ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
Poetry Collection
Tribute
Noble people don’t ever die. They may get a release from their body but their memories stay back. Here are some verses written to pay respect to the departed ones who are remembered for their good deeds. These verses show reverence for the dead and also underscore the significance of virtue which qualifies a human being to be a human being.
Total
27
Sher
24
Ghazal
3
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا
رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی
کہانی ختم ہوئی اور ایسی ختم ہوئی کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے
موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لیے
جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے وہ لوگ آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں
جانے والے کبھی نہیں آتے جانے والوں کی یاد آتی ہے
تیری محفل سے جو نکلا تو یہ منظر دیکھا مجھے لوگوں نے بلایا مجھے چھو کر دیکھا
ایک روشن دماغ تھا نہ رہا شہر میں اک چراغ تھا نہ رہا
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
اب نہیں لوٹ کے آنے والا گھر کھلا چھوڑ کے جانے والا
کل اس کی آنکھ نے کیا زندہ گفتگو کی تھی گمان تک نہ ہوا وہ بچھڑنے والا ہے
وے صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیں اب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں
جنہیں اب گردش افلاک پیدا کر نہیں سکتی کچھ ایسی ہستیاں بھی دفن ہیں گور غریباں میں
تمہاری موت نے مارا ہے جیتے جی ہم کو ہماری جان بھی گویا تمہاری جان میں تھی
وہ کیا گیا کہ ہر اک شخص رہ گیا تنہا اسی کے دم سے تھیں باہم رفاقتیں ساری
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا
رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی
کہانی ختم ہوئی اور ایسی ختم ہوئی کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے
موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لیے
جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے وہ لوگ آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں
جانے والے کبھی نہیں آتے جانے والوں کی یاد آتی ہے
تیری محفل سے جو نکلا تو یہ منظر دیکھا مجھے لوگوں نے بلایا مجھے چھو کر دیکھا
ایک روشن دماغ تھا نہ رہا شہر میں اک چراغ تھا نہ رہا
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
اب نہیں لوٹ کے آنے والا گھر کھلا چھوڑ کے جانے والا
کل اس کی آنکھ نے کیا زندہ گفتگو کی تھی گمان تک نہ ہوا وہ بچھڑنے والا ہے
وے صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیں اب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں
جنہیں اب گردش افلاک پیدا کر نہیں سکتی کچھ ایسی ہستیاں بھی دفن ہیں گور غریباں میں
تمہاری موت نے مارا ہے جیتے جی ہم کو ہماری جان بھی گویا تمہاری جان میں تھی
وہ کیا گیا کہ ہر اک شخص رہ گیا تنہا اسی کے دم سے تھیں باہم رفاقتیں ساری
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Tribute FAQs
Tribute collection me kya milega?
Tribute se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.