس کام میں لائے گا بتاتا بھی نہیں ہم کو اوروں پہ گنوانا بھی نہیں چاہتا ہے
میں چاہتا ہوں یہیں سارے فیصلے ہو جائیں کہ اس کے بعد یہ دنیا کہاں سے لاؤں گا میں
روح کو روح سے ملنے نہیں دیتا ہے بدن خیر یہ بیچ کی دیوار گرا چاہتی ہے
کہا تھا تم نے کہ لاتا ہے کون عشق کی تاب سو ہم جواب تمہارے سوال ہی کے تو ہیں
ہمارے دل کو اک آزار ہے ایسا نہیں لگتا کہ ہم دفتر بھی جاتے ہیں غزل خوانی بھی کرتے ہیں
مگر گرفت میں آتا نہیں بدن اس کا خیال ڈھونڈھتا رہتا ہے استعارہ کوئی
اٹھو یہ منظر شب تاب دیکھنے کے لیے کہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لیے
بدن میں جیسے لہو تازیانہ ہو گیا ہے اسے گلے سے لگائے زمانہ ہو گیا ہے
رات کو جیت تو پاتا نہیں لیکن یہ چراغ کم سے کم رات کا نقصان بہت کرتا ہے
ہوشیاری دل نادان بہت کرتا ہے رنج کم سہتا ہے اعلان بہت کرتا ہے
سر اگر سر ہے تو نیزوں سے شکایت کیسی دل اگر دل ہے تو دریا سے بڑا ہونا ہے
جو کچھ ہوا وہ کیسے ہوا جانتا ہوں میں جو کچھ نہیں ہوا وہ بتا کیوں نہیں ہوا
ہمیں تو خیر بکھرنا ہی تھا کبھی نہ کبھی ہوائے تازہ کا جھونکا بہانہ ہو گیا ہے
عجب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا مرے سفینے کو غرقاب دیکھنے کے لیے
اپنے کس کام میں لائے گا بتاتا بھی نہیں ہم کو اوروں پہ گنوانا بھی نہیں چاہتا ہے
میں چاہتا ہوں یہیں سارے فیصلے ہو جائیں کہ اس کے بعد یہ دنیا کہاں سے لاؤں گا میں
روح کو روح سے ملنے نہیں دیتا ہے بدن خیر یہ بیچ کی دیوار گرا چاہتی ہے
کہا تھا تم نے کہ لاتا ہے کون عشق کی تاب سو ہم جواب تمہارے سوال ہی کے تو ہیں
ہمارے دل کو اک آزار ہے ایسا نہیں لگتا کہ ہم دفتر بھی جاتے ہیں غزل خوانی بھی کرتے ہیں
مگر گرفت میں آتا نہیں بدن اس کا خیال ڈھونڈھتا رہتا ہے استعارہ کوئی
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Shayari of Irfan Siddiqui FAQs
Irfan Siddiqi Top 20 me kya milega?
Irfan Siddiqi ke selected sher readable cards, internal detail links, aur writer discovery ke saath milenge.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.