تیری صورت سے کسی کی نہیں ملتی صورت ہم جہاں میں تری تصویر لیے پھرتے ہیں
Poetry Collection
Tasweer
Apart from live images, pictures too are a subject of poetry. Pictures represent images but these images are static and do not act or speak. Even in silence they are preserved just for the love of it as they evoke memories and are held close to heart as a precious gift captured in a moment of the past.
Total
51
Sher
50
Ghazal
1
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
آپ نے تصویر بھیجی میں نے دیکھی غور سے ہر ادا اچھی خموشی کی ادا اچھی نہیں
اپنے جیسی کوئی تصویر بنانی تھی مجھے مرے اندر سے سبھی رنگ تمہارے نکلے
زندگی بھر کے لیے روٹھ کے جانے والے میں ابھی تک تری تصویر لیے بیٹھا ہوں
رنگ خوشبو اور موسم کا بہانا ہو گیا اپنی ہی تصویر میں چہرہ پرانا ہو گیا
ایک کمی تھی تاج محل میں میں نے تری تصویر لگا دی
جو چپ چاپ رہتی تھی دیوار پر وہ تصویر باتیں بنانے لگی
اک بار تجھے عقل نے چاہا تھا بھلانا سو بار جنوں نے تری تصویر دکھا دی
اس شعر میں وارداتِ عشق کو عقل اور جنوں کے پیمانوں میں تولنے کا پہلو بہت دلچسپ ہے۔ عشق کے معاملے میں عقل اور جنوں کی کشمکش ازلی ہے۔ جہاں عقل عشق کو انسانی حیات کے لئے ایک وجہِ زیاں مانتی ہے وہیں جنوں عشق کو انسانی حیات کا لبِ لباب مانتی ہے۔ اور اگر عشق میں جنوں پر عقل غالب آگئی تو عشق عشق نہیں رہتا ۔ کیونکہ عشق کی اولین شرط جنوں ہے۔ اور جنوں کی آماجگاہ دل ہے۔ اس لئے اگر عاشق دل کے بجائے عقل کی سنے تو وہ اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔ شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ میں اپنے محبوب کے عشق میں اس قدر مجنوں ہوگیا ہوں کہ اسے بھلانے کے لئے عقل نے ایک بار ٹھان لی تھی مگر میرے جنونِ عشق نے مجھے سو بار اپنے محبوب کی تصویر دکھا دی۔ ’تصویر دکھا‘ بھی خوب ہے۔ کیونکہ جنوں کی کیفیت میں انسان ایک ایسی کیفیت سے دوچار ہوجاتا ہے جب اس کی آنکھوں کے سامنے کچھ چیزیں دکھائی دیتی ہیں جو اگر چہ وہاں موجود نہیں ہوتی ہیں مگر اس نوع کے جنوں میں مبتلا انسان انہیں حقیقت سمجھتا ہے۔ شعر اپنی کیفیت کے اعتبار سے بہت دلچسپ ہے۔ شفق سوپوری
میں نے تو یونہی راکھ میں پھیری تھیں انگلیاں دیکھا جو غور سے تری تصویر بن گئی
بھیج دی تصویر اپنی ان کو یہ لکھ کر شکیلؔ آپ کی مرضی ہے چاہے جس نظر سے دیکھیے
کچھ تو اس دل کو سزا دی جائے اس کی تصویر ہٹا دی جائے
میں نے بھی دیکھنے کی حد کر دی وہ بھی تصویر سے نکل آیا
جس سے یہ طبیعت بڑی مشکل سے لگی تھی دیکھا تو وہ تصویر ہر اک دل سے لگی تھی
مدتوں بعد اٹھائے تھے پرانے کاغذ ساتھ تیرے مری تصویر نکل آئی ہے
رنگ درکار تھے ہم کو تری خاموشی کے ایک آواز کی تصویر بنانی تھی ہمیں
سوچتا ہوں تری تصویر دکھا دوں اس کو روشنی نے کبھی سایہ نہیں دیکھا اپنا
مجھے یہ زعم کہ میں حسن کا مصور ہوں انہیں یہ ناز کہ تصویر تو ہماری ہے
میں لاکھ اسے تازہ رکھوں دل کے لہو سے لیکن تری تصویر خیالی ہی رہے گی
کوئی تصویر مکمل نہیں ہونے پاتی دھوپ دیتے ہیں تو سایا نہیں رہنے دیتے
چاہیئے اس کا تصور ہی سے نقشہ کھینچنا دیکھ کر تصویر کو تصویر پھر کھینچی تو کیا
تیری صورت سے کسی کی نہیں ملتی صورت ہم جہاں میں تری تصویر لیے پھرتے ہیں
آپ نے تصویر بھیجی میں نے دیکھی غور سے ہر ادا اچھی خموشی کی ادا اچھی نہیں
اپنے جیسی کوئی تصویر بنانی تھی مجھے مرے اندر سے سبھی رنگ تمہارے نکلے
زندگی بھر کے لیے روٹھ کے جانے والے میں ابھی تک تری تصویر لیے بیٹھا ہوں
رنگ خوشبو اور موسم کا بہانا ہو گیا اپنی ہی تصویر میں چہرہ پرانا ہو گیا
ایک کمی تھی تاج محل میں میں نے تری تصویر لگا دی
جو چپ چاپ رہتی تھی دیوار پر وہ تصویر باتیں بنانے لگی
اک بار تجھے عقل نے چاہا تھا بھلانا سو بار جنوں نے تری تصویر دکھا دی
اس شعر میں وارداتِ عشق کو عقل اور جنوں کے پیمانوں میں تولنے کا پہلو بہت دلچسپ ہے۔ عشق کے معاملے میں عقل اور جنوں کی کشمکش ازلی ہے۔ جہاں عقل عشق کو انسانی حیات کے لئے ایک وجہِ زیاں مانتی ہے وہیں جنوں عشق کو انسانی حیات کا لبِ لباب مانتی ہے۔ اور اگر عشق میں جنوں پر عقل غالب آگئی تو عشق عشق نہیں رہتا ۔ کیونکہ عشق کی اولین شرط جنوں ہے۔ اور جنوں کی آماجگاہ دل ہے۔ اس لئے اگر عاشق دل کے بجائے عقل کی سنے تو وہ اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔ شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ میں اپنے محبوب کے عشق میں اس قدر مجنوں ہوگیا ہوں کہ اسے بھلانے کے لئے عقل نے ایک بار ٹھان لی تھی مگر میرے جنونِ عشق نے مجھے سو بار اپنے محبوب کی تصویر دکھا دی۔ ’تصویر دکھا‘ بھی خوب ہے۔ کیونکہ جنوں کی کیفیت میں انسان ایک ایسی کیفیت سے دوچار ہوجاتا ہے جب اس کی آنکھوں کے سامنے کچھ چیزیں دکھائی دیتی ہیں جو اگر چہ وہاں موجود نہیں ہوتی ہیں مگر اس نوع کے جنوں میں مبتلا انسان انہیں حقیقت سمجھتا ہے۔ شعر اپنی کیفیت کے اعتبار سے بہت دلچسپ ہے۔ شفق سوپوری
میں نے تو یونہی راکھ میں پھیری تھیں انگلیاں دیکھا جو غور سے تری تصویر بن گئی
بھیج دی تصویر اپنی ان کو یہ لکھ کر شکیلؔ آپ کی مرضی ہے چاہے جس نظر سے دیکھیے
کچھ تو اس دل کو سزا دی جائے اس کی تصویر ہٹا دی جائے
میں نے بھی دیکھنے کی حد کر دی وہ بھی تصویر سے نکل آیا
جس سے یہ طبیعت بڑی مشکل سے لگی تھی دیکھا تو وہ تصویر ہر اک دل سے لگی تھی
مدتوں بعد اٹھائے تھے پرانے کاغذ ساتھ تیرے مری تصویر نکل آئی ہے
رنگ درکار تھے ہم کو تری خاموشی کے ایک آواز کی تصویر بنانی تھی ہمیں
سوچتا ہوں تری تصویر دکھا دوں اس کو روشنی نے کبھی سایہ نہیں دیکھا اپنا
مجھے یہ زعم کہ میں حسن کا مصور ہوں انہیں یہ ناز کہ تصویر تو ہماری ہے
میں لاکھ اسے تازہ رکھوں دل کے لہو سے لیکن تری تصویر خیالی ہی رہے گی
کوئی تصویر مکمل نہیں ہونے پاتی دھوپ دیتے ہیں تو سایا نہیں رہنے دیتے
چاہیئے اس کا تصور ہی سے نقشہ کھینچنا دیکھ کر تصویر کو تصویر پھر کھینچی تو کیا
Explore Similar Collections
Tasweer FAQs
Tasweer collection me kya milega?
Tasweer se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.