کوٹ اور پتلون جب پہنا تو مسٹر بن گیا جب کوئی تقریر کی جلسے میں لیڈر بن گیا
Poetry Collection
Tanz-o-Mizah
The poetry of humour and satire has multiple dimensions and makes sense to readers at different planes. This poetry makes you laugh but it also drives you to taste the bitterness of life. This selection of verses will help you see life from close quarters and appreciate its richness and variety through humour and satire.
Total
50
Sher
50
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
اور تو کچھ بھی نہیں حضرت ماچسؔ لیکن آپ میں آگ لگانے کا کمال اچھا ہے
پروفیسر یہ اردو کے جو اردو سے کماتے ہیں اسی پیسے سے بچوں کو یہ انگریزی پڑھاتے ہیں
خود تیس کا ہے اور دلہن ساٹھ برس کی گرتی ہوئی دیوار کے سائے میں کھڑا ہے
علم حاصل کر کے بھی ملتی نہیں ہے نوکری رحم کے قابل ہے بس حالت ہماری ان دنوں
جوتے کے انتخاب کو مسجد میں جب گئے وہ جوتیاں پڑیں کہ خدا یاد آ گیا
چہرے تو جھریوں سے بھرے دل جوان ہیں دن میں ہیں شیخ رات میں سلمان خان ہیں
کلام میر سمجھے اور زبان میرزا سمجھے مگر ان کا کہا یا آپ سمجھیں یا خدا سمجھے
جو چاہتا ہے کہ بن جائے وہ بڑا شاعر وہ جا کے دوستی گانٹھے کسی مدیر کے ساتھ
درگت بنے ہے چائے میں بسکٹ کی جس طرح شادی کے بعد لوگو وہی میرا حال ہے
ہم مانتے ہیں آپ بڑے غم گسار ہیں لیکن یہ آستین میں کیا ہے دکھائیے
پتہ ہوتا تو نہ کرتا کبھی کوئی نیکی تمہیں جنت میں ملو گی مجھے معلوم نہ تھا
یہاں تک سلسلہ پہنچا ہے اس کی کم بیانی کا وہ نو بچوں کی ماں ہے پھر بھی دعویٰ ہے جوانی کا
ابھی تو حضرت واعظ مذمت مے کی کرتے ہیں اگر مے خانے میں ان کا گزر ہوگا تو کیا ہوگا
وہ ان کا زمانہ تھا جہاں عقل بڑی تھی یہ میرا زمانہ ہے یہاں بھینس بڑی ہے
آ کے بزم شعر میں شرط وفا پوری تو کر جتنا کھانا کھا گیا ہے اتنی مزدوری تو کر
پوری دنیا میں حکومت جو زنانی ہوتی عالمی جنگ جو ہوتی تو زبانی ہوتی
ایک قیدی صبح کو پھانسی لگا کر مر گیا رات بھر غزلیں سنائیں اس کو تھانے دار نے
واعظ نے مجھ میں دیکھی ہے ایمان کی کمی واعظ میں صرف دم کی کسر دیکھتا ہوں میں
ہمارے لال کو درکار ہے وہی لڑکی کہ جس کا باپ پولس میں ہو کم سے کم ڈپٹی
کوٹ اور پتلون جب پہنا تو مسٹر بن گیا جب کوئی تقریر کی جلسے میں لیڈر بن گیا
اور تو کچھ بھی نہیں حضرت ماچسؔ لیکن آپ میں آگ لگانے کا کمال اچھا ہے
وہ ان کا زمانہ تھا جہاں عقل بڑی تھی یہ میرا زمانہ ہے یہاں بھینس بڑی ہے
پروفیسر یہ اردو کے جو اردو سے کماتے ہیں اسی پیسے سے بچوں کو یہ انگریزی پڑھاتے ہیں
نرس کو دیکھ کے آ جاتی ہے منہ پہ رونق وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
علم حاصل کر کے بھی ملتی نہیں ہے نوکری رحم کے قابل ہے بس حالت ہماری ان دنوں
پہلے ہم کو بہن کہا اب فکر ہمیں سے شادی کی یہ بھی نہ سوچا بہن سے شادی کر کے کیا کہلائیں گے
چہرے تو جھریوں سے بھرے دل جوان ہیں دن میں ہیں شیخ رات میں سلمان خان ہیں
کلام میر سمجھے اور زبان میرزا سمجھے مگر ان کا کہا یا آپ سمجھیں یا خدا سمجھے
وہاں جو لوگ اناڑی ہیں وقت کاٹتے ہیں یہاں بھی کچھ متشاعر دماغ چاٹتے ہیں
جو چاہتا ہے کہ بن جائے وہ بڑا شاعر وہ جا کے دوستی گانٹھے کسی مدیر کے ساتھ
درگت بنے ہے چائے میں بسکٹ کی جس طرح شادی کے بعد لوگو وہی میرا حال ہے
ہم مانتے ہیں آپ بڑے غم گسار ہیں لیکن یہ آستین میں کیا ہے دکھائیے
پتہ ہوتا تو نہ کرتا کبھی کوئی نیکی تمہیں جنت میں ملو گی مجھے معلوم نہ تھا
ایک قیدی صبح کو پھانسی لگا کر مر گیا رات بھر غزلیں سنائیں اس کو تھانے دار نے
داڑھی کا نام لے کے ہمیں کیوں ہو ٹوکتی داڑھی کوئی بریک ہے جو سائیکل کو روکتی
واعظ نے مجھ میں دیکھی ہے ایمان کی کمی واعظ میں صرف دم کی کسر دیکھتا ہوں میں
ہمارے لال کو درکار ہے وہی لڑکی کہ جس کا باپ پولس میں ہو کم سے کم ڈپٹی
ابھی تو حضرت واعظ مذمت مے کی کرتے ہیں اگر مے خانے میں ان کا گزر ہوگا تو کیا ہوگا
نام کے ساتھ ایک دو الفاظ کی دم چاہیئے شعر پھیکا ہی سہی لیکن ترنم چاہیئے
Explore Similar Collections
Tanz-o-Mizah FAQs
Tanz-o-Mizah collection me kya milega?
Tanz-o-Mizah se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.