جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دن بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے
Poetry Collection
Tasawwur
Imagination is the source of all our perceptions but imagination bears fruits in many more ways than we may usually perceive. Poets imagine more than we do and they use their imagination more creatively than us. That is how we need to look at these verses that unveil the magic of imagination and leave us stunned.
Total
67
Sher
44
Ghazal
23
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
دنیائے تصور ہم آباد نہیں کرتے یاد آتے ہو تم خود ہی ہم یاد نہیں کرتے
ان کا غم ان کا تصور ان کی یاد کٹ رہی ہے زندگی آرام سے
ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تو دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو
جانے کیوں اک خیال سا آیا میں نہ ہوں گا تو کیا کمی ہوگی
ان کا غم ان کا تصور ان کے شکوے اب کہاں اب تو یہ باتیں بھی اے دل ہو گئیں آئی گئی
پھر نظر میں پھول مہکے دل میں پھر شمعیں جلیں پھر تصور نے لیا اس بزم میں جانے کا نام
تیرے خیال کے دیوار و در بناتے ہیں ہم اپنے گھر میں بھی تیرا ہی گھر بناتے ہیں
تصور میں بھی اب وہ بے نقاب آتے نہیں مجھ تک قیامت آ چکی ہے لوگ کہتے ہیں شباب آیا
تصور زلف کا ہے اور میں ہوں بلا کا سامنا ہے اور میں ہوں
میرے پہلو میں تم آؤ یہ کہاں میرے نصیب یہ بھی کیا کم ہے تصور میں تو آ جاتے ہو
چاہیئے اس کا تصور ہی سے نقشہ کھینچنا دیکھ کر تصویر کو تصویر پھر کھینچی تو کیا
ہم ہیں اس کے خیال کی تصویر جس کی تصویر ہے خیال اپنا
کھل نہیں سکتی ہیں اب آنکھیں مری جی میں یہ کس کا تصور آ گیا
لب خیال سے اس لب کا جو لیا بوسہ تو منہ ہی منہ میں عجب طرح کا مزا آیا
یاد میں خواب میں تصور میں آ کہ آنے کے ہیں ہزار طریق
محو ہوں اس قدر تصور میں شک یہ ہوتا ہے میں ہوں یا تو ہے
ہیں تصور میں اس کے آنکھیں بند لوگ جانیں ہیں خواب کرتا ہوں
پوری ہوتی ہیں تصور میں امیدیں کیا کیا دل میں سب کچھ ہے مگر پیش نظر کچھ بھی نہیں
رات بھر ان کا تصور دل کو تڑپاتا رہا ایک نقشہ سامنے آتا رہا جاتا رہا
جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دن بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے
دنیائے تصور ہم آباد نہیں کرتے یاد آتے ہو تم خود ہی ہم یاد نہیں کرتے
ان کا غم ان کا تصور ان کی یاد کٹ رہی ہے زندگی آرام سے
ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تو دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو
جانے کیوں اک خیال سا آیا میں نہ ہوں گا تو کیا کمی ہوگی
ان کا غم ان کا تصور ان کے شکوے اب کہاں اب تو یہ باتیں بھی اے دل ہو گئیں آئی گئی
پھر نظر میں پھول مہکے دل میں پھر شمعیں جلیں پھر تصور نے لیا اس بزم میں جانے کا نام
تیرے خیال کے دیوار و در بناتے ہیں ہم اپنے گھر میں بھی تیرا ہی گھر بناتے ہیں
تصور میں بھی اب وہ بے نقاب آتے نہیں مجھ تک قیامت آ چکی ہے لوگ کہتے ہیں شباب آیا
تصور زلف کا ہے اور میں ہوں بلا کا سامنا ہے اور میں ہوں
میرے پہلو میں تم آؤ یہ کہاں میرے نصیب یہ بھی کیا کم ہے تصور میں تو آ جاتے ہو
چاہیئے اس کا تصور ہی سے نقشہ کھینچنا دیکھ کر تصویر کو تصویر پھر کھینچی تو کیا
ہم ہیں اس کے خیال کی تصویر جس کی تصویر ہے خیال اپنا
کھل نہیں سکتی ہیں اب آنکھیں مری جی میں یہ کس کا تصور آ گیا
پوری ہوتی ہیں تصور میں امیدیں کیا کیا دل میں سب کچھ ہے مگر پیش نظر کچھ بھی نہیں
رات بھر ان کا تصور دل کو تڑپاتا رہا ایک نقشہ سامنے آتا رہا جاتا رہا
یاد میں خواب میں تصور میں آ کہ آنے کے ہیں ہزار طریق
بچھڑ کر اس سے سیکھا ہے تصور کو بدن کرنا اکیلے میں اسے چھونا اکیلے میں سخن کرنا
ہیں تصور میں اس کے آنکھیں بند لوگ جانیں ہیں خواب کرتا ہوں
میں اک تھکا ہوا انسان اور کیا کرتا طرح طرح کے تصور خدا سے باندھ لیے
Explore Similar Collections
Tasawwur FAQs
Tasawwur collection me kya milega?
Tasawwur se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.