Poetry Collection

Wahshat

A lover is also known for acting wild. These verses represent that state of the lover. You would be amazed to discover what this lover does at the extreme end of his wildness. Equally interesting would be to see how he moves out and reaches wilderness to express himself unabashedly.

Total

58

Sher

45

Ghazal

13

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی میری وحشت تری شہرت ہی سہی

گھر کی وحشت سے لرزتا ہوں مگر جانے کیوں شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے

بچپن میں ہم ہی تھے یا تھا اور کوئی وحشت سی ہونے لگتی ہے یادوں سے

ایسے ڈرے ہوئے ہیں زمانے کی چال سے گھر میں بھی پاؤں رکھتے ہیں ہم تو سنبھال کر

کچھ بے ٹھکانہ کرتی رہیں ہجرتیں مدام کچھ میری وحشتوں نے مجھے در بدر کیا

اپنے ہم راہ جو آتے ہو ادھر سے پہلے دشت پڑتا ہے میاں عشق میں گھر سے پہلے

پھر وہی لمبی دوپہریں ہیں پھر وہی دل کی حالت ہے باہر کتنا سناٹا ہے اندر کتنی وحشت ہے

سودائے عشق اور ہے وحشت کچھ اور شے مجنوں کا کوئی دوست فسانہ نگار تھا

وہ کام رہ کے کرنا پڑا شہر میں ہمیں مجنوں کو جس کے واسطے ویرانہ چاہیے

بستی بستی پربت پربت وحشت کی ہے دھوپ ضیاؔ چاروں جانب ویرانی ہے دل کا اک ویرانہ کیا

ہو سکے کیا اپنی وحشت کا علاج میرے کوچے میں بھی صحرا چاہئے

وحشت کا یہ عالم کہ پس چاک گریباں رنجش ہے بہاروں سے الجھتے ہیں خزاں سے

عشق پر فائز ہوں اوروں کی طرح لیکن مجھے وصل کا لپکا نہیں ہے ہجر سے وحشت نہیں

ان دنوں اپنی بھی وحشت کا عجب عالم ہے گھر میں ہم دشت و بیابان اٹھا لائے ہیں

اندھیرے کمرے میں رقص کرتی رہے گی وحشت اور ایک کونے میں پارسائی پڑی رہے گی

دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو کوئی تو ہو جو مری وحشتوں کا ساتھی ہو

مجنوں سے یہ کہنا کہ مرے شہر میں آ جائے وحشت کے لیے ایک بیابان ابھی ہے

عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی میری وحشت تری شہرت ہی سہی

گھر کی وحشت سے لرزتا ہوں مگر جانے کیوں شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے

بچپن میں ہم ہی تھے یا تھا اور کوئی وحشت سی ہونے لگتی ہے یادوں سے

ایسے ڈرے ہوئے ہیں زمانے کی چال سے گھر میں بھی پاؤں رکھتے ہیں ہم تو سنبھال کر

کچھ بے ٹھکانہ کرتی رہیں ہجرتیں مدام کچھ میری وحشتوں نے مجھے در بدر کیا

اپنے ہم راہ جو آتے ہو ادھر سے پہلے دشت پڑتا ہے میاں عشق میں گھر سے پہلے

دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو کوئی تو ہو جو مری وحشتوں کا ساتھی ہو

پھر وہی لمبی دوپہریں ہیں پھر وہی دل کی حالت ہے باہر کتنا سناٹا ہے اندر کتنی وحشت ہے

وہ جو اک شرط تھی وحشت کی اٹھا دی گئی کیا میری بستی کسی صحرا میں بسا دی گئی کیا

وہ کام رہ کے کرنا پڑا شہر میں ہمیں مجنوں کو جس کے واسطے ویرانہ چاہیے

وحشتیں کچھ اس طرح اپنا مقدر بن گئیں ہم جہاں پہنچے ہمارے ساتھ ویرانے گئے

وہ جس کے نام کی نسبت سے روشنی تھا وجود کھٹک رہا ہے وہی آفتاب آنکھوں میں

ہو سکے کیا اپنی وحشت کا علاج میرے کوچے میں بھی صحرا چاہئے

ہوتی ہے تیرے نام سے وحشت کبھی کبھی برہم ہوئی ہے یوں بھی طبیعت کبھی کبھی

عشق پر فائز ہوں اوروں کی طرح لیکن مجھے وصل کا لپکا نہیں ہے ہجر سے وحشت نہیں

مجنوں سے یہ کہنا کہ مرے شہر میں آ جائے وحشت کے لیے ایک بیابان ابھی ہے

ان دنوں اپنی بھی وحشت کا عجب عالم ہے گھر میں ہم دشت و بیابان اٹھا لائے ہیں

اندھیرے کمرے میں رقص کرتی رہے گی وحشت اور ایک کونے میں پارسائی پڑی رہے گی

Explore Similar Collections

Wahshat FAQs

Wahshat collection me kya milega?

Wahshat se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.