Poetry Collection

social distancing shayari

This collection of Urdu couplets heralds that poetry is to life what silence is to death. Poetry has always stood for the tenacity of life against the cruelty of death. Prompted by the outbreak of COVID-19, Urdu poets are campaigning and arguing for life in the way they best do: through poetry.

Total

48

Sher

38

Ghazal

10

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو

اب نہیں کوئی بات خطرے کی اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے

تھکنا بھی لازمی تھا کچھ کام کرتے کرتے کچھ اور تھک گیا ہوں آرام کرتے کرتے

ایک ہی شہر میں رہنا ہے مگر ملنا نہیں دیکھتے ہیں یہ اذیت بھی گوارہ کر کے

گھر میں خود کو قید تو میں نے آج کیا ہے تب بھی تنہا تھا جب محفل محفل تھا میں

کچھ روز نصیر آؤ چلو گھر میں رہا جائے لوگوں کو یہ شکوہ ہے کہ گھر پر نہیں ملتا

میں وہ محروم عنایت ہوں کہ جس نے تجھ سے ملنا چاہا تو بچھڑنے کی وبا پھوٹ پڑی

اب تو مشکل ہے کسی اور کا ہونا مرے دوست تو مجھے ایسے ہوا جیسے کرونا مرے دوست

حال پوچھا نہ کرے ہاتھ ملایا نہ کرے میں اسی دھوپ میں خوش ہوں کوئی سایہ نہ کرے

جان ہے تو جہان ہے دل ہے تو آرزو بھی ہے عشق بھی ہو رہے گا پھر جان ابھی بچایئے

گھر رہیے کہ باہر ہے اک رقص بلاؤں کا اس موسم وحشت میں نادان نکلتے ہیں

کیسا چمن کہ ہم سے اسیروں کو منع ہے چاک قفس سے باغ کی دیوار دیکھنا

ممکن ہے یہی دل کے ملانے کا سبب ہو ی رت جو ہمیں ہاتھ ملانے نہیں دیتی

آپ ہی آپ دیے بجھتے چلے جاتے ہیں اور آسیب دکھائی بھی نہیں دیتا ہے

شہر گم صم راستے سنسان گھر خاموش ہیں کیا بلا اتری ہے کیوں دیوار و در خاموش ہیں

راستے ہیں کھلے ہوئے سارے پھر بھی یہ زندگی رکی ہوئی ہے

ٹینشن سے مرے گا نہ کرونے سے مرے گا اک شخص ترے پاس نہ ہونے سے مرے گا

ان دوریوں نے اور بڑھا دی ہیں قربتیں سب فاصلے وبا کی طوالت سے مٹ گئے

کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو

اب نہیں کوئی بات خطرے کی اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے

تھکنا بھی لازمی تھا کچھ کام کرتے کرتے کچھ اور تھک گیا ہوں آرام کرتے کرتے

ایک ہی شہر میں رہنا ہے مگر ملنا نہیں دیکھتے ہیں یہ اذیت بھی گوارہ کر کے

راستے ہیں کھلے ہوئے سارے پھر بھی یہ زندگی رکی ہوئی ہے

گھر میں خود کو قید تو میں نے آج کیا ہے تب بھی تنہا تھا جب محفل محفل تھا میں

یہ جو ملاتے پھرتے ہو تم ہر کسی سے ہاتھ ایسا نہ ہو کہ دھونا پڑے زندگی سے ہاتھ

میں وہ محروم عنایت ہوں کہ جس نے تجھ سے ملنا چاہا تو بچھڑنے کی وبا پھوٹ پڑی

یہ کہہ کے اس نے مجھے مخمصے میں ڈال دیا ملاؤ ہاتھ اگر واقعی محبت ہے

ٹینشن سے مرے گا نہ کرونے سے مرے گا اک شخص ترے پاس نہ ہونے سے مرے گا

حال پوچھا نہ کرے ہاتھ ملایا نہ کرے میں اسی دھوپ میں خوش ہوں کوئی سایہ نہ کرے

جان ہے تو جہان ہے دل ہے تو آرزو بھی ہے عشق بھی ہو رہے گا پھر جان ابھی بچایئے

گھر رہیے کہ باہر ہے اک رقص بلاؤں کا اس موسم وحشت میں نادان نکلتے ہیں

کیسا چمن کہ ہم سے اسیروں کو منع ہے چاک قفس سے باغ کی دیوار دیکھنا

بازار ہیں خاموش تو گلیوں پہ ہے سکتہ اب شہر میں تنہائی کا ڈر بول رہا ہے

ممکن ہے یہی دل کے ملانے کا سبب ہو ی رت جو ہمیں ہاتھ ملانے نہیں دیتی

آپ ہی آپ دیے بجھتے چلے جاتے ہیں اور آسیب دکھائی بھی نہیں دیتا ہے

کوئی دوا بھی نہیں ہے یہی تو رونا ہے صد احتیاط کہ پھیلا ہوا کرونا ہے

Explore Similar Collections

social distancing shayari FAQs

social distancing shayari collection me kya milega?

social distancing shayari se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.