تو نے کہا نہ تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ہوں آنکھوں کو اب نہ ڈھانپ مجھے ڈوبتے بھی دیکھ
Top 20 Sher Series
Shayari of Shakeb Jalali
Shayari of Shakeb Jalali ek clean reading flow me, writer aur full-detail links ke saath.
Total
20
Sher
20
Featured Picks
Series se pehle kuch standout sher padhein.
بد قسمتی کو یہ بھی گوارا نہ ہو سکا ہم جس پہ مر مٹے وہ ہمارا نہ ہو سکا
سوچو تو سلوٹوں سے بھری ہے تمام روح دیکھو تو اک شکن بھی نہیں ہے لباس میں
جاتی ہے دھوپ اجلے پروں کو سمیٹ کے زخموں کو اب گنوں گا میں بستر پہ لیٹ کے
لوگ دیتے رہے کیا کیا نہ دلاسے مجھ کو زخم گہرا ہی سہی زخم ہے بھر جائے گا
مجھے گرنا ہے تو میں اپنے ہی قدموں میں گروں جس طرح سایۂ دیوار پہ دیوار گرے
کیا کہوں دیدۂ تر یہ تو مرا چہرہ ہے سنگ کٹ جاتے ہیں بارش کی جہاں دھار گرے
یوں تو سارا چمن ہمارا ہے پھول جتنے بھی ہیں پرائے ہیں
اتر کے ناؤ سے بھی کب سفر تمام ہوا زمیں پہ پاؤں دھرا تو زمین چلنے لگی
نہ اتنی تیز چلے سرپھری ہوا سے کہو شجر پہ ایک ہی پتا دکھائی دیتا ہے
آ کے پتھر تو مرے صحن میں دو چار گرے جتنے اس پیڑ کے پھل تھے پس دیوار گرے
لوگ دشمن ہوئے اسی کے شکیبؔ کام جس مہربان سے نکلا
عالم میں جس کی دھوم تھی اس شاہکار پر دیمک نے جو لکھے کبھی وہ تبصرے بھی دیکھ
گلے ملا نہ کبھی چاند بخت ایسا تھا ہرا بھرا بدن اپنا درخت ایسا تھا
تو نے کہا نہ تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ہوں آنکھوں کو اب نہ ڈھانپ مجھے ڈوبتے بھی دیکھ
بد قسمتی کو یہ بھی گوارا نہ ہو سکا ہم جس پہ مر مٹے وہ ہمارا نہ ہو سکا
سوچو تو سلوٹوں سے بھری ہے تمام روح دیکھو تو اک شکن بھی نہیں ہے لباس میں
جاتی ہے دھوپ اجلے پروں کو سمیٹ کے زخموں کو اب گنوں گا میں بستر پہ لیٹ کے
لوگ دیتے رہے کیا کیا نہ دلاسے مجھ کو زخم گہرا ہی سہی زخم ہے بھر جائے گا
مجھے گرنا ہے تو میں اپنے ہی قدموں میں گروں جس طرح سایۂ دیوار پہ دیوار گرے
کیا کہوں دیدۂ تر یہ تو مرا چہرہ ہے سنگ کٹ جاتے ہیں بارش کی جہاں دھار گرے
یوں تو سارا چمن ہمارا ہے پھول جتنے بھی ہیں پرائے ہیں
اتر کے ناؤ سے بھی کب سفر تمام ہوا زمیں پہ پاؤں دھرا تو زمین چلنے لگی
نہ اتنی تیز چلے سرپھری ہوا سے کہو شجر پہ ایک ہی پتا دکھائی دیتا ہے
آ کے پتھر تو مرے صحن میں دو چار گرے جتنے اس پیڑ کے پھل تھے پس دیوار گرے
لوگ دشمن ہوئے اسی کے شکیبؔ کام جس مہربان سے نکلا
عالم میں جس کی دھوم تھی اس شاہکار پر دیمک نے جو لکھے کبھی وہ تبصرے بھی دیکھ
گلے ملا نہ کبھی چاند بخت ایسا تھا ہرا بھرا بدن اپنا درخت ایسا تھا
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Shayari of Shakeb Jalali FAQs
Shakeb Jalali Top 20 me kya milega?
Shakeb Jalali ke selected sher readable cards, internal detail links, aur writer discovery ke saath milenge.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.