تم بھول کر بھی یاد نہیں کرتے ہو کبھی ہم تو تمہاری یاد میں سب کچھ بھلا چکے
Top 20 Sher Series
Sheikh Ibrahim Zauq Shayari
Sheikh Ibrahim Zauq Shayari ek clean reading flow me, writer aur full-detail links ke saath.
Total
20
Sher
20
Featured Picks
Series se pehle kuch standout sher padhein.
ناز ہے گل کو نزاکت پہ چمن میں اے ذوقؔ اس نے دیکھے ہی نہیں ناز و نزاکت والے
زاہد شراب پینے سے کافر ہوا میں کیوں کیا ڈیڑھ چلو پانی میں ایمان بہہ گیا
اے ذوقؔ تکلف میں ہے تکلیف سراسر آرام میں ہے وہ جو تکلف نہیں کرتا
ذوقؔ جو مدرسے کے بگڑے ہوئے ہیں ملا ان کو مے خانے میں لے آؤ سنور جائیں گے
ایک آنسو نے ڈبویا مجھ کو ان کی بزم میں بوند بھر پانی سے ساری آبرو پانی ہوئی
معلوم جو ہوتا ہمیں انجام محبت لیتے نہ کبھی بھول کے ہم نام محبت
ہم رونے پہ آ جائیں تو دریا ہی بہا دیں شبنم کی طرح سے ہمیں رونا نہیں آتا
کتنے مفلس ہو گئے کتنے تونگر ہو گئے خاک میں جب مل گئے دونوں برابر ہو گئے
آدمیت اور شے ہے علم ہے کچھ اور شے کتنا طوطے کو پڑھایا پر وہ حیواں ہی رہا
مسجد میں اس نے ہم کو آنکھیں دکھا کے مارا کافر کی شوخی دیکھو گھر میں خدا کے مارا
اے شمع تیری عمر طبیعی ہے ایک رات ہنس کر گزار یا اسے رو کر گزار دے
خط بڑھا کاکل بڑھے زلفیں بڑھیں گیسو بڑھے حسن کی سرکار میں جتنے بڑھے ہندو بڑھے
سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہے کون پھرتا ہے یہ مردار لیے پھرتی ہے
تم بھول کر بھی یاد نہیں کرتے ہو کبھی ہم تو تمہاری یاد میں سب کچھ بھلا چکے
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
اے ذوقؔ تکلف میں ہے تکلیف سراسر آرام میں ہے وہ جو تکلف نہیں کرتا
اے ذوقؔ دیکھ دختر رز کو نہ منہ لگا چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی
ایک آنسو نے ڈبویا مجھ کو ان کی بزم میں بوند بھر پانی سے ساری آبرو پانی ہوئی
بجا کہے جسے عالم اسے بجا سمجھو زبان خلق کو نقارۂ خدا سمجھو
ہم رونے پہ آ جائیں تو دریا ہی بہا دیں شبنم کی طرح سے ہمیں رونا نہیں آتا
لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے
آدمیت اور شے ہے علم ہے کچھ اور شے کتنا طوطے کو پڑھایا پر وہ حیواں ہی رہا
ناز ہے گل کو نزاکت پہ چمن میں اے ذوقؔ اس نے دیکھے ہی نہیں ناز و نزاکت والے
مسجد میں اس نے ہم کو آنکھیں دکھا کے مارا کافر کی شوخی دیکھو گھر میں خدا کے مارا
اے شمع تیری عمر طبیعی ہے ایک رات ہنس کر گزار یا اسے رو کر گزار دے
خط بڑھا کاکل بڑھے زلفیں بڑھیں گیسو بڑھے حسن کی سرکار میں جتنے بڑھے ہندو بڑھے
سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہے کون پھرتا ہے یہ مردار لیے پھرتی ہے
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Sheikh Ibrahim Zauq Shayari FAQs
Shaikh Ibrahim Zauq Top 20 me kya milega?
Shaikh Ibrahim Zauq ke selected sher readable cards, internal detail links, aur writer discovery ke saath milenge.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.