Poetry Collection

Tanhai

Some of the favoutites of all times on tanhai shayari have been enlisted to keep you company when all feels lost. Loneliness is palpable and can be felt even in a crowd. Let the best poets in urdu shayari keep you company.

Total

100

Sher

50

Ghazal

50

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

یہ سرد رات یہ آوارگی یہ نیند کا بوجھ ہم اپنے شہر میں ہوتے تو گھر گئے ہوتے

یہ شعر اردو کے مشہور اشعار میں سے ایک ہے۔ اس میں جو کیفیت پائی جاتی ہے اسے شدید تنہائی کے عالم پر محمول کیا جا سکتا ہے۔ اس کے تلازمات میں شدت بھی ہے اور احساس بھی۔ ’’سرد رات‘‘، ’’آوارگی‘‘اور ’’نیند کا بوجھ‘‘ یہ ایسے تین عالم ہیں جن سے تنہائی کی تصویر بنتی ہے اور جب یہ کہا کہ ’’ہم اپنے شہر میں ہوتے تو گھر گئے ہوتے‘‘ تو گویا تنہائی کے ساتھ ساتھ بےخانمائی کے المیہ کی تصویر بھی کھینچی ہے۔ شعر کا بنیادی مضمون تنہائی اور بےخانمائی اور اجنبیت ہے۔ شاعر کسی اور شہر میں ہیں اور سرد رات میں آنکھوں پر نیند کا بوجھ لے کے آوارہ گھوم رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ شہر میں اجنبی ہیں اس لئے کسی کے گھر نہیں جا سکتے ورنہ سرد رات، آوارگی اور نیند کا بوجھ وہ مجبوریاں ہیں جو کسی ٹھکانے کا تقاضا کرتی ہیں۔ مگر شاعر کا المیہ یہ ہے کہ وہ تنہائی کے شہر میں کسی کو جانتے نہیں اسی لئے کہتے ہیں اگر میں اپنے شہر میں ہوتا تو اپنے گھر گیا ہوتا۔ شفق سوپوری

زندگی یوں ہوئی بسر تنہا قافلہ ساتھ اور سفر تنہا

خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے ایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے

اب اس گھر کی آبادی مہمانوں پر ہے کوئی آ جائے تو وقت گزر جاتا ہے

مجھے تنہائی کی عادت ہے میری بات چھوڑیں یہ لیجے آپ کا گھر آ گیا ہے ہات چھوڑیں

ماں کی دعا نہ باپ کی شفقت کا سایا ہے آج اپنے ساتھ اپنا جنم دن منایا ہے

تنہائی میں کرنی تو ہے اک بات کسی سے لیکن وہ کسی وقت اکیلا نہیں ہوتا

کسی حالت میں بھی تنہا نہیں ہونے دیتی ہے یہی ایک خرابی مری تنہائی کی

کاو کاو سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا

تنہائیاں تمہارا پتہ پوچھتی رہیں شب بھر تمہاری یاد نے سونے نہیں دیا

یہ کس مقام پہ لائی ہے میری تنہائی کہ مجھ سے آج کوئی بد گماں نہیں ہوتا

ذرا دیر بیٹھے تھے تنہائی میں تری یاد آنکھیں دکھانے لگی

عید کا دن ہے سو کمرے میں پڑا ہوں اسلمؔ اپنے دروازے کو باہر سے مقفل کر کے

تیرے جلووں نے مجھے گھیر لیا ہے اے دوست اب تو تنہائی کے لمحے بھی حسیں لگتے ہیں

دے حوصلے کی داد کے ہم تیرے غم میں آج بیٹھے ہیں محفلوں کو سجائے ترے بغیر

میں اپنے ساتھ رہتا ہوں ہمیشہ اکیلا ہوں مگر تنہا نہیں ہوں

یہ سرد رات یہ آوارگی یہ نیند کا بوجھ ہم اپنے شہر میں ہوتے تو گھر گئے ہوتے

یہ شعر اردو کے مشہور اشعار میں سے ایک ہے۔ اس میں جو کیفیت پائی جاتی ہے اسے شدید تنہائی کے عالم پر محمول کیا جا سکتا ہے۔ اس کے تلازمات میں شدت بھی ہے اور احساس بھی۔ ’’سرد رات‘‘، ’’آوارگی‘‘اور ’’نیند کا بوجھ‘‘ یہ ایسے تین عالم ہیں جن سے تنہائی کی تصویر بنتی ہے اور جب یہ کہا کہ ’’ہم اپنے شہر میں ہوتے تو گھر گئے ہوتے‘‘ تو گویا تنہائی کے ساتھ ساتھ بےخانمائی کے المیہ کی تصویر بھی کھینچی ہے۔ شعر کا بنیادی مضمون تنہائی اور بےخانمائی اور اجنبیت ہے۔ شاعر کسی اور شہر میں ہیں اور سرد رات میں آنکھوں پر نیند کا بوجھ لے کے آوارہ گھوم رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ شہر میں اجنبی ہیں اس لئے کسی کے گھر نہیں جا سکتے ورنہ سرد رات، آوارگی اور نیند کا بوجھ وہ مجبوریاں ہیں جو کسی ٹھکانے کا تقاضا کرتی ہیں۔ مگر شاعر کا المیہ یہ ہے کہ وہ تنہائی کے شہر میں کسی کو جانتے نہیں اسی لئے کہتے ہیں اگر میں اپنے شہر میں ہوتا تو اپنے گھر گیا ہوتا۔ شفق سوپوری

زندگی یوں ہوئی بسر تنہا قافلہ ساتھ اور سفر تنہا

خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے ایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے

اپنے ہونے کا کچھ احساس نہ ہونے سے ہوا خود سے ملنا مرا اک شخص کے کھونے سے ہوا

اب اس گھر کی آبادی مہمانوں پر ہے کوئی آ جائے تو وقت گزر جاتا ہے

ایک محفل میں کئی محفلیں ہوتی ہیں شریک جس کو بھی پاس سے دیکھو گے اکیلا ہوگا

ماں کی دعا نہ باپ کی شفقت کا سایا ہے آج اپنے ساتھ اپنا جنم دن منایا ہے

اپنے سائے سے چونک جاتے ہیں عمر گزری ہے اس قدر تنہا

کاو کاو سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا

شہر میں کس سے سخن رکھیے کدھر کو چلیے اتنی تنہائی تو گھر میں بھی ہے گھر کو چلیے

تنہائیاں تمہارا پتہ پوچھتی رہیں شب بھر تمہاری یاد نے سونے نہیں دیا

میں اپنے ساتھ رہتا ہوں ہمیشہ اکیلا ہوں مگر تنہا نہیں ہوں

یہ کس مقام پہ لائی ہے میری تنہائی کہ مجھ سے آج کوئی بد گماں نہیں ہوتا

عید کا دن ہے سو کمرے میں پڑا ہوں اسلمؔ اپنے دروازے کو باہر سے مقفل کر کے

دشت تنہائی میں جینے کا سلیقہ سیکھئے یہ شکستہ بام و در بھی ہم سفر ہو جائیں گے

تیرے جلووں نے مجھے گھیر لیا ہے اے دوست اب تو تنہائی کے لمحے بھی حسیں لگتے ہیں

کوئی بھی گھر میں سمجھتا نہ تھا مرے دکھ سکھ ایک اجنبی کی طرح میں خود اپنے گھر میں تھا

Explore Similar Collections

Tanhai FAQs

Tanhai collection me kya milega?

Tanhai se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.