ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
Poetry Collection
Wada
Human beings can be distinguished on account of the skills they have. Everyone has one skill or the other which may be perfected with care and practice. This ultimately becomes the hallmark of one’s personality. Here are some verses that would help you see human skill, art, and craftsmanship in multiple ways.
Total
50
Sher
50
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
وفا کریں گے نباہیں گے بات مانیں گے تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا
ترے وعدوں پہ کہاں تک مرا دل فریب کھائے کوئی ایسا کر بہانہ مری آس ٹوٹ جائے
عادتاً تم نے کر دیے وعدے عادتاً ہم نے اعتبار کیا
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
اب تم کبھی نہ آؤ گے یعنی کبھی کبھی رخصت کرو مجھے کوئی وعدہ کیے بغیر
ایک اک بات میں سچائی ہے اس کی لیکن اپنے وعدوں سے مکر جانے کو جی چاہتا ہے
ثبوت ہے یہ محبت کی سادہ لوحی کا جب اس نے وعدہ کیا ہم نے اعتبار کیا
ایک مدت سے نہ قاصد ہے نہ خط ہے نہ پیام اپنے وعدے کو تو کر یاد مجھے یاد نہ کر
امید تو بندھ جاتی تسکین تو ہو جاتی وعدہ نہ وفا کرتے وعدہ تو کیا ہوتا
تیرے وعدے کو کبھی جھوٹ نہیں سمجھوں گا آج کی رات بھی دروازہ کھلا رکھوں گا
کس منہ سے کہہ رہے ہو ہمیں کچھ غرض نہیں کس منہ سے تم نے وعدہ کیا تھا نباہ کا
میں اس کے وعدے کا اب بھی یقین کرتا ہوں ہزار بار جسے آزما لیا میں نے
تھا وعدہ شام کا مگر آئے وہ رات کو میں بھی کواڑ کھولنے فوراً نہیں گیا
اور کچھ دیر ستارو ٹھہرو اس کا وعدہ ہے ضرور آئے گا
پھر چاہے تو نہ آنا او آن بان والے جھوٹا ہی وعدہ کر لے سچی زبان والے
ہم کو ان سے وفا کی ہے امید جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا تمام رات قیامت کا انتظار کیا
خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا جھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا
میں بھی حیران ہوں اے داغؔ کہ یہ بات ہے کیا وعدہ وہ کرتے ہیں آتا ہے تبسم مجھ کو
ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
ہم کو ان سے وفا کی ہے امید جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
نہ کوئی وعدہ نہ کوئی یقیں نہ کوئی امید مگر ہمیں تو ترا انتظار کرنا تھا
ترے وعدوں پہ کہاں تک مرا دل فریب کھائے کوئی ایسا کر بہانہ مری آس ٹوٹ جائے
غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا تمام رات قیامت کا انتظار کیا
تیری مجبوریاں درست مگر تو نے وعدہ کیا تھا یاد تو کر
اب تم کبھی نہ آؤ گے یعنی کبھی کبھی رخصت کرو مجھے کوئی وعدہ کیے بغیر
کیوں پشیماں ہو اگر وعدہ وفا ہو نہ سکا کہیں وعدے بھی نبھانے کے لئے ہوتے ہیں
دن گزارا تھا بڑی مشکل سے پھر ترا وعدۂ شب یاد آیا
خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا جھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا
صاف انکار اگر ہو تو تسلی ہو جائے جھوٹے وعدوں سے ترے رنج سوا ہوتا ہے
ایک مدت سے نہ قاصد ہے نہ خط ہے نہ پیام اپنے وعدے کو تو کر یاد مجھے یاد نہ کر
وہ امید کیا جس کی ہو انتہا وہ وعدہ نہیں جو وفا ہو گیا
تیرے وعدے کو کبھی جھوٹ نہیں سمجھوں گا آج کی رات بھی دروازہ کھلا رکھوں گا
پھر بیٹھے بیٹھے وعدۂ وصل اس نے کر لیا پھر اٹھ کھڑا ہوا وہی روگ انتظار کا
میں بھی حیران ہوں اے داغؔ کہ یہ بات ہے کیا وعدہ وہ کرتے ہیں آتا ہے تبسم مجھ کو
تھا وعدہ شام کا مگر آئے وہ رات کو میں بھی کواڑ کھولنے فوراً نہیں گیا
وعدہ نہیں پیام نہیں گفتگو نہیں حیرت ہے اے خدا مجھے کیوں انتظار ہے
پھر چاہے تو نہ آنا او آن بان والے جھوٹا ہی وعدہ کر لے سچی زبان والے
آپ تو منہ پھیر کر کہتے ہیں آنے کے لیے وصل کا وعدہ ذرا آنکھیں ملا کر کیجیے
Explore Similar Collections
Wada FAQs
Wada collection me kya milega?
Wada se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.