Poetry Collection

Tamanna

Our wishes, desires, and yearning keep us on move all the time. After all, what is man if not propelled by desires? The fulfillment of desire brings our journey to an end but the unfulfilled ones afford us a chance to understand life philosophically. Here is a small collection of verses around this theme. Hope you enjoy this.

Total

50

Sher

42

Ghazal

8

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

انساں کی خواہشوں کی کوئی انتہا نہیں دو گز زمیں بھی چاہیئے دو گز کفن کے بعد

آغاز محبت کا انجام بس اتنا ہے جب دل میں تمنا تھی اب دل ہی تمنا ہے

گنوائی کس کی تمنا میں زندگی میں نے وہ کون ہے جسے دیکھا نہیں کبھی میں نے

آگہی کرب وفا صبر تمنا احساس میرے ہی سینے میں اترے ہیں یہ خنجر سارے

تجھ سے کس طرح میں اظہار تمنا کرتا لفظ سوجھا تو معانی نے بغاوت کر دی

تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں

باقی ہے اب بھی ترک تمنا کی آرزو کیونکر کہوں کہ کوئی تمنا نہیں مجھے

میں آ گیا ہوں وہاں تک تری تمنا میں جہاں سے کوئی بھی امکان واپسی نہ رہے

آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیا کیا بتاؤں کہ میرے دل میں ہے ارماں کیا کیا

ہم آج راہ تمنا میں جی کو ہار آئے نہ درد و غم کا بھروسا رہا نہ دنیا کا

~ Waheed Quraishi

ہم نہ مانیں گے خموشی ہے تمنا کا مزاج ہاں بھری بزم میں وہ بول نہ پائی ہوگی

~ Kalidas Gupta Raza

مرے سارے بدن پر دوریوں کی خاک بکھری ہے تمہارے ساتھ مل کر خود کو دھونا چاہتا ہوں میں

ایک بھی خواہش کے ہاتھوں میں نہ مہندی لگ سکی میرے جذبوں میں نہ دولہا بن سکا اب تک کوئی

یہ التجا دعا یہ تمنا فضول ہے سوکھی ندی کے پاس سمندر نہ جائے گا

عاشقی صبر طلب اور تمنا بیتاب دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہوتے تک

دل میں وہ بھیڑ ہے کہ ذرا بھی نہیں جگہ آپ آئیے مگر کوئی ارماں نکال کے

یار پہلو میں ہے تنہائی ہے کہہ دو نکلے آج کیوں دل میں چھپی بیٹھی ہے حسرت میری

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

انساں کی خواہشوں کی کوئی انتہا نہیں دو گز زمیں بھی چاہیئے دو گز کفن کے بعد

عاشقی صبر طلب اور تمنا بیتاب دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہوتے تک

آغاز محبت کا انجام بس اتنا ہے جب دل میں تمنا تھی اب دل ہی تمنا ہے

ہماری ہی تمنا کیوں کرو تم تمہاری ہی تمنا کیوں کریں ہم

سب خواہشیں پوری ہوں فرازؔ ایسا نہیں ہے جیسے کئی اشعار مکمل نہیں ہوتے

تجھ سے کس طرح میں اظہار تمنا کرتا لفظ سوجھا تو معانی نے بغاوت کر دی

باقی ہے اب بھی ترک تمنا کی آرزو کیونکر کہوں کہ کوئی تمنا نہیں مجھے

کٹتی ہے آرزو کے سہارے پہ زندگی کیسے کہوں کسی کی تمنا نہ چاہئے

آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیا کیا بتاؤں کہ میرے دل میں ہے ارماں کیا کیا

ہم آج راہ تمنا میں جی کو ہار آئے نہ درد و غم کا بھروسا رہا نہ دنیا کا

~ Waheed Quraishi

ہم نہ مانیں گے خموشی ہے تمنا کا مزاج ہاں بھری بزم میں وہ بول نہ پائی ہوگی

~ Kalidas Gupta Raza

مرے سارے بدن پر دوریوں کی خاک بکھری ہے تمہارے ساتھ مل کر خود کو دھونا چاہتا ہوں میں

یار پہلو میں ہے تنہائی ہے کہہ دو نکلے آج کیوں دل میں چھپی بیٹھی ہے حسرت میری

جینے والوں سے کہو کوئی تمنا ڈھونڈیں ہم تو آسودۂ منزل ہیں ہمارا کیا ہے

مری ہستی ہے مری طرز تمنا اے دوست خود میں فریاد ہوں میری کوئی فریاد نہیں

Explore Similar Collections

Tamanna FAQs

Tamanna collection me kya milega?

Tamanna se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.