Poetry Collection

Tauba

We take vows many times and many times we break our vows. There are several things that are simply irresistible like sin—be it small or big. Sin is sweet which makes us commit it again and again and abstain from the same yet again. Here is a selection that visits the idea and practice of abstinence and vows-breaking from various angles. You may like to read and enjoy this selection.

Total

30

Sher

30

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

شب کو مے خوب سی پی صبح کو توبہ کر لی رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی

ان کے رخسار پہ ڈھلکے ہوئے آنسو توبہ میں نے شبنم کو بھی شعلوں پہ مچلتے دیکھا

گزرے ہیں میکدے سے جو توبہ کے بعد ہم کچھ دور عادتاً بھی قدم ڈگمگائے ہیں

وہ کون ہیں جنہیں توبہ کی مل گئی فرصت ہمیں گناہ بھی کرنے کو زندگی کم ہے

شرکت گناہ میں بھی رہے کچھ ثواب کی توبہ کے ساتھ توڑیئے بوتل شراب کی

مری شراب کی توبہ پہ جا نہ اے واعظ نشے کی بات نہیں اعتبار کے قابل

مجھے توبہ کا پورا اجر ملتا ہے اسی ساعت کوئی زہرہ جبیں پینے پہ جب مجبور کرتا ہے

توبہ کھڑی ہے در پہ جو فریاد کے لئے یہ مے کدہ بھی کیا کسی قاضی کا گھر ہوا

شکست توبہ کی تمہید ہے تری توبہ زباں پہ توبہ مبارکؔ نگاہ ساغر پر

ترک محبت توبہ توبہ یہ میرا ایمان نہیں ہے

~ Vishnu Kumar Shauq

پینے سے کر چکا تھا میں توبہ مگر جلیلؔ بادل کا رنگ دیکھ کے نیت بدل گئی

کھنک جاتے ہیں جب ساغر تو پہروں کان بجتے ہیں ارے توبہ بڑی توبہ شکن آواز ہوتی ہے

اے شیخ مرتے مرتے بچے ہیں پیے بغیر عاصی ہوں اب جو توبہ کریں مے کشی سے ہم

ساقیا دل میں جو توبہ کا خیال آتا ہے دور سے آنکھ دکھاتا ہے ترا جام مجھے

دختر رز نے دیے چھینٹے کچھ ایسے ساقیا پانی پانی ہو گئی توبہ ہر اک مے خوار کی

شب کو مے خوب سی پی صبح کو توبہ کر لی رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی

ان کے رخسار پہ ڈھلکے ہوئے آنسو توبہ میں نے شبنم کو بھی شعلوں پہ مچلتے دیکھا

گزرے ہیں میکدے سے جو توبہ کے بعد ہم کچھ دور عادتاً بھی قدم ڈگمگائے ہیں

وہ کون ہیں جنہیں توبہ کی مل گئی فرصت ہمیں گناہ بھی کرنے کو زندگی کم ہے

شرکت گناہ میں بھی رہے کچھ ثواب کی توبہ کے ساتھ توڑیئے بوتل شراب کی

پینے سے کر چکا تھا میں توبہ مگر جلیلؔ بادل کا رنگ دیکھ کے نیت بدل گئی

ہم نے برسات کے موسم میں جو چاہی توبہ ابر اس زور سے گرجا کہ الٰہی توبہ

کھنک جاتے ہیں جب ساغر تو پہروں کان بجتے ہیں ارے توبہ بڑی توبہ شکن آواز ہوتی ہے

اے شیخ مرتے مرتے بچے ہیں پیے بغیر عاصی ہوں اب جو توبہ کریں مے کشی سے ہم

فتویٰ دیا ہے مفتیٔ ابر بہار نے توبہ کا خون بادہ کشوں کو حلال ہے

شکست توبہ کی تمہید ہے تری توبہ زباں پہ توبہ مبارکؔ نگاہ ساغر پر

ہماری کشتیٔ توبہ کا یہ ہوا انجام بہار آتے ہی غرق شراب ہو کے رہی

دختر رز نے دیے چھینٹے کچھ ایسے ساقیا پانی پانی ہو گئی توبہ ہر اک مے خوار کی

You have reached the end.

Explore Similar Collections

Tauba FAQs

Tauba collection me kya milega?

Tauba se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.