Poetry Collection

Waiz

Sermoniser is an important institution/character of classical Urdu poetry. We come across him along with other such institutions/characters like a drunkard, lover, and beloved. He preaches for maintaining honesty and purity and speaks against drinking wine and indulging in sensual activities. Interestingly, he himself falls a prey to follies that he preaches against. This is why a sermoniser becomes an object of satire, as well as of laughter in poetry. Here are some interesting couplets that bring this character alive to you.

Total

35

Sher

33

Ghazal

2

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

کہاں مے خانہ کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظ پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے

ذوقؔ جو مدرسے کے بگڑے ہوئے ہیں ملا ان کو مے خانے میں لے آؤ سنور جائیں گے

کدھر سے برق چمکتی ہے دیکھیں اے واعظ میں اپنا جام اٹھاتا ہوں تو کتاب اٹھا

جوانی کو بچا سکتے تو ہیں ہر داغ سے واعظ مگر ایسی جوانی کو جوانی کون کہتا ہے

تیری مسجد میں واعظ خاص ہیں اوقات رحمت کے ہمارے مے کدے میں رات دن رحمت برستی ہے

کہتے ہیں جس کو جنت وہ اک جھلک ہے تیری سب واعظوں کی باقی رنگیں بیانیاں ہیں

منہ میں واعظ کے بھی بھر آتا ہے پانی اکثر جب کبھی تذکرۂ جام شراب آتا ہے

صنم پرستی کروں ترک کیوں کر اے واعظ بتوں کا ذکر خدا کی کتاب میں دیکھا

واعظ مے طہور جو پینا ہے خلد میں عادت ابھی سے ڈال رہا ہوں شراب کی

مجھے کافر ہی بتاتا ہے یہ واعظ کمبخت میں نے بندوں میں کئی بار خدا کو دیکھا

کوئی علاج غم زندگی بتا واعظ سنے ہوئے جو فسانے ہیں پھر سنا نہ مجھے

شیخ حرم کا ذکر نہیں ہے مرے ندیم پیر مغاں کے کشف و کرامت کی بات ہے

~ Talib Dehlavi

پئیں ساقی کے ہاتھوں سے مئے الفت پئیں جب بھی مرے ناصح بس اتنی پارسائی چاہتے ہیں ہم

صداقت ہو تو دل سینوں سے کھنچنے لگتے ہیں واعظ حقیقت خود کو منوا لیتی ہے مانی نہیں جاتی

واعظ نہ تم پیو نہ کسی کو پلا سکو کیا بات ہے تمہاری شراب طہور کی

اپنی جنت مجھے دکھلا نہ سکا تو واعظ کوچۂ یار میں چل دیکھ لے جنت میری

نہ واعظ ہجو کر ایک دن دنیا سے جانا ہے ارے منہ ساقی کوثر کو بھی آخر دکھانا ہے

کہاں مے خانہ کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظ پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے

ذوقؔ جو مدرسے کے بگڑے ہوئے ہیں ملا ان کو مے خانے میں لے آؤ سنور جائیں گے

کدھر سے برق چمکتی ہے دیکھیں اے واعظ میں اپنا جام اٹھاتا ہوں تو کتاب اٹھا

صداقت ہو تو دل سینوں سے کھنچنے لگتے ہیں واعظ حقیقت خود کو منوا لیتی ہے مانی نہیں جاتی

جوانی کو بچا سکتے تو ہیں ہر داغ سے واعظ مگر ایسی جوانی کو جوانی کون کہتا ہے

پی شوق سے واعظ ارے کیا بات ہے ڈر کی دوزخ ترے قبضے میں ہے جنت ترے گھر کی

اپنی جنت مجھے دکھلا نہ سکا تو واعظ کوچۂ یار میں چل دیکھ لے جنت میری

تیری مسجد میں واعظ خاص ہیں اوقات رحمت کے ہمارے مے کدے میں رات دن رحمت برستی ہے

مری شراب کی توبہ پہ جا نہ اے واعظ نشے کی بات نہیں اعتبار کے قابل

منہ میں واعظ کے بھی بھر آتا ہے پانی اکثر جب کبھی تذکرۂ جام شراب آتا ہے

دھوکے سے پلا دی تھی اسے بھی کوئی دو گھونٹ پہلے سے بہت نرم ہے واعظ کی زباں اب

صنم پرستی کروں ترک کیوں کر اے واعظ بتوں کا ذکر خدا کی کتاب میں دیکھا

واعظ کی آنکھیں کھل گئیں پیتے ہی ساقیا یہ جام مے تھا یا کوئی دریائے نور تھا

نہ واعظ ہجو کر ایک دن دنیا سے جانا ہے ارے منہ ساقی کوثر کو بھی آخر دکھانا ہے

مجھے کافر ہی بتاتا ہے یہ واعظ کمبخت میں نے بندوں میں کئی بار خدا کو دیکھا

نیاز بے خودی بہتر نماز خود نمائی سیں نہ کر ہم پختہ مغزوں سیں خیال خام اے واعظ

کوئی علاج غم زندگی بتا واعظ سنے ہوئے جو فسانے ہیں پھر سنا نہ مجھے

شیخ حرم کا ذکر نہیں ہے مرے ندیم پیر مغاں کے کشف و کرامت کی بات ہے

~ Talib Dehlavi

پئیں ساقی کے ہاتھوں سے مئے الفت پئیں جب بھی مرے ناصح بس اتنی پارسائی چاہتے ہیں ہم

Explore Similar Collections

Waiz FAQs

Waiz collection me kya milega?

Waiz se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.